یکایک تیز بارش شروع ہوئی تو پکوڑوں کی یاد آئی
ہمارے یہاں روز پیشن گوئی ہوتی پر بارش نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔اللہ کرے باراں رحمت برسے ۔۔۔۔۔
ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر ڑ ز ژ س ش ص ض ط ظ ع غ ف ق ک گ ل م ن و ہ ھ ء ی ے۔۔۔۔
الٹی گنگا: ی ۔ ہ۔و کا کھیل
وہم کل رات ہمیں کے بارش ہوگی سارے کپڑے اٹھا لائے پر بارش کا کہئں نام ونشان نہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں ہوئی کل بارش تو آج ہو جائے گی
مشکل بڑھا دیتی ہے کراچی کی بارش—
لیکن پھر بھی ضروری ہے ۔۔۔۔۔۔
ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر ڑ ز ژ س ش ص ض ط ظ ع غ ف ق ک گ ل م ن و ہ ھ ء ی ے۔۔۔۔
الٹی گنگا: ی ۔ ہ۔و کا کھیل
گل سے پوچھتے ہیں
کہیں بارش کا نام نہیں تو کہیں سیلاب آ جاتا ہے، یہی تو دنیا کا چکر ہے۔ مصلحت اللہ میاں کو معلوم ہو گی
قوی بھی ہے وہ ذات اور دانا بھی، سب کی ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہے۔ نہ تو گرمی ہی ہمیشہ کے لیے ہے نہ سردی
فوج در فوج کا مطلب کوئی سمجھا دے۔
غور کیجئے!
‘فوج در فوج’ کا اصل مطلب تو شادی بیاہ کے کھانوں پر ٹوٹ پڑنے والے مہمانوں کی وہ لامتناہی قطار ہے، جو ایک پلیٹ ختم کرتے ہی دوسری ‘فوج در فوج’ حملے کے لیے تیار بیٹھی ہوتی ہے۔
ظالم زمانہ کیوں کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
طوطا چوری کھا ئے گا۔۔۔۔۔۔۔
ضرور پھر بھوک لگی ہوگی اسے۔
صبر نہیں کرتا طوطا چوری کھانے کے لئے شاید۔
شاید اسے معلوم نہیں کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔
سب کو معلوم ہوتا ہے تو طوطے کو کیوں نہیں
زندگی بھر شاید چوری ہی کھاتا رہا ہے۔ تبھی نہیں معلوم۔
ڑے پھر تو لازمی چَوری کی چُوری کھاتا رہا ہو گا
