@سیدعاطف_علی کے مشورے پہ یہ دھاگہ کھولا گیا ہے۔
گازینیا (Gazania)
جاسمن اگر اس میں مقامی نام اور معیاری اردو اور انگلش نام بھی شامل ہوتے جائیں تو اور سونے پہ سہاگا ہوتا جائے ۔
کیا خیال ہے ؟
پہلا والا سیٹ تو مجھے سورج مکھی لگ رہا ہے ۔
یہ سورج مکھی نہیں ہے، Gazania ہے۔
Rose Campion (Silene coronaria)
Cornflower (Centaurea cyanus)
قنطوریہ ازرق
اناج بوٹی کا پھول
نہیں۔ اربش! یہ سویٹ پیز ہیں۔
میں نے گوگل لینس میں دیکھا تو وہ آپ والا نام بتا رہا ہے۔ وہ غلط بتا رہا ہے۔
شکریہ، یاسمین آپا!
آپ درست کَہ رہی ہیں، ویسے تو سوئیٹ پیز اور Rose Campion کے پھول کی شکل میں واضح فرق ہے، مگر تصویر میں پھول واضح طور پر نظر نہیں آ رہا۔ البتہ سوئیٹ پیز چوں کہ بیل ہے، جب کہ Rose Campion کا تنا سیدھا ہوتا ہے، تو یقیناً آپ کی تصویر سوئیٹ پیز ہی کی ہے۔
Sweet pea
Rose Campion
سویٹ پیز بیل تو ہے اور اس کے ساتھ کانے لگانے پڑتے ہیں تاکہ یہ نیچے نہ گریں۔ کانوں کے بغیر یہ زمین پہ بچھ جاتے ہیں۔ ہمارے مالی صاحب کافی دن تک کانے نہیں لا سکے اور انہوں نے اپنی شاخیں سخت کر لیں۔ نتیجتاً زمین پہ جھاڑی کی طرح بِچھے رہے۔ البتہ عام بیلوں کی نسبت بہت چھوٹی ہوتی ہیں۔
لیموں کا پودا اور امرود کا پودا۔ اور اس گھونسلے کو پرندوں نے کئی بار رہائش کے لیے استعمال کر کے ہمیں شکریے کا موقع دیا ہے۔
لیموں کے پودے پہ ایک دو لیموں لگ چکے ہیں۔
خوبصورت تازگی۔۔۔
خوبصورت۔
اور یہ پرندے کون سے ہیں ؟
حق ہا! یہ وہی تیتر ہیں جن کا تذکرہ میں نے کیفیت ناموں میں کیا تھا۔ میرے نندوئی نے اپنی وفات سے پہلے ہمیں دیے تھے۔
مجھے دیکھتے ہی پورا خاندان اس طرح بھاگتا تھا جیسے دشمن دیکھ لیا ہو۔ والدین اور چار بچے۔
اور صاحب سے اتنے مانوس تھے کہ ان کی ہتھیلی پہ رکھا باجرہ کھاتے تھے۔
ہم نے ہجرت کی تو انھیں کبھی امی کے گھر، کبھی اپنی مددگار ہے گھر، کبھی دودھ والے کو دے کے جاتے تھے۔ پھر آخرکار دو بچے ایک رشتے دار کو اور باقی خاندان ایک دوسرے رشتے دار کو دے دیا۔
یہ تب کی تصویر ہے جب وہ ہمارے ساتھ تھے۔
مجھے بہت بہت یاد آتے ہیں اور میرا دل بے حد اداس ہو جاتا ہے۔ مجھے ان سے محبت ہو گئی تھی۔ معصوم ، بے ضرر، سیدھے سادے سے۔
پہلے پہل جب صاحب میری ذمہ داری لگاتے کہ آج میں نے انھیں پنجرے میں بند کرنا ہے تو گھنٹہ گھنٹہ ان کے پیچھے بھاگ بھاگ کے بے حال ہوتی۔ صاحب نے بتایا کہ بس پنجرے کا دروازہ کھول کے سامنے رکھ دیا کریں۔ شام کو خود ہی چلے جاتے ہیں اس میں۔
ایک دن ہم باہر سے آئے تو پنجرے کا دروازہ بند تھا۔ یہ چھے کے چھے سامنے برآمدے میں چارپائی پہ بیٹھے تھے۔ ہم پہلے گھر کے اندر گئے اور یہ باغیچے میں نکل گئے اور پھر پنجرے میں نہیں آئے۔ صبح جب دروازہ کھولا تو یہ سب دروازے سے جُڑ کر بیٹھے تھے۔
آپ خود بتائیں کہ اس قدر معصوم پرندوں کو بھلا کون بھول پائے گا!!!
ہم بالکل بھی انھیں دینا نہیں چاہتے تھے۔ لیکن مجبوری تھی۔
اڑا بھی نہیں سکتے کہ انھیں جانور کھا جائیں گے۔ سو دل پہ پتھر رکھ کے دیے ہیں۔
یہ ہمارے پسندیدہ پر ابھی ہمارے پہ پھول نہیں ہیں ۔۔۔۔