پطرس بخاری مرحوم کو کالج چھوڑنے کے کئی سال بعد یاد آیا کہ انہوں نے کالج کنٹین کے کھاتہ کی ادائیگی نہیں کی تھی۔ اب کچھ جسمانی و مالی فراغت میسر تھی تو سوچا بنفس نفیس کالج جا کر کھاتہ کلئیر کیا جائے اور یادیں بھی تازہ کی جائیں!
پطرس کالج گئے اور کنٹین مالک کو اپنا تعارف اور تعلیمی سال یاد کرواتے ہوئے کھاتہ رجسٹر کھلوایا تو ان کے ذمہ 12 روپے واجب الادا نکلے۔ بخاری صاحب نے بصد شکریہ و معذرت 12 روپے پیش کرنا چاہے تو کنٹین مالک نے تاریخی جملہ کہا :
“بخاری صاحب! آپ کا کیا خیال ہے کہ پچھلے 12 سال میں جو رائے میں نے آپکے بارے میں قائم کی ہے یہ 12 روپے لینے کے بعد وہ بدل جائیگی؟”
ایک بار پانی کی قلت سے مولانا عبدالمجید سالک بہت پریشان تھے۔ پطرس بخاری کو جب ان کی پریشانی کا علم ہوا تو وہ پانی کی کئی بالٹیاں کار میں رکھ کر مولانا کی کوٹھی پر لے گئے اور مولانا سے کہنے لگے: ’’دیکھئے حضور! آپ کو پانی پانی کرنے کے لیے حاضر ہوگیا ہوں۔‘‘
سالک صاحب نے فوراً جواب دیا: ’’پطرس صاحب، آپ تو کیا، یہاں بڑے بڑے پانی بھرتے نظر آتے ہیں۔‘‘
احسان دانش پہلے اپنا نام احسان بن دانش لکھا کرتے تھے۔ایک روز انہوں نے قاضی احسان احمد شجاع آبادی سے اپنا تعارف کروایا:’’مجھے احسان بن دانش کہتے ہیں۔‘‘
’’ہُوں تو میں بھی احسان مگر بن دانش نہیں‘‘قاضی صاحب نے جواب دیاتو اس کے بعد بھی احسان دانش نے احسان بن دانش نہ لکھا۔
اکبر الٰہ آبادی حالات حاضرہ پر اکثر منظوم تبصرہ کرتے تھے۔جب فرنگی محل کے اکثر علماء کانگریس میں شامل ہوگئے تو اس کا تذکرہ کسی نے اکبر الٰہ آبادی سے کرتے ہوئے بتایا کہ مولانا عبد الجبار فرنگی محلی بھی کانگریس کے ساتھ ہیں تو اکبر نے کہا:
باری میاں بھی حضرت گاندھی کے ساتھ ہیں
گو مشتِ خاک ہیں مگر آندھی کے ساتھ ہیں
ایک مرتبہ سر سیداحمد خان ٹرین میں سفر کر رہے تھے کہ ان کے ڈبے میں ایک انگریز بھی آگیا۔ سر سید ہاتھ منھ دھونے گئے تو انگریز نے ان کے ناشتے کا ٹفن اُٹھا کر باہر پھینک دیا۔سر سید واپس آئے تواپنے ٹفن کو غائب پایا۔سر سید کو غصہ تو بہت آیا لیکن وہ ضبط کر کے بیٹھ گئے۔کچھ دیر بعد انگریز اپنی جگہ سے اُٹھا اور باتھ روم چلا گیا۔ انگریز کا ہیٹ سیٹ پر رکھا ہوا تھا۔ سر سید نے انگریز کا ہیٹ اُٹھایا اور باہر پھینک دیا۔ انگریز واپس آیا اور ہیٹ کو جگہ پر نہ پایا تو غصے سے بولا: ’’ہیلو جینٹل مین! اِدھر ہمارا ہیٹ رکھا ہوا تھا، کدھر گیا؟‘‘
سر سید نے جواب دیا: ’’تمھارا ہیٹ میرے ناشتے کے تعاقب میں گیا ہے۔‘‘
مہا راجہ رنجیت سنگھ پنجاب کے مہا راجہ تھے - اور ان کا نام رنجیت سنگھ تھا - اس لیے انھیں مہا راجہ رنجیت سنگھ کہتے ہیں -
مہا راجہ رنجیت سنگھ کا انصاف مشہور ہے ، ویسے تو ہندوستان کے سبھی راجاؤں کا انصاف مشہور ہے لیکن یہ واقعی سب کو ایک آنکھ سے دیکھتے تھے -
سزا دینے میں مجرم اور غیر مجرم کی تخصیص نہ برتتے تھے -
جو شخص کوئی جرم نہ کرے وہ بھی پکڑا جاتا تھا - فرماتے تھے علاج سے پرہیز بہتر ہے -
اس وقت اس شخص کو سزا نہ ملتی تو آگے چل کر ضرور کوئی جرم کرتا -
بعد کے حکمرانوں نے انہی کی تقلید میں جرم نہ کرنے والے کو حفظ ما تقدم کے طور پر سزا دینے اور جیل بھجوانے کا اصول اختیار کیا -
کبھی مجرم کو بھی سزا دیتے ہیں اگر وہ ہاتھ آجائے اور اس کا وکیل اچھا نہ ہو -
ہم انسان کتنے بھولے ہوتے ہیں جو یہ سوچ لیے بیٹھے ہوتے ہیں کہ ہمارے جاتے ہی سب کچھ رُک جائے گا یا بدل جائے گا، مگر کچھ نہیں رکتا، کچھ نہیں بدلتا۔
سب کچھ ویسا ہی رہتا ہے ، بس ہم نہیں ہوتے۔ گویا ہمارا ہونا نہ ہونا سب برابر ہے ، تو پھر اس نہ ہونے کے برابر ہونے کا اتنا زعم کیوں، اتنا گھمنڈ کس لے۔ ۔ ۔ ؟؟؟
برسات کا موسم تھا۔ یونیورسٹی میں چاروں طرف گھاس اگ آئی تھی۔ گھسیارے گھاس کاٹنے میں جتے ہوئے تھے۔
ممتاز شاعر پروفیسر مجنون گورکھپوری کی کلاس جاری تھی۔ ایک گھسیارن کلاس کے سامنے والے برآمدے سے گزری۔ طلبا کی نظریں لا محالہ اس کی طرف اٹھیں۔ مجنون نے بھی اس جانب دیکھا اور بے ساختہ بولے:
مشہور افسانہ نگار راجندر سنگھ بیدی ریل میں سفر کر رہے تھے ۔ دورانِ سفر ٹکٹ چیکر نے ان سے ٹکٹ مانگا تو بیدی صاحب نے اپنی جیبیں ٹٹولیں مگر ٹکٹ کا پتا نہیں تھا ۔
ٹکٹ چیکر بیدی صاحب کو پہچانتا تھا ۔ کہنے لگا " مجھے آپ پر بھروسہ ہے ، آپ نے یقیناً ٹکٹ خریدا ہوگا ۔"
بیدی صاحب پریشانی سے بولے " بھائی ! بات آپ کے بھروسے کی نہیں ، مسئلہ تو سفر کا ہے ۔ اگر ٹکٹ نہ ملا تو یہ کس طرح معلوم ہوگا کہ مجھے اُترنا کہاں ہے ۔ ؟ "
ایک مرتبہ اکبر الٰہ آبادی کے دوست نے انہیں ایک ٹوپی دکھائی جس پر قل ہو اللہ کڑھا ہوا تھا۔ آپ نے دیکھتے ہی فرمایا “بھئی عمدہ چیز ہے۔ کسی دعوت میں کھانا ملنے مین دیر ہو تو یہ ٹوپی پہن لیا کرو، سب سمجھ جائیں گے کہ انتڑیاں قل ہو اللہ پڑھ رہی ہیں۔“
ایک بار پانی کی قلت سے مولانا عبدالمجید سالک بہت پریشان تھے۔ پطرس بخاری کو جب ان کی پریشانی کا علم ہوا تو وہ پانی کی کئی بالٹیاں کار میں رکھ کر مولانا کی کوٹھی پر لے گئے اور مولانا سے کہنے لگے: ’’دیکھئے حضور! آپ کو پانی پانی کرنے کے لیے حاضر ہوگیا ہوں۔‘‘
سالک صاحب نے فوراً جواب دیا: ’’پطرس صاحب، آپ تو کیا، یہاں بڑے بڑے پانی بھرتے نظر آتے ہیں۔‘‘
سالک صاحب نے بڑی نکتہ رس طبیعت پائی تھی۔ ایک بار پنڈت ہری چند اختر سے فرمانے لگے… پنڈت جی آپ کا نام کیا ہوا، مسلم لیگ کا جھنڈا ہوگیا۔ پنڈت جی پوچھنے ہی والے تھے کہ سالک صاحب نے سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے وضاحت کی، ’’دیکھیے نا، یہ جھنڈے کا رنگ ہے سبز یعنی ’’ہری‘‘ اور اس پر چاند اور تارے کا نام یعنی ہری چند اختر۔
مولانا عبدالمجید سالک ہشاش و بشاش رہنے کے عادی تھے، جب تک دفتر میں رہتے، دفتر قہقہہ زار رہتا۔ اُن کی تحریروں میں بھی اُن کی طبیعت کی طرح شگفتگی تھی۔ جب لارڈویول ہندوستان کے وائسرے مقرر ہوئے تو سالک نے انوکھے ڈھنگ سے بتایا کہ وہ ایک آنکھ سے محروم ہیں، چنانچہ مولانا سالک نے انقلاب کے مزاحیہ کالم ’’افکار و حوادث‘‘ میں لکھا کہ لارڈویول کے وائسرائے مقرر ہونے کا یہ فائدہ ہے کہ وہ سب کو ایک آنکھ سے دیکھیں گے۔‘
احسان دانش پہلے اپنا نام احسان بن دانش لکھا کرتے تھے۔ ایک روز انہوں نے قاضی احسان احمد شجاع آبادی سے اپنا تعارف کروایا “مجھے احسان بن دانش کہتے ہیں”
“ہوں تو میں بھی احسان مگر بن دانش نہیں” قاضی صاحب نے جواب دیا تو اس کے بعد کبھی احسان دانش نے احسان بن دانش نہ لکھا۔
ایک جواں سال شاعر یہ چاہتا تھا کہ وہ سو سال کا سفر رات بھر میں طے کرلے اور صاحب دیوان شاعر بن جائے۔ ایک دن اپنا دیوان اپنے استاد کی خدمت میں پیش کیا اور عرض کیا کہ میرے کمزور اشعار کے سامنے صلیب کا نشان بنا دیں۔اصلاح کے بعد استاد کے پاس سے جب اپنا دیوان لے کر دیکھا تو اس میں کہیں بھی صلیب کا نشان نہیں پایا۔اپنے علم وفہم پر بڑا خوش ہوا اور اپنے استاد سے فخریہ کہا کہ کیا میرا کوئی شعر لائق اصلاح نہیں ہے۔ استاد نے جو بڑے ظریف الطبع اور نکتہ سنج تھے ، جواب دیا کہ اگر میں تمھاری خواہش کے مطابق علط اشعار کے سامنے صلیب کا نشان بناتا تو تمھارے دیوان اور عیسائیوںکے قبرستان میں کوئی فرق باقی نہ رہتا۔
زندگی بہت مختصر ہے اور ہر آدمی اسی مختصر زندگی میں سالوں کا سفر منٹوں میں طے کرلینا چاہتا ہے۔ راتوں رات دولت و ثروت کا انبار لگالینا چاہتا ہے۔ پل بھر میں شہرت کی بلندیوں کو چھو لینا چاہتا ہے۔ اور اگر کوئی پڑھا لکھا ہے تو وہ رات بھر میں ہی صاحب کتاب بن جانا چاہتا ہے۔ مگر ہوتا وہی ہے جو مقدر ہوتا ہے۔ خاص طور سے علم و فن کی راہ کا سفر اور بھی مشقت آمیز ہوتا ہے۔یہاں تو’ کوہ کنی کے بعد بھی کاہ بر آوردنی‘ کا مقولہ صادق آتا ہے۔ عمر کے ایک خاص مرحلے میںہی آدمی علم و فن کی بلندیوں کو چھو پاتا ہے۔ جو لوگ اپنے منھ میاں مٹھو بنتے رہتے ہیں ان کا واسطہ جب کسی اہل علم سے پڑتا ہے تو اس کے پندار اور’ہم چوں دیگرے نیست‘ کاسارا بھرم کھل جاتا ہے۔ اگر کوئی آدمی کسی کی غلطی کو نظر انداز کردے تو اس سے یہ غلط فہمی نہ ہو کہ اس کے اندر کوئی عیب نہیں ہے۔علم کے لیے کتنی دماغ سوزی کرنی پڑتی ہے، علامہ اقبال کی زبان نکتہ شناس سے سنیے:
تم نے میرے پیر دابے میں نے پیسے
مرزا غالب
ایک روز مرزا صاحب کے شاگرد میر مہدی مجروحؔ ان کے مکان پر آئے۔ دیکھا کہ مرزا صاحب پلنگ پر پڑے کراہ رہے ہیں۔ یہ ان کے پاؤں دابنے لگے۔ مرزا صاحب نے کہا بھئی تو سید زادہ ہے مجھے کیوں گنہگار کرتا ہے؟‘‘ میر مہدی مجروحؔ نہ مانے اور کہا کہ ’’آپ کو ایسا ہی خیال ہے تو پیر دابنے کی اجرت دے دیجئے گا۔‘‘ مرزا صاحب نے کہا، ’’ہاں اس میں مضائقہ نہیں۔‘‘ جب وہ پیر داب چکے تو انہوں نے ازراہ مزاح مرزا صاحب سے اجرت مانگی مرزا صاحب نے کہا، ’’بھیا کیسی اجرت؟ تم نے میرے پاؤں دابے، میں نے تمہارے پیسے دابے، حساب برابر ہوگیا۔‘‘
مارہرے کی خانقاہ کے بزرگ سید صاحب عالم نے غالبؔ کو ایک خط لکھا۔ ان کی تحریر نہایت شکستہ تھی۔ اسے پڑھنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ غالبؔ نے انہیں جواب دیا،
’’پیرو مرشد، خط ملا چوما چاٹا، آنکھوں سے لگایا، آنکھیں پھوٹیں جو ایک حرف بھی پڑھا ہو۔ تعویذ بناکر تکیہ میں رکھ لیا۔‘‘
زہرہ نگاہ کے ہاں دعوت ختم ہوئی تو زہرہ نگاہ نے ساقی فاروقی سے درخواست کی کہ احمد فراز صاحب کو ان کی رہائش گاہ تک پہنچادیں۔ ساقی نے جواب دیا،
’’میں انہیں اپنی گاڑی میں نہیں بٹھا سکتا۔ کیونکہ جوں ہی کوئی خراب شاعر میری گاڑی میں بیٹھتا ہے، گاڑی کا ایک پہیہ ہلنے لگتا ہے۔‘‘
اس پر فیض احمد فیض نے فقرہ کسا،
’’ساقی تمہارے بیٹھنے سے تو تمہاری گاڑی کے دونوں پہیئے مستقل ہلتے رہتے ہوں گے۔‘‘