ابراہیم جلیس کراچی میں قیام پذیر تھے۔ قتیل شفائی، احمد ندیم قاسمی کے علاوہ کچھ اور دوست جب کراچی تشریف لے جاتے تو جلیس ملتے ہی پوچھتے،’’کب تک قیام ہے؟‘‘ اور جب ملاقاتی کہتا کہ فلاں تاریخ تک ہے تو فوراً جواب دیتے کہ اس دن تو میں آپ کی دعوت کرنا چاہتا تھا۔ دوچار دفعہ جب ایسا ہی ہوا تو قتیل معاملہ کو بھانپ گئے۔ اس دفعہ جب قتیل شفائی اور قاسمی کراچی پہنچے تو حسب معمول جلیس نے پوچھا کہ قیام کب تک ہے؟ قتیل نے جواب دیا، ’’اس بار ہم فیصلہ کرکے آئے ہیں کہ آپ کی دعوت کے بعد ہی لاہور واپس جائیں گے۔‘‘
ابراہیم جلیس کو جھوٹ بولنے کی بہت عادت تھی۔ ایک دن حمید اختر نے جلیس سے کہا۔
’’میں نے زندگی میں بڑے بڑے جھوٹے آدمی دیکھے ہیں مگر تم سے بڑا کوئی نہیں ملا۔ تمہاری نظر میں کوئی ہے کیا جو اس میدان میں تم سے آگے ہو؟‘‘
’’ہاں ہے۔‘‘ جلیس نے جواب دیا۔
حمید نے پوچھا، ’’کون؟‘‘
’’میرے والد صاحب‘‘ جلیس نے کہا، ’’میں بی۔ اے میں ایک نمبرسے پاس ہوا یعنی مار جن پر اور والد صاحب نے سارے حیدر آباد کی دعوت کردی کہ لڑکا یونیورسٹی میں ایک نمبر پر آیا ہے۔ (یعنی اول آیا ہے۔)‘‘
ایک بار مشاعرہ ہو رہا تھا، ایک استاد اٹھے اور انہوں نے ایک طرح کا مصرعہ دیا۔
آ رہی ہے چمن سے بوئے کباب
بڑے بڑے شاعروں نے طبع آزمائی کی لیکن کوئی گرہ نہ لگا سکا، ان میں سے ایک شاعر نے قسم کھائی کہ جب تک گرہ نہ لگائیں گے چین سے نہیں بیٹھیں گے، چنانچہ وہ ہر صبح دریا کے کنارے نکل جاتے اونچی آواز سے الاپتے۔
آ رہی ہے چمن سے بوئے کباب
ایک روز وہ دریا کے کنارے یہی مصرعہ الاپ رہے تھے کہ ادھر سے ایک کمسن لڑکا گزرا جو نہی شاعر نے یہ مصرعہ پڑھا، وہ لڑکا بول اٹھا۔
کسی بلبل کا دل جلا ہو گا
شاعر نے بھاگ کر اس لڑکے کو سینے سے لگایا۔ یہی لڑکا بڑا ہو کر جگر مراد آبادی کے نام سے مسلم الثبوت استاد بنا۔
آ رہی ہے چمن سے بوئے کباب
کسی بلبل کا دل جلا ہو گا
مرزا رفیع سودا اردو کے بڑے نامور شاعر تھے۔ بادشاہ شاہ عالم نے جب انکی شاگردی اختیار کی تو ایک روز سودا سے کہا کہ آپ ایک روز میں کتنی غزلیں کہہ لیتے ہیں۔
سودا نے جواب دیا کہ وہ ایک دن میں دو چار شعر کہہ لیتے ہیں۔
یہ سن کر بادشاہ نے کہا، واہ استادِ محترم، ہم تو پاخانے میں بیٹھے بیٹھے چار غزلیں کہہ لیتے ہیں۔
سودا نے جواب میں کہا۔
“حضور ان غزلوں میں بُو بھی ویسی ہی ہوتی ہے۔”
یہ کہا اور بادشاہ کے پاس سے چلے آئے اور بعد میں بادشاہ کے بار بار بلاوے پر بھی اسکی خدمت میں نہ گئے۔
ہمارے ہاں شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکی دونوں کی رائے لازمی لی جاتی ہے۔ اگر وہ ہاں کر دیں تو شادی کر دی جاتی ہے، اور اگر ناں کر دیں تو بھی شادی کر دی جاتی ہے۔
ایک بار دلی میں رات گئے کسی مشاعرے یا دعوت سے مرزا صاحب مولانا فیض الحسن فیضؔ سہارنپوری کے ہمراہ واپس آرہے تھے۔ راستے میں ایک تنگ و تاریک گلی سے گزر رہے تھے کہ آگے وہیں ایک گدھا کھڑا تھا۔ مولانا نے یہ دیکھ کر کہا،
’’مرزا صاحب، دلی میں گدھے بہت ہیں۔‘‘
’’نہیں حضرت، باہر سے آجاتے ہیں۔‘‘
مولانا فیض الحسن جھینپ کر چپ ہورہے۔