1947ء سے قبل اِس چائے خانے کی عمارت کی پیشانی پر انڈیا ٹی ہائوس سیمنٹ سے لِکھا
ہوتا تھا،قیام پاکستان کے بعد انڈیا کا لفظ ختم کر کے “پاک” لکھ دِ یا گیا
لاہور زمانہ قدیم سے ہی علمی ، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ اِس حوالے سے لاہور ایک جادوئی حیثیت رکھتا ہے جو بھی یہاں آتا ہے یہیں کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ بڑی بڑی علمی و ادبی شخصیات یہاں آئیں اور اِس جادوئی شہر کے سحر کے زیرِاثر یہیں کی ہو کر رہ گئیں۔لاہور میں مختلف ادوار میں نامور شخصیات نے عِلم، ادب اور شاعری میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔اِن سرگرمیوں کے حوالے سے پاک ٹی ہائوس سرِ فہرست ہے جس کی اپنی الگ تاریخی اہمیت ہے۔
یورپی ممالک میں تو چائے خانو ں اور قہوہ خانوں کا رواج بہت پُرانا ہے۔ برطانوی دورِ حکومت میں1939ء اور 1940ء میں لاہور میں بھی ایک چائے خانہ قائم ہوا۔ جو کہ نیلا گُنبد کی جانِب سے مال روڈ کی طرف آنے والی سڑک کے کنارے پر واقع ہے۔اس ٹی ہاوس کو سردار بوٹا سنگھ نے قائم کیا تھا ۔ وہ1940سے 1944 تک چند سال کاروبار ٹھیک طریقے سے جا ری نہ رکھ سکے ۔ بوٹا سنگھ نے اپنے گاہکوں میں دو بھائیوں سردار سرتیج سنگھ بھلا اور کیسر سنگھ بھلا جو گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کرکے فارغ ہو چکے تھے اور کوئی کاروبار کرنا چاہتے تھے انہیں یہ فروخت کر دیا ۔پھر یہ ٹی ہاوس کامیابی سے چلنا شروع ہو گیا جہاں مختلف طبقہ فکر کے لوگ آنے لگے تھے۔ لیکن کسی کے گُمان میں بھی یہ نہ تھا کہ یہ قائم ہونے والا چائے خانہ ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کا مرکز بن جائے گا۔
اِس چائے خانے کے قیام کے بعد لاہور کی مختلف ادبی، علمی ،ثقافتی تنظیمیں اور اُس سے وابستہ لوگوں نے بھی اِسی کا رُخ کیا۔1939ء میں" بزمِ داستان گوِیاں "کے نام سے ادبی تنظیم قائم ہوئی۔ جِس کے روح رواں بیدار بخت تھے۔ ان کے ساتھیوں میں آغا شورش کاشمیری، سید نظر زیدی اور ملک اسلم حیات شامل تھے۔ پھرمولانا حامد علی خان کے ساتھ مِل کر اُردو سبھا کے نام سے ادبی انجمن قائم کی۔ جس کے اجلاسوں میں پروفیسر پطرس بخاری ، خواجہ دِل مُحمد، ڈاکٹر موہن سِنگھ دیوانہ اورڈاکٹر شانتی روپ بھٹنا گر بھی شریک ہوتے تھے۔یہ لاہور کے علم و ادب کے عروج کا زمانہ تھا۔ تعلیمی اداروں کے قیام کے بعد اتر پردیش،مدھیا پردیش، خیبر پختونخوا اور پنجاب کے دیگر شہروں سے تعلق رکھنے والی عِلمی، ادبی شخصیات نے لاہور کا رُخ کیا۔ ان میں محمد حسین آزاد ، تاجور نجیب آبادی، محمود تیرانی، مُفتی عبداللہ ٹونکی، مرزا ارشد گورکانی دہلوی، میر ناظر حسین ناظم لکھنوی، محمد حسن جالندھری ،محمد شفیع قصوری، شیخ عبدالقادر، علامہ محمد اقبالؒ، پروفیسر پطرس بخاری ، صوفی تبسم اور
اے حمید جیسی شخصیا ت قابلِ ذِکر ہیں۔اَن نامور شخصیات کے طفیل لاہور کا ادب عروج پر جا پہنچا اور لاہور کا یہ چائے خانہ اِن ادیبوں شاعروں کی آماجگاہ و مسکن بن گیا۔ یہ شاعری، افسانے اور ادب کے عروج کا زمانہ تھا۔
پھر 1947ء میں قیامِ پاکستان کے وقت یہ ادبی ترقی بہت بُری طرح متاثر ہوئی جَب ہندو اور سِکھ پروفیسرز اور شاعر، ادیب لاہور کو چھوڑ کر بھارت چلے گئے۔ اِنڈیا ٹی ہائوس کو بھی تالے لگ گئے۔یہ دونوں بھائی اپنی اس پراپرٹی کو چھوڑ کر بھارت چلے گئے ۔ امرتسر سے ہجرت کر کے لاہور آنے والے حافظ رحیم بخش کو یہ ٹی ہاوس 79 روپے ماہانہ کرائے پر الاٹ ہو گیا ۔ ان کے دونوں بیٹوں علیم الدین ، سراج الدین نے اس کو ترقی پر پہنچا دیا ۔ پھر سراج صاحب نے اِس ٹی ہائوس کو الاٹ کروا لیا تھا۔1947ء سے قبل اِس چائے خانے کی عمارت کی پیشانی پر انڈیا ٹی ہائوس سیمنٹ سے لکھا ہوتا تھا۔ تقسیم کے بعد انڈیا کا لفظ توڑ دِیا گیا اور سیمنٹ سے “پاک” لکھ دِ یا گیا۔ یوں انڈیا ٹی ہائوس 1948میں پاک ٹی ہائوس میں تبدیل ہو گیا۔
اِسکے دُوبارہ کھل جانے سے گئے ہوئے ادیب اور شاعر واپس آنے لگے۔ یوں آہستہ آہستہ یہ ٹی ہائوس ایک مرتبہ پھِر علم و ادب کا مرکز بن گیا۔ یہ محض ایک ٹی ہائوس نہیں بلکہ ادب و ثقافت کا گہوارہ بن گیا تھا۔جہاں تمام نامور ادیب، شعراء ، افسانہ نگار اور لکھاری آتے تھے۔سارا سارا دِن محفلیں جمنے لگیں۔ چائے کا دور چلتا۔ کہیں افسانے سُنائے جارہے ہیں۔ کہیں شاعری چل رہی ہے۔ کہیں ناول پر تنقید ہورہی ہے۔ کہیں غزلوں پر واہ واہ ہو رہی ہے۔ادب سے ہٹ کر کہیں فسادات کا ذکر ہو رہا ہے کہ زخم ابھی تازہ ہیں۔
اِس عظیم تاریخی انقلاب کا اثر شاعری، افسانہ نگاری، اور ناول نگاری پر بہت زیادہ تھا۔ پاک ٹی ہائوس عموماً رات 11بجے بند ہو جاتا تھا مگر بعض ایام میں کِسی ادبی تنظیم کا اجلاس ہوتا یا کوئی محفل گرم ہوتی تو رات کا ایک بھی بج جاتا تھا۔نامور ادیبوں اور شعراء کے کلام مختلف اخباروں میں شائع ہوتے تھے۔ جنہیں پڑھ کر لوگ دوسرے شہروں سے یہاں آتے اور اپنے پسندیدہ شاعر، ادیب اور لکھاری کو جی بھر کے دیکھتے اور اپنے ساتھ چائے پیتے تھے۔ اِس پاک ٹی ہائوس کی رونق ادیبوں، شاعروں کی وجہ سے ہی تھی۔اِسکے ساتھ ہی YMCAجو یہاں مختلف سماجی ، ادبی سرگرمیاں منعقد کروانے میں متحرک تھا اُسکے ہال میں بھی ادبی اجلاس اور مشاعرے ہوا کرتے تھے۔ جو کہ اَب پاک ٹی ہائوس میں منتقل ہو گئے تھے۔پاک ٹی ہائوس میں بعض اوقات گورنمنٹ یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلباء بھی آجاتے تھے۔ اِسکے علاوہ حلقہ اربابِ ذوق کے ممبران کا ہفتہ وار اجلاس بھی ہفتے کے بعداتوار کو یہاں ہوتا اور حلقے سے متعلق گفتگو ہوتی تھی۔ ان میں منیر نیازی، ناصِر کاظمی، مختار صدیقی اور یوسف ظفر جیسے لوگ بھی شامِل تھے۔
اے حمید اپنی کتاب"لاہور کی یادیں"میں پاک ٹی ہائوس کے بارے میں اپنی یادداشت لکھتے ہیں۔
“یہ ایک ریستوران ہی نہیں تھا، اِسے ادبی مرکز اور ثقافتی گڑھ کی حیثیت حاصل ہے۔ جہاں صُبح سے شام تَک ادیبوں کا تانتا بندھا رہتا ۔ سارا دِن محفلیں جمتی ہیں۔ چائے کے دور چلتے ہیں۔ بڑا آزاد اور صاف سُتھرا ماحول تھا۔ کوئی کِسی کے معاملے میں دخل اندازی نہیں کرتا تھا۔ مشہور افسانہ نگار اشفاق احمد ، شاعر ناصِر کاظمی، شہر ت بخاری،منیر نیازی ، انجم رومانی، قیوم نظراورسجاد رضوی سے میری پہلی ملاقات اِسی ٹی ہائوس میں ہوئی تھی۔ ہر عروج کو زوال ہے، پاک ٹی ہائوس کی بھی جوانی گزر گئی۔ ادیب ، شاعر بکھر گئے۔ پاک ٹی ہائوس اپنی جگہ موجود ہے۔ کبھی کبھی پُرانے ادیب و شاعر آکر بیٹھ جاتے ہیں مگر پہلے والی بات نہیں ہے۔”
اے حمید جو کہ پاک ٹی ہائوس کے عروج و زوال کے عینی شاہد ہیں۔ اُنہوں نے پاک ٹی ہائوس پراپنا ایک ناول "دُھوپ اور شگوفے"لکھاتھا جو کہ ٹی ہائوس سے شروع ہو کر ٹی ہائوس پر ہی ختم ہو جاتا ہے۔اِس ناول میں یہاں بیٹھنے والوں کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ پاک ٹی ہائوس کے زوال کے حوالے سے اے حمیدلکھتے ہیں۔
‘’ جن لوگوں کے دَم سے اِس ریستوران کی رونقیں رہتی تھیں۔ جِنکے قہقہے ہر وقت گونجتے تھے وہ لوگ اَب اِسکی فضائوں میں نظر نہیں آتے۔ اکثر دُنیا سے گزر گئے ۔جو زندہ رَہے انہیں حالات کی زنجیر نے ایسا جکڑا کہ وہ اِدھر کا رُخ نہیں کرتے۔ پاک ٹی ہائوس تو تاج محل کے کھنڈرات کی شکل میں ہم میں موجود ہے۔ عہدِ رفتہ کے سُنہری ایام کی داستانیں سُناتا ہے۔ اِسکے دروازے پر لوہے کا جنگلا لگا ہے جِس کے اندر ماضی کی سُنہری صورتیں گردمیں اَٹ کر ختم ہو چُکی ہیں۔لوگ اِسکے قریب سے بے نیازی سے گزر جاتے ہیں ۔کسی کو احساس تک نہیں ہوتا کبھی لاہور کی بعض تاریخی شخصیات یہاں بیٹھا کرتی تھیں۔جن کی شیریں گفتگو اور بلندو بانگ قہقوں سے فضا گونجتی تھی ۔‘’
چائے کا کاروبار کم ہونے پر مالک نے اس تاریخی چائے خانے کو 2000ء میں بند کرنے کا اعلان کر دیا جس پر ادیبوں اور شاعروں میں بے چینی پھیل گئی بعد ازاں 2006 ء میں اس ٹی ہاوس کومکمل طور پر بند کر دیا گیا ۔ یہ تاریخی پاک ٹی ہاؤس کارپٹس شاپ اور ٹائر شاپ بنا رہا ۔اس دوران ادیبوں ،شاعروں اور صحافیوں نے کئی بار آواز اٹھائی کہ اس ورثے کو محفوظ کیا جائے ۔اسکی اہمیت کے بارے میں کالم اورفیچر بھی لکھے گئے مگر شنوائی نہ ہوسکی ۔آخرکار 2012 ء میں حکومت پنجاب کی جانب سے اسے واگزار کروا کر 4 کروڑ کی لاگت سے اسے مرمت اور ضروری تزئین اور آرائش کے بعد23 مارچ 2013 ء میں کھول دیا گیا ۔ اس کا افتتاح اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کیا اور پاک ٹی ہاؤس کی بحالی کو میٹرو بس منصوبے کے مترادف قرار دیا ۔افتتاح کی تقریب کے دوران نواز شریف نے یہ انکشاف کیا کہ مشہور شاعر طاہر جمیل عمرہ ادائیگی کیلئے سعودیہ گئے تھے ۔وہاں انکی ملاقات میاں صاحب سے ہوگئی ۔ اس دوران میاں صاحب ان کی شاعری سے بہت مرعوب ہوئے
طاہر جمیل نے لاہور میں پاک ٹی ہاؤس اور اسکی اہمیت اور یہاں ہونے والی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کیا تو میاں صاحب نے انھیں ٹی ہاؤس دوبارہ بحال کرنے کی یقین دہانی کرائی مگر افسوس کہ طاہر جمیل 2008 ء میں وفات پا گئے ۔ان کی خواہش کو پورا کرنے کی وجہ سے بھی میاں صاحب بہت خوشی محسوس کر رہے تھے ۔سال 2013 ء میں پاک ٹی ہاؤس کے دوبارہ کھل جانے کے باعث ادیبوں ،شاعروں کا دیرینہ مطالبہ پورا ہو گیا ۔ادبی حلقوں میں بھی خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔پاک ٹی ہاؤس کو انتہائی نفیس اور دیدہ زیب بنا دیا گیا ۔بینچوں کی بجائے صوفے رکھے گئے اور عمارت کو بھی جدید بنا دیا گیا ۔
خیال ہے کہ اشیائے خورد و نوش کی قیمت کافی زیادہ رکھی گئی ہے جو کہ ادیب لوگوں کی برداشت سے باہر ہے ۔اس کو چائے کھانے کی بجائے ایک منی ریسٹورنٹ میں بدل دیا گیا تھا ۔جہاں مختلف تعلیمی اداروں کے طلبہ وقت گزاری کے لئے آنے لگے جس کی وجہ سے ادبی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے ۔کچھ سال قبل رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز شریف نے پاک ٹی ہاؤس کو اپنی سابق اصل روایت کے مطابق تبدیل کرنے کے لئے اسکا انتظام والڈ سٹی اتھارٹی لاہور کے سپرد کر دیا اور اب اسکا انتظام بہتر طریقے سے چلایا جا رہا ہے ۔یہاں مختلف اجلاس اور مشاعروں کے علاوہ دیگر پروگرام بھی منعقد ہوتے ہیں جس کے لئے پیشگی بکنگ کروانا ضروری ہے ۔
اب ٹی ہاوس کا کلچر عام ہوتا جا رہا ہے، لاہور میں چائے خانہ ، ٹی پوائنٹس اور ایسے بہت سے ٹی ہاوس کھل چکے ہیں لیکن پاک ٹی ہاوس کی ادبی ،اورثقافتی حیثیت کو کم نہیں کیا جا سکتا ۔ کچھ سال قبل لاہور کی طرز پر ملتان ٹی ہاوس بھی قائم کیا جا چکا ہے ۔ حکومتی سطح پر ہر شہر میں ایسے ٹی ہاوس قائم کر کے مقامی ادب و ثقافت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔



