آج پھر چائے بناتے ہوئے وہ یاد آیا
آج پھر چائے میں پتی نہیں ڈالی میں نے
ترونا مشرا
آج پھر چائے بناتے ہوئے وہ یاد آیا
آج پھر چائے میں پتی نہیں ڈالی میں نے
ترونا مشرا
میں بھی چائے کا انتظار کر رہی ہوں، چائے ملے تو کوئی کام کریں۔ ![]()
ایک دن پوچھ ہی لیا اس نے
لطف باتوں میں ہے کہ چائے میں
خرم آفاق
اسے چائے کیوں کہہ رہے ہو۔
تم اسے اشرف المشروبات کیوں نہیں کہتے۔
چائے کی پیالی میں نیلی ٹیبلٹ گھولی
سہمے سہمے ہاتھوں نے اک کتاب پھر کھولی
(بشیر بدر)