کچھ عرصہ قبل ایک دوست نے گوگل جیمنائی کے پرو ورژن تک رسائی فراہم کی تو نوائے سروش سے درج ذیل دو صفحات سے متن اخذ کرنے کی کوشش کی، جس میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی۔ نتائج آپ کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں۔
دایاں صفحہ (صفحہ نمبر 1)
مولانا طباطبائی فرماتے ہیں کہ ہوا سے خطاب بظاہر بے مزہ ہے لیکن ہوس کی مناسبت سے مصنف نے صبا کو چھوڑ کر ہوا کو باندھا۔ میرے نزدیک لفظ ہوا محض ہوس کی رعایت ہی سے اختیار نہیں کیا گیا، خاک کو اڑانے کے لیے صبا سے کہیں زیادہ ہوا کی ضرورت تھی۔ صبا خوشبو لے جا سکتی ہے خاک نہیں اڑا سکتی۔
۵۔ لغات۔ گل کترنا : کاغذ وغیرہ کے پھول بنانا، گلکاری کرنا عجیب و غریب اور اچھے کام انجام دینا۔ کسی کا کوئی ایسی بات کرنا جس سے فساد برپا ہو اور وہ الگ رہے۔
شرح : محبوب چلتا ہے تو زمین پر پاؤں رکھنے کے رنگ ڈھنگ حد درجہ دلفریب اور قابل دید ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خرامِ محبوب کی لہر گل کرتی جا رہی ہے۔ گل کترنے سے یہ مفہوم بھی ثابت ہے کہ محبوب چل نہیں رہا، بلکہ گلکاریاں کر رہا ہے۔ یہ مفہوم بھی واضح ہے کہ اس چال سے عشاق میں ایک ہنگامہ فساد برپا ہو رہا ہے اور خود محبوب کو اس سے کوئی تعلق نہیں۔
۶۔ لغات۔ بوالہوس : ہوس پرست، جھوٹا عاشق۔ اہل نظر : معنویت پر نظر رکھنے والے، سچے عاشق۔
شرح : زمانے کے طور طریقے بدل گئے۔ ہر ہوس پرست اور جھوٹے عاشق نے حسن پرستی کو اپنا مشغلہ بنا لیا ہے۔ گویا یہ رسم عام ہوگئی ہے۔ ظاہر ہے کہ اب سچے عاشقوں کے طور طریقے کی عزت و آبرو جاتی رہی۔ شعر کی آفاقیت محتاجِ تشریح نہیں۔ زندگی کے ہر دائرے میں اس کا یکساں اطلاق ہو سکتا ہے۔ جب سچے جھوٹے میں امتیاز کا کوئی نشان خاص باقی نہ رہے تو سچوں کی آبرو کیا باقی رہ سکتی ہے؟
بایاں صفحہ (صفحہ نمبر 2)
کر گیا، کیونکہ جو نگاہ اس کے رخِ انور پر پڑی، وہ مست اور از خود رفتہ ہو کر ہر طرف بکھر گئی۔ ہر نگاہ کی حیثیت ایک تار کی تھی۔ بہت سے تاروں نے اس کے چہرے پر کھب کر ایک پردہ تیار کر دیا۔ یعنی نظارہ بذاتِ خود حسن سے لطف اندوز ہونے کے بجائے محرومی کا باعث بن گیا۔
مولانا طباطبائی فرماتے ہیں کہ مصنف نے “سحر” کا لفظ یہاں پر نقاب بنانے کے لیے صرف کیا ہے۔ شعر کا مطلب یہ ہے، تیرا رخ دیکھ کر ایسی از خود رفتگی ہوئی کہ سب دیدار سے محروم رہے۔
۸۔ لغات۔ فردا : آئندہ کل۔ دی : گزشتہ کل۔
شرح : خواجہ حالی فرماتے ہیں : “تمہارے جاتے ہی بہ سبب خود رفتگی و خود فراموشی کے یہ حالت ہو گئی کہ آج اور کل کی مطلق تمیز نہیں رہی اور ایسا ہی قیامت کی نسبت کہا جاتا ہے کہ وہاں ماضی و مستقبل دونوں مبدل بہ زمانہ حال ہو جائیں گے۔ پس تم کیا گئے، گویا ہم پر قیامت گزر گئی۔ قیامت گزر جانے کے دونوں معنی ہیں، نہایت سختی کا زمانہ گزرنا اور خود قیامت کا آ جانا۔”
خطاب محبوب سے ہے۔ فرماتے ہیں : کل تم ہمارے پاس سے رخصت ہوئے، حشر ٹوٹ پڑا۔ آئندہ کل اور گزشتہ کل میں کوئی امتیاز باقی نہ رہا۔ اس سے بڑھ کر قیامت کا نشان کیا ہو گا کہ یوں گزشتہ کل فردا سے قیامت بن گئی۔
۹۔ شرح : اے اسد اللہ خاں! تمہیں زمانے نے تباہ کر ڈالا۔ وہ جوانی، جس پر تم نازاں تھے، کہاں گئی! وہ ہنگامہ خیز ولولے کیا ہوئے مطلب یہ کہ جوانی کے ساتھ ولولے بھی گئے اور پیری آگئی۔ یہ انحطاط زمانے کے…
