«جالندھر» اور «جلندھر»

پنجابی میں تو اس شہر کا نام «جلندھر»/ਜਲੰਧਰ ہی ہے۔ ہندی میں «جالندھر»/«جلندھر» دونوں وجود رکھتے ہیں۔ اردو میں بھی دونوں وجود رکھتے ہیں، تاہم «جالندھر» زیادہ عام ہے، اور اردو میں «جلندھر» عموماً استسقاء کی بیماری کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ فارسی میں «جالندر»/«جالهندر»/«جالندهر»/«چالندر»/«چالهندر» وجود رکھتے ہیں۔ برطانوی راج میں اس شہر کا نام Jullundur تھا۔

اس لفظ کے کئی اشتقاق بتائے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ دو دریاؤں کے بیچ سرزمین ہے، اس لیے یہ جلندھر[(جل: پانی + اندھر (میں)] ہے۔ تاہم، یہ کچھ قابلِ اعتبار نہیں، کہ سنسکرت میں یہ لفظ अन्तर ہے، اور ت د میں تو بدل سکتا ہے، تاہم یہاں اس کا دھ میں بدلنا بعید از امکان ہے۔ اس لفظ کا قابلِ اعتبار اور تاریخی لحاظ سے مدلل اشتقاق یہی ہے کہ یہ जलंधर (jalaṃdhara) = जलम् (jalam) + धर (dhara) ہے، یعنی «پانی رکھنے والا»۔ سنسکرت میں ایسی ہی ایک اور ترکیب जलधर ہے، جو «بادل» اور «سمندر» کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس نام کی دلیل بعض لوگ یہ دیتے ہیں کہ اس شہر کی مٹی بہتے پانی سے آئی ہے۔ مگر تاریخ میں لکھی داستان یہ ہے کہ जालंधर/जलंधर ایک اسور تھا، جو شو کی تیسری آنکھ کا شعلہ سمندر میں گرنے سے پیدا ہوا تھا، اور اس کو یہ نام اس لیے دیا گیا کہ اس نے برہما کی آنکھوں سے نکلا پانی پکڑ لیا تھا۔ اس اسور کا نام پدمپراݨ میں دونوں طرح जालंधर/जलंधर موجود ہے، جب کہ لنگپراݨ میں صرف जलंधर موجود ہے۔ जालंधर کا जाल (jāla) دراصل जल (jala) ہی کی वृद्धि شکل ہے، اور یہ الگ سے بطور صفت «پانی جیسا» کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ چناں چہ، जालंधर/जलंधर کا معنی ایک ہی ہے: “پانی رکھنے والا”۔ داستان کے مطابق اس علاقے کو یہ نام اس لیے دیا گیا، کہ اس اسور کی یہاں حکومت تھی۔ 11 صدی عیسوی میں لکھی گئی Kathārṇava میں اس علاقے کا نام जलंधरपूर jalaṃdharapura لکھا ہے۔ مگر 12 صدی عیسوی کی Rājataraṅgiṇī، 12 صدی عیسوی کی Abhidhānacintāmaṇi، اور Matsya Purāṇa (جو تیسری صدی عیسوی میں مکمل ہوئی، مگر اس میں اگلی ہزاری تک مسلسل اضافہ اور رد و بدل ہوتا رہا) میں اس علاقے اور یہاں کے لوگوں کو जालंधर jālaṃdhara کہا گیا ہے۔ Monnier Williams کے مطابق Romaka Siddhānta میں بھی اس علاقے کو یہی کہا گیا ہے، مگر مجھے Pañca‑siddhāntikā میں اس علاقے کا ذکر نہ ملا (جو پچھلی مذکورہ کتاب کا خلاصہ ہے، کیوں کہ وہ کتاب آج ہماری دسترس میں نہیں)۔

لہٰذا، یہ یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ شہر کے نام کے لیے «جالندھر» پہلے آیا یا «جلندھر»، کہ جس اسور کے نام پر اس شہر کا نام ہے، اس کا نام دونوں طرح ملتا ہے۔ البتہ چوں کہ شہر کا اور یہاں کے لوگوں کا نام زیادہ آثار میں «جالندھر» ملتا ہے، Matsya Purāṇa میں بھی یہی نام موجود ہے، اور فارسی اور اردو میں بھی یہ لفظ الف کے ساتھ ہے، کہا جا سکتا ہے کہ اس علاقے کو دورِ قدیم میں عموماً اسی طرح پکارا جاتا تھا۔

7 پسندیدگیاں

واہ! یقیناً آپ کو اردو اور فارسی کے ساتھ ساتھ ہندی پر بھی عبور حاصل ہے۔

اللہ کرے زور ِقلم اور زیادہ

4 پسندیدگیاں

بہت شکریہ، خلیل بھیا! خدا آپ کو سلامت و شاد رکھے!

2 پسندیدگیاں
1 پسند