یہ دونوں عربی میں الگ الگ الفاظ ہیں۔ عربی میں «حَرَج» بفتحتین ہے، اور «هرج» بفتحِ اول و سکونِ دوم۔
عربی میں «حَرَج» کے معنی ہیں، «تنگی، سختی، مشکل، ایسا گناہ جو درخورِ سزا ہو (نقصان دہ گناہ)»، اور «هرج» کے معنی ہیں، «آشوب، فتنہ، شورش»۔
ان معنوں پر نظر کیجیے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ «ہرج مرج» کے ایک معنی کے سوا، اردو میں «ہرج» اور «حرج» دونوں ہی دراصل «حرج» کے معانی اور ان معانی سے توسیع شدہ معانی میں استعمال ہوتے ہیں۔
اردو میں آ کر «ہَرْج» اور «حَرَج» آپس میں ضم ہو گئے۔ لغات نے ان میں فرق برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے، مگر ناکام رہی ہیں۔ اردو میں یہ دونوں الفاظ بسکونِ دوم بھی مستعمل ہیں، اور بفتحِ دوم بھی۔
اثر لکھنوی نے لکھا ہے کہ اردو میں «ہرج» فصحا کی زبان پر بسکونِ دوم ہی ہے، عوام بفتحِ دوم بولتے ہیں، اور یہ کہ «حرج» کو اردو سے خارج کر دینا چاہیے۔ اس کے برعکس آفاق بنارسی کہتے ہیں، کہ ان معنوں میں «حرج» ہی لکھنا چاہیے نہ کہ «ہرج»۔ اثر لکھنوی نے یہ قید صحیح نہیں لگائی کہ فصحا کی زبان پر یہ لفظ بسکونِ دوم ہی ہے۔ انیس نے بفتحِ دوم بھی استعمال کیا ہے:
آپ کی جان سے دور آئے اگر میری قضا
نہ حرج کیجیے گا میرے لیے منزل کا
یہاں «حرج کرنا» سے مراد «نقصان کرنا» ہے۔
یہ ذہن نشین رکھیے کہ اردو میں «ہرج» اور «حرج» دراصل ایک ہی ہیں، اور یہ بسکونِ دوم اور بفتحِ دوم دونوں طرح مستعمل ہیں۔ اب میں ان کے معانی بیان کرتا ہوں:
جرمانہ ہزار روپے ہے، مگر تم پانچ سو بھی دے دو تو کوئی حرج/ہرج نہیں۔ [یعنی کوئی مضائقہ نہیں، کوئی تنگی نہیں، (< ع حرج)]۔
میں روز روز اپنے گاؤں سے سکول تک کا سفر نہیں کر سکتا، میرا بڑا حرج/ہرج ہوتا ہے۔ [یعنی نقصان ہوتا ہے، (< ع حرج)]۔
فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا۟ فِىٓ أَنفُسِهِمْ حَرَجًۭا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًۭا (النساء: 65)
تیرے رب کی قسم یہ لوگ ایمان والے نہیں ہو سکتے جب تک یہ اختلاف میں آپ سے فیصلہ نہ چاہیں پھرآپ کے فیصلہ پر اپنے دلوں میں کوئی حرج نہ پائیں اور نیاز مندی کے ساتھ تسلم کریں۔ [یعنی تنگی نہ پائیں (< ع حرج)]
لَّيْسَ عَلَى ٱلْأَعْمَىٰ حَرَجٌۭ وَلَا عَلَى ٱلْأَعْرَجِ حَرَجٌۭ وَلَا عَلَى ٱلْمَرِيضِ حَرَجٌۭ وَلَا عَلَىٰٓ أَنفُسِكُمْ أَن تَأْكُلُوا۟ مِنۢ بُيُوتِكُمْ… (النور: 61)
اندھے پر، لنگڑے پر، بیمار پر اور خود تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم اپنے گھروں سے کھالو… [یعنی کوئی گناہ/پابندی نہیں (< ع حرج)]
ریل کے آنے میں پورے دو گھنٹے کا ہرج/حرج ہوا [یعنی تاخیر ہوئی، (< ع حرج)]
ایک اور لفظ «مَرَج» عربی میں بفتحتین ہے، اور اضطراب، پریشانی، فساد کے معنی رکھتا ہے۔ اردو اور فارسی میں جب یہ «ہرج و مرج»/«ہرج مرج» کی ترکیب میں بمعنی «شورش، ہنگامہ، انتشار، بے قاعدگی» استعمال ہوتا ہے تو دونوں بسکونِ دوم بولے جاتے ہیں:
محمود شاہ بہمنی کی وفات کی بعد بہمنیہ تخت گاہ میں بہت زیادہ ہرج مرج ہوا۔ [یعنی ہنگامہ/تباہی ہوئی (< ع ہرج)]
مگر ہرج مرج/حرج مرج بمعنی «خلل، رکاوٹ» اور «تنگی، مشکل» بھی استعمال ہوتا ہے، اور اس معنی میں یہ ہرج/حرج عربی حرج سے ہے، لہٰذا یہاں مرکب کے دونوں حصوں کو بسکونِ دوم بھی پڑھا جا سکتا ہے اور بفتحِ دوم بھی۔
یہ تماشا قسمت کا دیکھیے کہ بعد ہرج مرج مقدمۂ سلطنت ۔۔۔۔۔ جلا پذیر ہو چلا تھا۔ [یعنی خلل اور رکاوٹ کے بعد (< ع حرج)](نو طرز مرصع)
تم بھی خوش ہو گے اور سفر کے ہرج مرج سے بچو گے۔ [یعنی تنگی، مشکل، نقصان (< ع حرج)](باغ و بہار)