ھر اس کی یاد میں دل بے قرار ہے ناصر
بچھڑ کے جس سے ہوئی شہر شہر رسوائی۔۔
ناصر کاظمی
ھر اس کی یاد میں دل بے قرار ہے ناصر
بچھڑ کے جس سے ہوئی شہر شہر رسوائی۔۔
ناصر کاظمی
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں
سچ کہو کس نے لیا دل کہ جو پایا نہ گیا
یاں ہمیں تم ہیں کوئی اور نہ آیا نہ گیا
دل میں تھی آگ لگی دیدۂ تر کو دیکھو
گھر جلا پاس کا اور اس سے بجھایا نہ گیا
دل تو ناحق ہی زمانے سے ڈرا کرتا ہے
فیصلے ساری خدائی کے خدا کرتا ہے
ایک تو ہوتا ہے دستورِ زمانہ مرے دوست!
اک شعار اہلِ محبت کا ہوا کرتا ہے
بیتابیاں سمیٹ کے سارے جہان کی
جب کچھ نہ بن سکا تو مرا دل بنا دیا
نجمی نگینوی
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار، کوئی ہمیں ستائے کیوں
مرزا غالب
ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں
بہادر شاہ ظفر
مجھے کیا پڑی ھے ساجد کب پرائی آگ مانگوں
میں غزل کا آدمی ھوں میرے اپنے ہیں الاؤ
مرے چارہ گر بہت ہیں یہ خلش مگر ہے دل میں
کوئی ایسا ھو کہ جس کو ہوں عزیز میرے گھاؤ
دل سے خوشی گئی تو نہ آئی تمام عمر
غم صبح کو گیا تو سر شام آ گیا
کِسی ترنگ ،کسی سرخوشی میں رہتا تھا
یہ کل کی بات ہے دل زندگی میں رہتا تھا
(امجد اسلام امجد)
درد دل کا ماجرا کس سے کہیں
کون ہے درد آشنا کس سے کہیں
شاہ اکبر داناپوری