بیوی کو گھورنا، طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا قابل سزا جرم

بیوی کو گھورنا، طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا قابل سزا جرم، پارلیمنٹ سے قانون منظور

January 23, 2026
اسلام آباد:
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بیوی بچوں کے سماجی تحفظ سے متعلق اہم قانون منظور کیا گیا جس کے مطابق بیوی کو گھورنا، طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا اور بیوی کو مرضی کے بغیر گھر میں دیگر افراد کے ساتھ رکھنا بھی قابل سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ڈومیسٹک وائلینس (پریوینشن اینڈ پروٹیکشن) ایکٹ 2026 منظورکرلیا گیا ہے، جس کا اطلاق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پرہوگا۔

ڈومیسٹک وائلینس ایکٹ 2026 کا اطلاق بیوی، بچوں، گھر کے بزرگ افراد، لے پالک، ٹرانس جینڈر اور گھر میں ایک ساتھ رہنے والے افراد پر ہوگا۔

قانون میں بیوی، بچوں یا گھر میں رہنے والے دیگر افراد کو گالی دینا، جذباتی یا نفسیاتی طور پر پریشان کرنا بھی جرم ہوگا اور اس جرم کے مرتکب افراد کو تین سال تک کی سزا، ایک لاکھ روپے تک کا جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا۔

ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ 2026 میں بیوی، بچوں کے علاوہ گھر میں معذور افراد یا بزرگ افراد کا تعاقب کرنا بھی جرم ہوگا، بیوی کو مرضی کے بغیر گھر میں دیگر افراد کے ساتھ رکھنا، خاندان کے افراد کی پرائیویسی یا عزت نفس مجروح کرنا بھی جرم قرار دیا گیا۔
ڈومیسٹک وائلینس ایکٹ میں جنسی استحصال کے ساتھ معاشی استحصال بھی شامل ہے اور جرمانہ ادا نہ کرنے پر مزید 6 ماہ کی قید ہوگی۔

ایکٹ میں عدالتوں کو بھی شکایات پر فوری سماعت کے لیے پابند کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ عدالت میں درخواست آنے کے 7 روز کے اندر سماعت ہوگی اور فیصلہ 90 روز میں ہوگا۔

قانون میں بتایا گیا ہے کہ متاثرہ شخص کو مشترکہ رہائش گاہ میں رہنے کا حق حاصل ہوگا یا جوابدہ رہائش کا بندوبست کرے گا یا شیلٹر ہوم مہیا کیا جائے گا، تشدد کرنے والے شخص کو متاثرہ شخص سے دور رہنے کے احکامات بھی دیے جائیں گے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور ہونے والے قانون میں کہا گیا کہ تشدد کرنے والے شخص کو جی پی ایس ٹریکر پہننے کی ہدایت دی جائےگی۔

قانون کے مطابق گھریلو تشدد سے مراد جسمانی، جذباتی، نفسیاتی، جنسی اور معاشی بدسلوکی ہے، جس سے متاثرہ شخص میں خوف پیدا ہو یا جسمانی اور نفسیاتی نقصان ہو۔

ڈومیسٹک وائلینس ایکٹ میں بیوی کو گھورنا، دوسری شادی یا طلاق کی دھمکی دینا بھی جرم قرار دیا گیا ہے اور اس جرم پر کم سے کم 6 ماہ اور زیادہ سے زیادہ 3 سال تک سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔

اسی طرح گالی دینے، جذباتی یا نفسیاتی طور پر پریشان کرنا بھی جرم ہو گا۔

کیا یہ قانون اسلام کی رُو سے ثابت ہے؟

1 پسند

البتہ اس اجلاس میں دوسروں کی بیویوں کو گھورنے پہ کسی قسم کی سزا کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ بیچارہ میاں جب اپنی بیوی کو گھورنے کی شدید خواہش پہ قابو نہ پا سکتا ہو تو باہر جا کے یہ خواہش پوری کر سکے۔ :laughing:

7 پسندیدگیاں

انصاف لینا شاید پھر بھی آسان نہ ہو گا۔ وکیلوں کی بھی چاندی ہو گئی!

4 پسندیدگیاں

انصاف اور وہ بھی افسوس ہماری ملک میں ۔۔۔

2 پسندیدگیاں

بیگم صاحبہ تو ہمیں گھور سکیں گی نا؟ :thinking:

5 پسندیدگیاں

صاحب سے کہا۔ "خبردار! مجھے گھورئیے گا نہیں۔ آپ اسلام آباد میں ہیں۔ :smiley: نہ ہی تعاقب کیجیے گا۔ "

6 پسندیدگیاں

حکم عدولی پر گھورنا تو ان کا حق ہے نا۔

6 پسندیدگیاں

ارے واہ۔۔۔
کیا واقعی نافذ ہو گیا یہ قانون؟
لیکن عمل کب سے ہو گا؟
ہم نے کزن کو لنک بھیجا ہے۔ یہ نہ ہو کہ ہمیں بے بھاؤ کی سننی پڑ جائیں۔

3 پسندیدگیاں

لکھا تو یہی ہے کہ عدالتوں کو بھی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

2 پسندیدگیاں

وہ اگر فرمانبرداری پر بھی گھور لیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں، سرکار کا تو ترازو ہی خراب ہو گیا ہے۔

وہ کیا مثال دیتے ہیں کوا چلا ہنس کی چال ۔۔۔۔۔ :laughing:

3 پسندیدگیاں

یہ اچھا ہے بھئی ،
شریف لوگو!
گھورنا بھی نہیں!
حد ہے ویسے اور بے حد ہے!
بیچارہ مرد اب گھورے بھی نہ🤔
جو عورتیں دھمکاتی ہیں مردوں کو ، یہ بھی قانون منظور ہونا چاہیے۔
کچھ مرد
بھلے مانس بھی تو ہوتے ہیں نا۔

6 پسندیدگیاں

کہاں بھلا ؟

2 پسندیدگیاں

آہ ہ ہ

دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے :joy::joy::joy:

3 پسندیدگیاں

یہ قانون مردوں کے لیے ہے۔ خواتین اس سے مستثنی ہیں۔
مجھے تو لگتا ہے مریم نواز کی صفدر صاحب سے ان بن ہوئی ہو گی لیکن شامت تمام مردوں کی آ گئی۔

2 پسندیدگیاں

ہوئی ہوگی :face_with_peeking_eye::face_with_peeking_eye::face_with_peeking_eye::face_with_peeking_eye:پوری شادی میں بیٹے کی نظر نہیں آئے ابا جی :smiling_face_with_sunglasses::smiling_face_with_sunglasses::smiling_face_with_sunglasses::smiling_face_with_sunglasses::smiling_face_with_sunglasses:

1 پسند

اسی لیے ساری سزائیں ایک بار میں ہی سنا دی.

4 پسندیدگیاں

یہ قانون صرف اسلام آباد کے لیے ہے۔
لیکن یہاں بھی کوئی کہانی ہو گی۔

صرف اسلام آباد کے لیے؟؟

یہ دیکھیں۔

1 پسند