کبھی کبھار آدمی یوں ہی بیٹھا ہوتا ہے تو خیال آتا ہے کہ ہم نے اپنے شوق کب اور کہاں چھوڑ دیے۔ ایسا نہیں کہ ہمارے پاس وقت نہیں رہا، وقت تو ہے، بس وہ کسی اور طرف نکل جاتا ہے۔ پہلے فارغ وقت ملتا تو کچھ پڑھ لیتے تھے، کچھ لکھ لیتے تھے۔ کوئی شوق پورا کر لیتے تھے۔ اب فارغ وقت آتا ہے تو اکثر موبائل ہاتھ میں آ جاتا ہے، اور معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کب آدھا گھنٹہ یا ایک گھنٹہ گزر گیا۔
یہ بھی سچ ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگوں کے پاس کبھی نہ کبھی کوئی نہ کوئی مشغلہ ضرور رہا ہے۔ کسی کو لکھنے کا شوق تھا، کسی کو موسیقی کا، کسی کو باغبانی اچھی لگتی تھی، کسی کو بس خاموش بیٹھ کر پڑھنا۔ پھر آہستہ آہستہ زندگی کی مصروفیات بڑھتی گئیں، ذمہ داریاں آئیں، اور وہ شوق کہیں پیچھے رہ گیا۔ نہ یہ کہ جان بوجھ کر چھوڑا، بس خود ہی چھوٹتا چلا گیا۔
کیا اب بھی کوئی ایسا مشغلہ ہے جو آپ کے شب و روز کوقدرے بہتر بنا دیتا ہو، یا کوئی پرانا شوق جو دل میں کہیں اب بھی زندہ ہو مگر وقت یا توجہ کا فقدان ہو۔
دل چاہے تو چند سطریں لکھ دیجیے۔ ہو سکتا ہے کسی کا لکھا ہوا جواب کسی اور کو اپنا بھولا بسرا شوق یاد دلا دے، یا کم از کم یہ احساس ہو جائے کہ ہم اس معاملے میں اکیلے نہیں۔
ہم تو اب بھی اپنے پُرانے لکھے خط نکالتے ہیں جو اماں کو لکھے جب وہ بھائی کے پاس کینڈا گئیں پھر بھائی انڈونیشیا سٹیل ہوگئے تو بھی جاتیں تھیں اُنکے پاس تو اُنکے لکھے خط دوبارہ پڑھنا ہمارا مشغلہ ہے سبین بھی اماں یعنی اپنی نانی کے نام خط لکھا کرتیں تھیں ۔۔اُنکے انتقال کے بعد اُنکی لکھی ہر چیز ہمارا سرمایہ ہے بار بار پڑھتے ہیں ۔۔۔۔اور اُُنکی یادوں میں کھو جاتے ہیں ۔۔۔یا پھر پُرانی لکھی ڈائیریاں پڑھنا اب بھی ہمارا پسندیدہ مشغلہ ہے جو ٹیلیفون آنے کے بعد بھی اُسی طرح جاری و ساری ہے ۔۔۔۔
سیما آپا ، میں بھی نوادرات جمع کرنے کاشوقین ہوا کرتا تھا کبھی۔
میں نے تو بطور مزاح لکھا تھا۔ ظاہر ہے کہ آدمی زنانہ لباس کیسے پہن سکتا ہے اور وہ بھی لیڈی ڈایانا کا ۔
بھیا آج گھر پہ نہیں ہیں ۔۔کل ان شاء للہ دکھائیں گے جو میکا ئیل کا مفلر بنُا ہے اور اپنی دوست کے لئے دوپٹہ کاڑھا ہے شیڈو ورک کا ۔۔۔گھر پہنچتے ہیں تو دکھاتے ہیں ۔۔۔۔