اکثر کہا جاتا ہے کہ لوگ اب مطالعہ نہیں کرتے ہیں۔ کتابیں نہیں پڑھتے، طویل تحریریں دیکھ کر پڑھنا ترک کر دیتے ہیں، اور صرف سرسری نظر ڈال کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے، مگر شاید تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔
آج بہت سے لوگ مکمل کتاب یا لمبا مضمون نہیں پڑھتے، مگر روزانہ درجنوں اقتباسات، جملے، فقرے اور مختصر تحریریں پڑھ لیتے ہیں۔ سوشل میڈیا ہو یا فورمز، ایک ایک جملہ رک کر پڑھا جاتا ہے، کبھی سوچا جاتا ہے، کبھی محفوظ کر لیا جاتا ہے، اور کبھی اسی ایک جملے پر گفتگو شروع ہو جاتی ہے۔
سوال یہ بنتا ہے کہ کیا اس طرح کے اقتباسات یا مختصر تحریروں کو پڑھنا بھی مطالعے میں شمار ہو گا؟
اگر کوئی شخص ایک اچھا جملہ پڑھ کر رک جائے، اس پر سوچے، یا اس پر بات کرے، تو کیا یہ مطالعے کی ایک شکل نہیں؟
ظاہر ہے، یہ کتاب کے مطالعے کا نعم البدل نہیں ہو سکتا، مگر شاید یہ مطالعے کی ایک مختلف صورت ہے۔ ممکن ہے یہی مختصر ‘مطالعہ’ کسی کو طویل تحریر یا مکمل کتاب کی طرف لے جائے۔
آپ کیا سمجھتے ہیں؟
کیا اقتباسات، جملے اور مختصر تحریریں پڑھنا مطالعے کے دائرے میں آتا ہے؟
یا مطالعہ تب ہی مکمل ہوتا ہے جب پوری کتاب یا مضمون پڑھا جائے؟
مطالعے کی اصل روح سمجھنا، سوچنا اور سیکھنا ہے، نہ کہ صرف زیادہ متن پڑھ لینا، صفحات کی گنتی بڑھانا یا پھر پوری کتاب پڑھ لینا۔
اگر کوئی شخص سوشل میڈیا یا کسی فورم پر ایک جملہ پڑھ کر رک جاتا ہے، اس کے مفہوم پر غور کرتا ہے، اس سے سوال جنم لیتے ہیں یا گفتگو شروع ہو جاتی ہے، تو یہ بھی مطالعے ہی کی ایک صورت ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ مکمل کتاب یا طویل تحریریں ۔۔۔گہرائی اور تسلسل کے ساتھ وسیع تناظر فراہم کرتی ہیں لیکن مختصر اقتباسات، جملے اور چھوٹی تحریریں بھی ذہن کو جھنجھوڑنے، توجہ پیدا کرنے اور نئے خیالات کا دروازہ کھولنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ کئی بار ایسا ہی ایک مختصر سا جملہ کسی قاری کو پوری کتاب تک لے جاتا ہے۔اس لیے یہ کہنا درست ہو گا کہ مختصر تحریریں پڑھنا مطالعے کا مکمل بدل تو نہیں، مگر مطالعے کے دائرے سے باہر بھی نہیں۔ یہ مطالعے کی ایک ابتدائی، مختلف اور جدید صورت ہے، جو آج کے تیز رفتار دور میں لوگوں کو سوچنے اور سیکھنے سے جوڑے رکھتی ہے۔
یوں کہہ سکتے ہیں کہ مطالعہ تب ہی معتبر نہیں ہوتا جب پوری کتاب پڑھی جائے، بلکہ مطالعہ وہاں شروع ہوتا ہے جہاں قاری سوچنے لگتا ہے ۔ چاہے وہ سوچ ایک جملے سے جنم لے یا ایک کتاب سے۔
کتاب کا تعلق انسان کے ساتھ جسم اور روح کی مانند ہمیشہ جُڑارہے گا۔ انسان کو تمام تر طاقت کتاب سے حاصل ہوتی ہے۔ کتاب کو پڑھ کر وہ اپنی اصلاح کرتا ہے، اپنی فکر بناتا ہے اور مخلوقِ خدا کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ گویا کتاب کے بغیر انسان ناقص ہے۔ الله تبارک وتعالیٰ نے اسی لیے قسم کھاتے ہوئے قرآن مجید میں فرمایا:﴿نوَالْقَلَمِ وَمَا یَسْطُرُونَ﴾․(1/68)
”نون(حقیقی معنی الله اور رسول صلی الله علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)، قلم کی قسم اور اس (مضمون) کی قسم جو ( فرشتے) لکھتے ہیں“۔
”جب ہمیں کوئی نئی کتاب ملتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے گویا مجھے کوئی خزانہ مل گیا ہے۔“
یہ تمام تفصیل اس لئے فراہم کی ہیں ۔۔مطالعہ کا مفہوم یہ ہے ۔۔۔
آج انٹرنیٹ کے دو رمیں بھی ترقی یافتہ ممالک میں کتابیں پڑھنے کے رحجان میں غیر معمولی کمی نہیں ہوئی۔ وہاں زیادہ تر گھروں میں کتابوں کا کچھ نہ کچھ ذخیرہ دکھائی دیتا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کتاب ان کی ضروریات زندگی میں شامل ہے۔
کتابیں ہماری محسن اور غم خوار ہیں۔ گوشہٴ تنہائی میں ہمارے لیے ایک بہترین انیس ثابت ہوتی ہیں۔
توہمارے خیال میں اقتباسات، جملے اور مختصر تحریریں پڑھنا بھی مطالعے کے دائرے میں تو آتا ہے—لیکن یہ مطالعے کی ایک قسم ہے، مکمل مطالعہ نہیں۔۔۔
اقتباس، ایک جملہ یا مختصر تحریر دراصل کسی بڑے متن کا نچوڑ ہوتی ہے..اس سے خیال کی ایک جھلک ملتی ہے ۔۔۔
اسطرح کے مطالعے میں گہرائی وُآگہی کم ہے ۔۔
پورا مضمون یا کتاب پڑھتے ہیں تو مصنف کا پورا فکری نظام سامنے آتا ہے۔ہماری نظر میں یہی فرق ہے .