حُطام دنیا اور ہجوم اِدبار‎

دو ہزار سترہ کی بات ہے۔ رات کی ملازمت، جون کی شدید گرمی، بجلی کی عدم دستیابی اور رمضان کریم کے روزے۔اس پر ستم یہ کہ جس مکان میں رہائش تھی وہ بھی چند دن قبل ہی کرایہ پر لیا تھا۔ سو گردو نواح میں بھی جان پہچان نہ تھی۔ گھر کےاندر لگے پودوں کی کٹائی ہونے والی تھی اور گیٹ کے باہر گھاس بھی کافی بڑی ہو چکی تھی۔شاید پرانے رہائشیوں نے لان اور پودوں پر کچھ توجہ نہ دی تھی یا پھر مکان ایک مدت سے خالی تھا۔ میں نے اس کام کو چھٹی والے دن کے لیے اٹھا رکھا تھا۔ رات کو کام سے واپس آ کر سحری کرتا، اور پھر جب بستر پر گرتا تو سویا اور مویا والی بات برابر ہوجاتی۔ ایسے ہی دنوں میں ایک دن جانے کب اطلاعی گھنٹی بجنی شروع ہوئی۔ مجھے سے ملنے کون آیا ہوگا؟ رہرو ہوگا کہیں اور چلا جائے گا۔ میں نے سر کو تکیے کے اندر دھنسانے کی کوشش کی۔ مگر گھنٹی بجانے والا بھی شاید قسم کھا کر آیا تھا۔ آخر میں بڑبڑاتا ہوا باہر گیٹ تک آگیا۔ چھوٹا دروازہ کھول کر باہر نکلا تو ایک لڑکا ٹوٹی ہوئی سائیکل لیے کھڑا تھا۔ سائیکل کے پیچھے اس نے پودے تراشنے والی قینچی اور گھاس کاٹنے والی مشین لاد رکھی تھی۔مسیں ابھی مکمل نہیں بھیگی تھیں۔ میں نے اس کو گھورتے ہوئے کہا۔ کیا مسئلہ ہے، اس طرح گھنٹی بجائی جاتی ہے؟ اس نے بغیر ڈرے جھجکے کہا۔ دس منٹ سے گھنٹی بجا رہا ہوں۔ اور آپ اب اٹھ کر آئے ہیں۔ اس کے اعتماد اور مسکراہٹ نے میرے غصے کو حیرانی میں بدل دیا۔
کیا چاہتے ہو؟ میں نے سنجیدگی سے سوال کیا۔
پودوں کی چھانٹی ہونے اور گھاس کی کٹائی ہونے والی ہے۔ اس نےلان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے میری معلومات میں اضافہ کیا۔
مجھے نہیں کروانی۔ میں ابھی کچھ دیر قبل ہی دفتر سے آکر سویا ہوں لہذا اب بیل مت بجانا اور نہ ہی مجھے تنگ کرنا۔ میں نے مڑتے ہوئے کہا۔
ارے! کیسے نہیں کام کروانا؟ اتنے برے لگ رہے ہیں پودے اور یہ گھاس۔ اس نے ایسے حیران ہو کر کہا جیسے میں نے انتہائی احمقانہ بات کی ہے۔ اور آپ سے پہلے جو رہتے تھے وہ بھی مجھ سے کام کرواتے تھے۔ اس نے میری معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا۔
دل نے کہا کہ نیند تو خراب ہو ہی گئی ہے۔ یہ کام یوں بھی کروانا تھا سو بہتر ہی ہوگیا۔
اس کام کے کتنے روپے لو گے؟ میں نے پوچھا۔
اس نے مزدوری بتائی تو میں نے کہا۔ ٹھیک ہے۔ صاف کر دو۔ اور یہ خزاں رسیدہ پتے بھی سارے پورچ میں سے اکھٹے کر دینا۔
وہ لڑکا تندہی سے اپنے کام میں جت گیا۔ کیاریاں صاف کیں۔ پودوں کی چھانٹی کی۔ قریباً دو گھنٹے بعد اطلاعی گھنٹی دوبارہ بجی۔ میں باہر نکلا تو لان کی شکل ہی بدلی ہوئی تھی۔ میں نے اس کو مزدوری دی اور وہ چلا گیا۔
اس بات کے تین چار دن گزر جانے کے بعد میں ایک شام دفتر جانے کی تیاری میں مصروف تھا کہ اطلاعی گھنٹی بجی۔ باہر نکلا تو وہی لڑکا کھڑا تھا۔
ابھی تو کٹائی کی ضرورت نہیں ہے۔ پھریہ اتنی جلدی کیوں آیا؟ میں نے دل میں سوچا۔
السلام علیکم! میں نے اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔
وعلیکم السلام! اور خاموش کھڑا خالی نظروں سے مجھے دیکھنے لگا۔
میں نے ایک نظر اس پر ڈالی اور سوچا شاید اس دن میں نے اس کو مزدوری نہیں دی ، بھول گیا ہوں گا۔
مزدوری دی تھی میں نے اس دن؟ میں نے سوالیہ انداز میں کہا۔
جی! مزدوری آپ نے دے دی تھی۔ اس نے آہستہ سے جواب دیا۔
اچھا بولو! کیا بات ہے؟ میں نے اس کی پریشانی بھانپتے ہوئے نرم لہجے میں کہا۔
وہ مجھے کچھ راشن لینا ہے۔ آپ لے دیں گے تو بہت مہربانی ہوگی۔ آج مزدوری نہیں لگی کہیں بھی۔ اس نے گڑبڑاتے ہوئے انتہائی شرمندہ انداز میں کہا۔ نظریں مسلسل زمین پر گڑی ہوئی تھیں۔
یار کسی اور کا دروازہ کھٹکھٹا لو۔ میں اپنے دفتر کے لیے نکل رہا ہوں۔ میں نے اس کو سرد لہجے میں جواب دیا۔ اور واپس مڑا۔
آپ سے ضرورت بیان کر دی ہے۔ اب ہر کسی سے ضرورت نہیں کہہ سکتا۔ اس کی رو دینے والی آواز نے میرے پاؤں جکڑ لیے۔ میں نے ایک نظر اس پر ڈالی اور کہا اچھا رکو۔
اندر سے بٹوہ اٹھا کر لایا اور اس کو روپے دینے کی کوشش کی۔
نہیں! روپے نہیں چاہییں۔ اس نے میرا ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا۔
تو پھر؟ میں نے حیرانی سے اس کو دیکھا۔
میرے ساتھ دکان پر چلیں۔ وہاں سے کچھ راشن لے دیں۔ بس۔ اس نے آہستہ سے کہا۔
عجیب بیہودہ لڑکا ہے۔ میں نے دل ہی دل میں کہا۔ اور پھر کچھ سوچ کر اس کے ساتھ چل پڑا۔ چلو۔
وہ اپنا سائیکل تھامے میرے ساتھ ساتھ چل پڑا۔
دکان پر آکر اس نےدکاندار سے ایک پاؤ گھی، پاؤ چینی اور ایک دس روپے والی پتی اور آدھ پاؤ دال کا کہا۔
میں نے حیرت سے اسے دیکھا۔ اور کہا۔ کلو دو کلو لے لو۔ دو تین دن تو گزریں گے۔ اس سے کیا بنے گا۔
آج ضرورت اشد تھی ورنہ میں دست دراز نہ کرتا۔ کل کا سبب اللہ کرے گا۔ آپ پر بوجھ ڈالنا مقصد نہیں ہے۔ اپنی ضرورت سے زائد نہیں لے سکتا۔ اس کی آواز مجھے بہت دور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔ میں نے اس کو دکان سے باہر نکل کر کچھ روپے دینے کی کوشش کی تو ہنس پڑا۔ روپے لینے ہوتے تو گیٹ سے ہی لے لیتا۔ مجھے ضرورت کی چیزیں دلانے کا شکریہ۔ اللہ آپ کو بہت برکت دے۔ وہ لڑکا یہ کہہ کر چلا گیا تھا۔ لیکن مجھے ہمیشہ کے لیے سوچ میں چھوڑ گیا۔
ہمارے شب و روز اس حقیقت کے غماز ہیں کہ ہم ایک ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں نفسانفسی نے ہر سمت اپنے پنجے گاڑ دیے ہیں۔ زندگی کی رفتار اس قدر تیز ہو چکی ہے کہ ہم اپنی اصل سے دور اور اپنی ذات کے اندرونی سکون سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ ہمارا نظامِ تعلیم ہمیں مادی وسائل کے حصول کے گُر تو سکھاتا ہے، لیکن روح کی آبیاری اور قلب کی تطہیر سے غافل ہے۔ یہی غفلت ہمارے اندر مادیت پرستی کے بیج بوتی ہے، وجودی اضطراب کو جنم دیتی ہے اور بے صبری کے شجر کو ثمر بار کرتی ہے۔ صبر، انتظار اور توکل۔۔۔ یہ وہ عناصر ہیں جو کبھی قلب کو روشنی بخشتے تھے، مگر آج ان کی ضیاء مدہم سے مدہم تر ہوتی جا رہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ عقل اور سائنس کے جدید معیارات نے ان عناصر پر کاری ضرب لگائی ہے۔ توکل کی روح کو کمزور کر دیا ہے، اور انسان کو یہ دھوکہ دیا ہے کہ کائنات کے چھوٹے سے گوشے کو تسخیر کر کے وہ سب کچھ پا سکتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ غرورِ تسخیر انسان کو فریبِ نظر میں مبتلا کر کے اس کے وجود کو مزید کمزور، بے سکون اور بحران زدہ بنا رہا ہے۔ بدعنوانی، کرپشن اور ظلم اب محض الفاظ بن کر رہ گئے ہیں، جن کی معنویت کتابوں کے اوراق تک محدود ہو چکی ہے۔ خواہشات کی یلغار نے سماجی اکائیوں کو برہنہ کر دیا ہے۔ ہر شخص کل کو محفوظ کرنے کے جنون میں آج قربان کر رہا ہے، حالانکہ کل کی خبر نہ کبھی تھی اور نہ ہوگی۔صاحب اقتدار طبقہ جس وقاحت بےپایاں، سفاکی گفتار اور بےشرمیِ مفرطانہ سے خود کو بلند و بالا اور ناقابل گرفت بنانے کی دھن میں سماج اور قومی سکون و قرار کو تاراج کر رہا ہے، اس پر مجھے بزرگوں کی یہی بات یاد آتی ہے کہ جب عقل جزوی اور مادی تقاضے اہل سیادت پر قبضہ جما لیں، تو روحانی و سماجی اقدار دمِ واپسیں کو پہنچتی ہیں اور معاشرہ تباہی و پستی کی طرف اترتا نہیں گرتا ہے۔ لیکن یہ بھی مسلم حقیقت ہے کہ یہ اہل تمکنت اپنے ہی دستِ تدبیر سے تراشیدہ آدرش نگر میں اجنبی و بیگانے ہوجاتے ہیں۔
میں گزشتہ کئی بر س سے نئے سال پر ارادے باندھنے کےعمل کو ایک غیر ضروری چیز قرار دے کر اس سے منہ موڑ چکا ہوں، لیکن اس برس ایک بار پھر سے میرا ارادہ ہے کہ اہلِ اقتدار کی ہوس، اداروں کی سخت گیری اور معاشرتی بےحسی اپنی جگہ، مگر میں اپنے آج کو کل کی نذر نہیں کروں گا۔ میں توکل کو اپنا زادِ راہ بناؤں گا، صبر و مروت کے چراغ کو بجھنے نہیں دوں گا، اور جہاں تک ممکن ہو، ان اقدار کے احیا کے لیے کوشاں رہوں گا۔ ہمیں ضرورت ہے کہ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں، توکل کو نئے سرے سے سمجھیں، اور معاشرتی اکائیوں کو ازسرِ نو سنواریں ۔ آج سورج چھپا ہوا ہے، لیکن نئے سال کے پہلے دن مجھے امید ہے کہ سورج امید بھری کرنیں لائے گا۔ اس برس کے لیے میرا پیغام اچھی امیدیں رکھنا اوربہتری کے لیے کوشاں رہنا ہے۔

نیرنگ خیال
۱ جنوری ۲۰۲٦

NewYearPicture.png

5 پسندیدگیاں

ماشاء اللہ اچھی تحریر ہے۔ آپ کی تحاریر اکثر و بیشتر تحریک ضرور پیدا کرتی ہیں لیکن ہماری طبیعت بھی خاصی پختہ ہو گئی ہے جو گھوڑے بیچ کر سو رہتی ہے۔
بہرحال آپ کی تعریف تو بنتی ہے ۔۔۔۔۔

2 پسندیدگیاں

دل افسردہ بھی ہوا، مگر تحریر میں ایسا بہت کچھ ہے جس سے سیکھنے کا موقع ملا۔ واقعی، ہمیں اپنی اصلاح کی سخت ضرورت ہے۔ صد شکر کہ سال کے شروعات میں ایسی عمدہ تحریر پڑھنے کو ملی۔ دعائے سلامتی۔

2 پسندیدگیاں

شکرگزار ہوں رؤف بھائی

1 پسند

پذیرائی پر سراپا سپاس ہوں

1 پسند

نین بھیا بہت عمدہ تحریر۔۔۔۔یوں بولیں کہ ہمارے عہد کی فکری، اخلاقی اور روحانی بے سمتی کی نہایت گہری اور بامعنی تصویر پیش کر رہی ہے۔

آپ نے جس طرح مادیت، تیزرفتار زندگی اور روحانی خلا کے باہمی ربط کو بیان کیا ہے، وہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہم ترقی کے نام پر اصل انسانیت سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ توکل، صبر اور انتظار جیسی اقدار کو کمزوری سمجھ لینا دراصل ہماری فکری ناپختگی کا اظہار ہے، کیونکہ یہی اقدار تو انسان کو اس کی ذات کا اندرونی سکون و استحکام فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے کو اخلاقی توازن عطا کرتی ہیں۔

آپ کا یہ فیصلہ کہ اجتماعی زوال کے باوجود اپنے آج کو قربان نہ کیا جائے، ایک خاموش مگر طاقتور مزاحمت ہے۔امید کا چراغ اسی وقت روشن رہتا ہے جب انسان حالات کے اندھیرے میں بھی اپنے اصولوں سے دستبردار نہ ہو۔ آپ کی بات یہ احساس دلاتی ہے کہ شاید نجات کسی بڑے انقلاب میں نہیں، بلکہ فرد کے اندر جنم لینے والی اسی ذمہ دار امید میں پوشیدہ ہے۔

دعا ہے کہ ہم بھی نئے سال میں اپنے حصے کا چراغ جلانے کی کوشش کرتے رہیں تو شاید مکمل اجالا نہ سہی، مگر راستہ ضرور دکھائی دینے لگے۔

3 پسندیدگیاں

نین بھیا بہت عمدہ تحریر ۔۔۔ہمیشہ کی طرح بے حد حساس اور دل پر اثر کرنے والی ۔اللہ تعالیٰ آپکو اپنی امان میں رکھے آمین

1 پسند

اظہار خیال پر ممنون ہوں پتری۔۔۔۔ جیتی رہو۔

2 پسندیدگیاں

شکریہ آپا۔۔۔ آپ کا آشیر واد ملتا رہنا چاہیے۔

1 پسند