امید ہے کہ سب خیر و عافیت سے ہوں گے۔ ابھی @یاسمین_سکندر کی ایک پوسٹ سانوں کیہ تے تہانوں کیہ دیکھی جس میں انھوں نے ہمارے تکیہ کلام سانوں کیہ تے تہانوں کیہ کا ذکر کیا۔ اور پھر محسن نقوی کی ایک نظم شئیر کی۔ یہیں پر بات ختم نہیں ہوئی۔ ایک کچی پکی نظم لکھ کر خود ہی واہ واہ بھی کر ڈالی۔ حالانکہ ہم بھی واہ واہ ہی کرتے مگر سانوں کیہ تے تہانوں کیہ کہنے کے بعد۔
بات چل ہی نکلی ہے تو کہاں تک جائے گی؟ ٹھیک سمجھے آپ کہ وہیں تک جائے گی جہاں تک ہم لے جانا چاہیں گے۔ تو آئیے ذرا اس تکیہ کلام کے استعمال کے کچھ مواقع پر نظر ڈالتے ہیں اس امید کے ساتھ کہ آپ بھی اپنا حصہ ڈالیں گے۔
ڈنکمار سے محترمہ گل یاسمین نے حسبِ معمول ایک انتہائی اہم مسئلے پر موم بتی کی روشنی ڈالی ہے۔اس معلوماتی دھاگے کا بہت شکریہ!
اس دھاگے کو لپیٹنے کے بعد معلوم ہوا کہ تہانوں کیہ دراصل کس موقع پر بولا جاتا ہے ۔ ورنہ اس سے پہلے تو اِن صاحب نے ہمیں کچھ اور ہی پڑھا رکھا تھا۔
میرے دھاگے “سانوں کیہ تے تھانوں کیہ” اور @گل_یاسمین کے موجودہ دھاگے کے سب لطیفوں سے بڑا لطیفہ آپ نے بھیجا ہے ظہیر بھائی! زبردست پہ ڈھیروں زبریں۔ ہنسانے ، مسکرانے کے لیے دعائیں۔