ہم تا بہ ابد سعی و تغیر کے ولی ہیں
ہم مصطفوی، مصطفوی، مصطفوی ہیں
عالی جی
ہم تا بہ ابد سعی و تغیر کے ولی ہیں
ہم مصطفوی، مصطفوی، مصطفوی ہیں
عالی جی
آؤ بچو، سیر کرائیں تم کو پاکستان کی
جس کی خاطر ہم نے دی قربانی لاکھوں جان کی
پاکستان زندہ باد! پاکستان زندہ باد!
زمیں کی گود رنگ سے امنگ سے بھری رہے
زمیں کی گود رنگ سے امنگ سے بھری رہے
خدا کرے
خدا کرے
خدا کرے ۔۔۔!!!
خدا کرے ۔۔۔!!!
آپا ائک فنکار افراہیم بھی تو ہوا کرتے تھے ۔ یاد ہے ؟
زمیں کی گود والے۔
بالکل بھیا یہ اُنکا ہی گایا ہوا ہے ۔۔۔بعد میں اوروں نے بھی گایا۔۔۔۔
یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران
اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان
اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان
تیرا احسان ہے تیرا احسان
ہر سمت مسلمانوں پہ چھائی تھی تباہی
ملک اپنا تھا اورغیروں کے ہاتھوں میں تھی شاہی
ایسے میں اُٹھا دینِ محمد کا سپاہی
اور نعرہ تکبیر سے دی تُو نے گواہی
اسلام کا جھنڈا لیے آیا سرِ میدان
اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان
اتنے بڑے جیون ساگر میں
تُو نے پاکستان دیا
ہو اللہ، ہو اللہ، ہو اللہ، ہو اللہ
اتنے بڑے جیون ساگر میں۔۔۔
شاہ لطیف سے برکت پائے
الن لے علی کی دعائیں
جن کو رب نےایمان دیا
تو نے پاکستان دیا
ساحل اترا بیچ بھنور میں
اک نیا امکان دیا
تُو نے پاکستان دیا
ہو اللہ، ہو اللہ، ہو اللہ، ہو اللہ
اتنے بڑے جیون ساگر میں
تُو نے پاکستان دیا
ہو اللہ، ہو اللہ، ہو اللہ، ہو اللہ
اتنی مشکل راہگزر میں
اتنے کٹھن دشوار سفر میں
بڑھنے کا ارمان دیا
تُو نے پاکستان دیا
ہو اللہ، ہو اللہ، ہو اللہ، ہو اللہ
جمیل الدین عالی
اے وطن پاک وطن ۔
اس نغمے سے زیادہ مجھے کوئی ملی نغمہ پسند نہیں
ویسے بچپن میں ہم شرارت کی غرض سے پیارے وطن اور پاک وطن کے بجائے “پاک پتن “ بھی کہتے تھے ۔
واقعی بہت ہی خوبصورت ملی نغمہ ہے ۔۔۔
محبت امن ہے اور امن کا پیغام، پاکستان
ان نغموں کی بدولت بچپن کی سیر ہو گئی ![]()
نئے دِنوں کی مُسافتوں کو اُجالنا ہے
وفا سے آسُودہ ساعتوں کو سنبھالنا ہے
سنبھالنا ہے
سوہنی دھرتی سوہنی دھرتی
اللہ رکھے
قدم قدم آباد
قدم قدم آباد تجھے
سوہنی دھرتی سوہنی دھرتی
اللہ رکھے
تیرا ہر اک ذرہ ہم کو اپنی جان سے پیارا
تیرے دم سے شان ہماری تجھ سے نام ہمارا
جب تک ہے یہ دنیا باقی ہم دیکھیں آزاد تجھے
سوہنی دھرتی سوہنی دھرتی
اللہ رکھے
قدم قدم آباد
قدم قدم آباد تجھے
قدم قدم آباد تجھے
دھڑکن دھڑکن پیار ہے تیرا
قدم قدم پر گیت رے
دھڑکن دھڑکن پیار ہے تیرا
قدم قدم پر گیت رے
بستی بستی تیرا چرچا نگر نگر اے میت رے
جب تک ہے یہ دنیا باقی ہم دیکھیں آزاد تجھے
سوہنی دھرتی سوہنی دھرتی
اللہ رکھے
قدم قدم آباد
قدم قدم آباد تجھے
قدم قدم آباد تجھے
سوہنی دھرتی اللہ رکھے
تیری پیاری سج دھج کی ہم اتنی شان بڑھائیں
آنے والی نسلیں تیری عظمت کے گن گائیں
جب تک ہے یہ دنیا باقی ہم دیکھیں آزاد تجھے
سوہنی دھرتی سوہنی دھرتی
اللہ رکھے
قدم قدم آباد
قدم قدم آباد تجھے
قدم قدم آباد تجھے
سوہنی دھرتی اللہ رکھے
مسرور انور
چاند میری زمیں، پھول میرا وطن
میرے کھیتوں کی مٹی میں لعلِ یمن
میرے ملاح لہروں کے پالے ہوئے
میرے دہقاں پسینوں کے ڈھالے ہوئے
میرے مزدور اس دور کے کوہکن
چاند میری زمیں پھول میرا وطن
میرے فوجی جواں جرّاتوں کے نشاں
میرے اہلِ قلم عظمتوں کی زباں
میرے محنت کشوں کے سنہرے بدن
چاند میری زمیں پھول میرا وطن
میری سرحد پہ پہرہ ہے ایمان کا
میرے شہروں پہ سایہ ہے قرآن کا
میرا ایک اک سپاہی ہے خیبر شکن
چاند میری زمیں پھول میرا وطن
میرے دہقاں یونہی ہل چلاتے رہیں
میری مٹی کو سونا بناتے رہیں
گیت گاتے رہیں میرے شعلہ بدن
چاند میری زمیں پھول میرا وطن
ساقی جاوید
یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے
یہ چمن تمہارا ہے، تم ہو نغمہ خواں اس کے
اس چمن کے پھولوں پر رنگ و آب تم سے ہے
اس زمیں کا ہر ذرہ آفتاب تم سے ہے
یہ فضا تمہاری ہے، بحر و بر تمہارے ہیں
کہکشاں کے یہ جالے، رہ گزر تمہارے ہیں
اس زمیں کی مٹی میں خون ہے شہیدوں کا
ارضِ پاک مرکز ہے قوم کی امیدوں کا
نظم و ضبط کو اپنا میرِ کارواں جانو
وقت کے اندھیروں میں اپنا آپ پہچانو
یہ زمیں مقدس ہے ماں کے پیار کی صورت
اس چمن میں تم سب ہو برگ و بار کی صورت
دیکھنا گنوانا مت، دولتِ یقیں لوگو
یہ وطن امانت ہے اور تم امیں لوگو
میرِ کارواں ہم تھے، روحِ کارواں تم ہو
ہم تو صرف عنواں تھے، اصل داستاں تم ہو
نفرتوں کے دروازے خود پہ بند ہی رکھنا
اس وطن کے پرچم کو سربلند ہی رکھنا
یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے
یہ چمن تمہارا ہے، تم ہو نغمہ خواں اس کے
میں بھی پاکستان ہوں
تو بھی پاکستان ہے
تُو تو میری جان ہے
تُو تو میری آن ہے
تُو میرا ایمان ہے
کہتی ہے یہ راہِ عمل
آؤ ہم سب ساتھ چلیں
مشکل ہو یا آسانی
ہاتھ میں ڈالیں ہاتھ
چلیں
سورج ہے سرحد کی زمیں
چاند بلوچستان ہے
میں بھی پاکستان ہوں
تو بھی پاکستان ہے
گلشن ہو یا پربت ہو
ہم سے کوئی دور نہیں
دل کس
کی تعریف کرے
ہر گوشہ ہے آپ حسین
دھڑکن ہے پنجاب اگر
دل اپنا مہران ہے
میں بھی پاکستان ہوں
تو بھی پاکستان ہے
اپنی جاں نظر کروں اپنی وفا پیش کروں
آواز مہدی حسن
اے مرے پیارے وطن
اے وطن پیارے وطن
تجھ سے ہے میری تمناؤں کی دنیا پُرنور
عزم میراہےقوی، میرے ارادے ہیں غیور
میری ہستی میں انا ہے، مری مستی میں شعور
جاں فزا میرا تخیل ہے تو شیریں ہے سخن
اے مرے پیارے وطن
اے وطن، پیارے وطن، پاک وطن، پاک وطن
اے مرے پیارے وطن
اے وطن پیارے وطن
تُو، دل افروز بہاروں کا تر و تازہ چمن
تُو مہکتے ہوئے پھولوں کا سہانا گلشن
تُو نواریز عنا دل کا بہاری مسکن
رنگ و آہنگ سے معمور ترے کوہ و دمن
اے مرے پیارے وطن
اے وطن، پیارے وطن، پاک وطن، پاک وطن
اے مرے پیارے وطن
اے وطن پیارے وطن
چاند میری زمیں، پھول میرا وطن
میرے کھیتوں کی مٹی میں لعلِ
یمن
میرے ملاح لہروں کے پالے ہوئے
میرے دہقاں پسینوں کے ڈھالے ہوئے
میرے مزدور اس دور کے کوہکن
چاند میری زمیں پھول میرا وطن
میرے فوجی جواں جرّاتوں کے نشا
ں
میرے اہلِ قلم عظمتوں کی زباں
میرے محنت کشوں کے سنہرے بدن
یرے شہروں پہ سایہ ہے قرآن کاچاند میری زمیں پھول میرا وطن
میری سرحد پہ پہرہ ہے ایمان کا
م
میرا ایک اک سپاہی ہے خیبر شکن
چاند میری زمیں پھول میرا وطن
میرے دہقاں یونہی ہل چلاتے رہیں
میری مٹی کو سونا بناتے رہیں
گیت گاتے رہیں میرے شعلہ بدن
چاند میری زمیں پھول میرا وطن
ساقی جاوید