“کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی”۔
سمندر جب اپنا جھاگ چھوڑ جائے یا دریا کی روانی ٹھہر کر اپنی لہریں گننے لگے، ساحل غفلت کی چادر اوڑھے سوتا رہے تو مچھلیاں پیڑوں پر بسیرا کر لیتی ہیں اور ابابیلیں صحرا کی طرف نکل جاتی ہیں کیوں کہ سمندر بھی ایک دن سوکھ کر صحرا بن جائے گا اور انسان اپنی پیاس بجھانے کیلئے انسانی لہو کا طالب ہوگا ایسے ہی جیسے کہ کوئی نشئی دم لگا کر تصور و تخیل کی اس دنیا میں داخل ہوجائے کہ جہاں وہ اپنے اطراف سے کٹ کر کسی سنڈریلا کے ساتھ وقت گزار سکے اور اگر ممکن ہو تو کسی سلیپنگ بیوٹی کو جگا کر اسکے ساتھ ڈاونچی کی تجرید سے لطف اندوز ہو لیکن جو خوبصورتی مونا لیزا کی مسکراہٹ میں ہے وہی حسن لیلہ کی رنگت میں بھی ہے مگر کوئی ہیر کو سمجھائے کہ اب کوئی بھی ونجھلی کی میٹھی تان سن کر نہیں آتا اور اب کوئی فرہاد کسی پہاڑ کی کوکھ سے دودھ کا دریا نکالنے کی کوشش نہیں کرتا کیونکہ خشک چھاتیاں دودھ نہیں خون اگلتی ہیں اور غلطیاں بانجھ نہیں ہوتیں بلکہ بچے جنتی ہیں اور یہ بچے شیر مادر پر نہیں بلکہ خون ملت پر پروان چڑھتے ہیں جیسے کسی کنڈر گارٹن میں پلنے والے بچے مامتا کی محرومی کی کمی کسی دوسری عورت میں تلاش کرتے ہیں اور اس دوسری عورت کا مخمصہ ہی درحقیقت کسی مرد کی زندگی اور کسی عورت کا سکون برباد کیے رکھتا ہے اسی سکون کی تلاش میں کسی اجنبی ساحل پر کھڑے کسی آسیب زدہ جہاز میں بیٹھ کر کسی ایسے جزیرے پر جا بسا جائے کہ جہاں ماضی کے بھوت اور مستقبل کی بلائیں رسائی نہ پا سکیں ہاں حال کے آسیب سے چمٹ جانے کی خواہش انسان کو سمندر میں کودنے پر اکساتی رہے خود کشی کی یہ خواہش کہیں ہمیں کسی خلائی جہاز میں بٹھا کر چاند پر نہ پھینک آئے اور ہم وہاں سے زمین پر کودنے کی کوشش میں پھدکتے رہیں اور سمندر کی سطح سے ابھرنے والی کسی مچھلی کی طرح آسمان کی بلندی کو چھونے سے قاصر رہیں اور اوزون کی ہر ہر پرت کو معدوم ہوتے دیکھتے رہیں ، سورج کی سخت شعائیں جب زمین کی چھاتی کو گرمادیں اور سورج سوا نیزے پر آکھڑا ہو تو ہم پر لازم ہوگا کہ ہم دیکھیں اور ہم دیکھیں گے کہ ہمارے سفر کی سمت اس منزل کے مخالف تھی کہ جہاں پر پہنچنا ہم پر لازم تھا ہماری راہ تو ویسے کھوٹی ہوئی کہ جیسے اس بے ربط تحریر میں الجھ کر ہم اپنی زندگی کے قیمتی لمحے برباد کرتے چلے گئے ہاں مگر نکتہ چینوں کی نکتہ وری کا خوف ہمیں اس وقت تک سونے نہیں دے گا کہ جب تک ہمیں نیند نہ آجائے جیسے سمندر تھک ہار کر اپنا جھاگ چھوڑ جائے یا دریا کی روانی ٹھہر کر اپنی لہریں گننے لگے اورساحل غفلت کی چادر اوڑھے سوتا رہے تو ہمیں بھی مچھلیوں کی طرح پیڑوں پر بسیرا کر لینا چاہیے۔
حسیب احمد حسیب