چالیس برس بعد :
ہمارے ایک دوست ہیں، بہت سیدھے اور شریف الطبع۔ یوں سمجھیے کہ یوسفی کی تحریر “نیک چلنی کا سائن بورڈ” کی عملی مثال ہیں۔ لوگوں کی دل آزاری کے معاملات میں اس درجہ احتیاط پسند ہیں، کہ سخت بات کہنی ہو تو اس آدمی کے مرنے کا انتظار کرتے ہیں، جانے کب وہ اس دنیا سے جائے اور یہ اس کی قبر پر جا کر کہیں کہ فلاں دن تو نے اچھا نہیں کیا تھا۔ میرا دل تھا تیرا منہ توڑ دوں، لیکن آج تو مر گیا ہے تو دشمنی ختم کرنے کو تیری قبر کی ایک اینٹ ڈھیلی کر کے جا رہا ہوں۔ ہمارا حساب برابر ہوگیا۔ ہم ان کی اس دشمن دار طبعیت سے بہت نالاں ہیں۔
ابھی آج ہی کی بات لیجیے۔ کسی مصنف پر غصہ تھے۔ فرمانے لگے کہ میرا دل کرتا ہے چالیس برس بعد جب یہ مصنف بوڑھا ہوجائے تو میں اس سے پوچھوں کہ اب بتا! تیری کہانی میں کتنا دم تھا۔ کیا اب بھی تم اپنی کہانی میں بیان کردہ موضوعات پر قائم ہو، کہ جذباتی وابستگی غیر منطقی ہوتی ہے اور کمزور فیصلے کرنے پر مجبور کرتی ہے؟ اب جب تم بوڑھے ہو کر تنہائی کا شکار ہو چکے ہو، اور تمہارے عزیز و اقارب جن سے زندگی بھر کوئی تعلق نہ بنا پائے، ان میں اب کوئی بھی تمہارے پاس نہیں ہے۔ کیا اس وحشت ناک تنہائی میں تمہیں اپنے کیے گئے ان فیصلوں پر ندامت ہے، جن کو تم نے زندگی بھر سودوزیاں کی تگڑی میں تولا ہے؟ جب کھڑکی کے باہر پرندوں کی چہچہاہٹ سنتے ہو، تو کیا تمہیں موسیقی سنائی دیتی ہے یا کسی کرب کا احساس جاگ اٹھتا ہے کہ کاش اس وقت وہ پیارے پاس ہوتے ، جن کی میری لاتعلقی نے مجھ سے دور کر دیا۔ کیا کھانے میں وہ ذائقہ ہے جو تمہیں تمہاری بیوی کے ہاتھوں سے بنے کھانے میں محسوس ہوتا تھا، کہ یہ بےذائقہ کھانا صرف جسم کو گھسیٹنے کے کام آ رہا ہے۔ ان کی باتیں سن کر ہمیں بھی شدید غصہ آگیا، اور دل کیا کہ فوراً سے پیشتر ایسے مصنف کو اس کا مستقبل دکھا دیں، جہاں وہ ایک المناک تنہائی کا شکار ہو کر پلنگ پر لیٹا باہر ساکت درختوں کو دیکھ رہا ہے، اور کوئی عزیز جاں اس کی دیکھ بھال کو نہیں۔ دن کے کسی پہر ایک نرس آتی ہے۔ دوائیاں دے جاتی ہے ۔ گھر کے کام کاج کو ایک نوکرانی ہے جو دن میں ایک وقت آ کر کھانا بنا جاتی ہے اور گھر صاف کر جاتی ہے۔ باقی کا دن اور رات بستر سے کھڑکی تک اور کھڑکی سے بستر تک کی نذر ہوجاتے ہیں۔ بیچ میں پرندوں کی چہچہاہٹ پر نوحوں کا گمان ہوتا ہے۔ گاڑیوں کا شور خواب بہاراں کو پریشان کرتا ہے اور ہوا سے پتوں کے ہلنے کی سرسراہٹ ملک الموت کے قدموں کی چاپ معلوم ہوتی ہے۔ ہمارے دل میں تھا کہ اس مصنف کو کہیں کہ دیواری ساعت کو دیکھو، وہ بھی تمہاری تنہائی کی طرح ٹھہرا ہوا ہے اور تم اس میں نئے برقی سیل ڈالنے میں خود کو اسی طرح بے بس پاتے ہو جیسے اس پرملال تنہائی کے علاج میں۔ دل میں سو سو طرح کی مثالیں تھیں، کہ تنہائی اور ندامت کا ایسا نقشہ کھینچیں گے کہ وہ رو اٹھے گا۔ کانوں میں انگلیاں ٹھونس لے گا اور پکا رکر کہے گا، بخدا! یہاں سے چلے جاؤ۔ میں پہلے ہی اپنی زندگی کے بدترین ایام گزار رہا ہوں۔
لیکن پھر ایکا ایکی کہیں سے ساحر لدھیانوی ٹپک پڑے، اور کہا کہ " مگر یہ ہو نہ سکا اور اب یہ عالم ہے"۔ کیسا عالم! ہم نے کسی پرانی فلمی دوشیزہ کی طرح انگلیاں دانتوں میں دبا کر استعجابیہ انداز میں پوچھا؟ دو باتیں، ایک تو وہ مصنف پہلے ہی بوڑھا تھا، تم نے تحریر چالیس برس بعد پڑھی ہے، دوسرا یہ کہ وہ کافی عرصہ قبل ہی تنہائی کا شکار ہوئے بغیر اس دنیا سے سدھار گیا ہے، اور مرتے دم تک اسی بات پر قائم رہا کہ جذباتی وابستگی کمزور فیصلوں پر مجبور کرتی ہے۔ اس خبر کے ملنے کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ جب بھی وقت ملا اِسے سو کر گزاریں گے، کسی سے نہ ملیں گے۔فارغ وقت میں فارغ رہیں گے ، کچھ نہ لکھیں گے اور سب سے اہم۔ کسی کو برا کہنے کے لیے چالیس برس انتظار تو ہرگز نہ کریں گے۔
نیرنگ خیال
۱۳ ستمبر ۲۰۲۵