صفحہ نمبر 15 سے 25 تک
اول
جب سلطان سلیمان اپنے حلب والے سرمائی محل میں فروکش تھا میں ( یعنی مصنف کتا ب ہذا) مصری بیڑے کا امیر البحر مقرر کیا گیا تھا ۔ اور مجھے وہ جہاز مصر کو واپس لانے کا حکم ہوا جو کچھ عرصہ پہلے بصرہ واقع خلیج فارس کو بھیجے گئے تھے ۔ مگر بقول شخصے کہ ما در چہ خیالیم و فلک درچہ خیال ۔ میں اس سفارت کو پورا نہ کر سکا اور چونکہ مجھے بذریعہ سمندر واپس لوٹنا ناممکن معلوم ہوا ۔ لہٰذا میں نے بذریعہ خشکی سفر کرنے کا ارادہ کیا اور چند وفادار سپاہیوں کے ساتھ گجرات ، ہند و سندھ بلخ زابلستان بدخشان ، ختلان توران اور ایران یعنی اونردی اوکسس آمو خراسان خوارزم اور دشت کفچان کو سفر کرتا ہوا چلا گیا ۔ اور چونکہ اس جانب میں آگے نہیں جا سکتا تھا لہٰذا مشہد اور عراق اور ہمدان سے ہوتا ہوا بغداد پہنچا۔
وہاں ہمارا سفر ختم ہوا اور میرے رفقاء شرکائے سیاحت نے مجھ سے اپنے تجربات اور خطرات قلمبند کرنے کی خواہش ظاہر کی ۔ جو اثنائے راہ میں ہم پر نازل ہوئے ، حالانکہ اب ان دیار و امصار اور مقدس زیارات کا جو ہمیں راستہ میں دیکھنے کا اتفاق ہوا صحیح کیفیت بیان کرنا قریبا ناممکن ہے ۔ تاہم میں نے یہ مختصر رسالہ لکھا ، جس میں میں نے سادہ اور سلیس عبارت میں قسطنطنیہ میں پہنچنے تک اپنے راستہ کی تکالیف و مشکلات اور مصائب کا جو ہم پر نازل ہوئیں تذکرہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اگر کتاب کے مضمون کی طرف دیکھا جائے تو اس کو مصیبت نامہ کہنا بالکل صحیح ہے ، مگر اثنائے راہ میں جو ہمیں مشاہدات کرنے کا موقع ملتا رہا ان کے لحاظ سے میں نے اس کا نام مرات الممالک رکھا ہے ۔
دوم
ابتدائی افسانہ
ماہ رمضان 960 ھ (1552ء) میں جب بادشاہ بمقام حلب دربار میں اجلاس فرما تھے مجھے فوج میں شامل ہونے کا ایماء ہوا۔
میں نے رمضان بیرم ، عید رمضان کی خوشی بادشاہ کے حضور میں منائی مگر پیچھے سیدی غازی کو چلا گیا ۔ قونیہ میں مولائی رومی کے مقبرہ پر گیا اور سلطان العلماء اور شمس تبریز اور شیخ صدرالدین کی زیارات پر گیا اور مقام قصاری میں شیخ واحد الدین کرمانی ، برہان الدین ، بہاؤالدین زیدی ابراہیم اکسریہ کے مقبرے دیکھے اور حلب کو لوٹ کر میں داؤد دبلجیہ اور نبی صاحب کے رفقاء سعد اور سعید کے روضوں پر بھی گیا اور پھر عید قربان کا روز سلطان کے دربار میں بسر کیا۔
یہاں میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ مصری بیڑے کا سابق امیر البحر مسمیٰ پیاری بے بیس جہازوں کی جمعیت کے ساتھ بحر اسود کے بیچ سے سویز کو روانہ کیا گیا تھا اور یہ جدہ او ریمن سے ہوتے ہوئے آبنائے باب المندب کے بیچ سے گزرتے ہوئے عدن اور شہر کے ساحل تک چلا گیا تھا۔ گہر اور طوفانوں کے بیچ سے گزرتے ہوئے اس کے بیڑے کے جہاز بگڑ گئے اور کچھ تباہ ہو گئے اور جو بچے ان کے ساتھ مسقط سے عمان تک گیا اور قلعہ کو مسخر کر کے وہاں کے باشندوں کو اسیر کر لیا ۔ اور جزائر ہرمز اور برخہ پر یورش کر کے مسقط کو لوٹ گیا۔ وہاں اس کے قیدی کپتان کی زبانی معلوم ہوا کہ عیسائی یعنی پرتگالی بیڑہ رواں ہے لہٰذا زیادہ تر توقف کرنا قرین مصلحت معلوم نہ ہوا ،کیونکہ اگر یہ پہنچ گیا تو بندر کو چھوڑنا مشکل ہو گا ۔ چونکہ پہلے ہی دیر ہو چکی تھی اور تمام بیڑے کو بچانا ناممکن نظر آتا تھا ۔لہٰذا یہ تین جہازوں کو آراستہ و پیراستہ کر کے پرتگالیوں کے پہنچنے سے پہلے بھاگ گیا ۔ راستہ میں جہاز بحرین میں ٹکرا کر تباہ ہوا اور یہ بمشکل دو جہاز لے کر مصر کو واپس گیا۔ اور جو بیڑہ بصرہ میں باقی رہ گیا تھا ۔ کباد پاشا نے اس کی کمان چیف افسر کے پیش کی تھی ۔ مگر یہ انکار کر کے خشکی کی راہ سے مصر کو چلا گیا تھا۔
جب یہ خبر قسطنطنیہ میں پہنچی بیڑے کی کمان مراد بے کو مل چکی تھی ۔ یہ شخص پہلے قطیف کا حاکم تھا ۔ اور اس وقت بصرہ میں رہتا تھا ۔ اس کو حکم ہوا کہ دو جہاز پاپلخ گیلی یعنی پال سے چلنے والے جہاز اور ایک گیلئین جہاز بصرہ میں چھوڑ کر باقی یعنی پندرہ گیلی جہاز (جن میں سے ایک بصرہ میں جل گیا تھا) اور دو کشتیاں لے کر مصر کو لوٹ جائے ۔ مراد بے نے اس حکم کی تعمیل کی ۔ مگر افسوس ہرمز کے محاذ میں اس کو کافر(پرتگالی ) بیڑہ مل گیا ۔ اور سخت مقابلہ شروع ہوا جس میں سلیمان رئیس رجب رئیس اور کئی دیگر آدمی شہید اور بے شمار مجروح ہوئے ۔ اور جہاز وں کو گولوں سے سخت نقصان پہنچایا گیا ۔ آخر کار رات کی تاریکی میں مقابلہ ختم ہوا ۔ ایک کشتی فارس کے ساحل پر تباہ ہوئی ، جس کے ملاحوں کا ایک حصہ بمشکل جانبر ہوا اور باقی سب کو کافروں نے قید کر لیا اور وہ کشتی بھی پکڑی گئی ۔
جب یہ خبر وحشت اثر ماہ ذوالحج 960ھ (1552ء) کے اخیر میں دارلخلافہ پہنچی اس وقت اس کتاب کا مصنف مصری بیڑہ کا امیر البحر مامور کیا گیا تھا۔
اس ہمچیز سید علی بن حسین نے جو کتابیں رومی ( مغربی یعنی ٹرکی کا مصنف) مشہور ہے نہایت خوشی سے اس عہدہ کو قبول کیا۔ مجھے سمندر میں رہنے کا بہت شوق تھا ۔ سلطان (سلیمان ) کے زیر روڈس کے مقابلہ پر مہم میں شامل ہوا تھا اور اس کے بعد ہر ایک بحری و بری رزمگاہ میں شریک ہوتا رہا ، حتی کہ خیرالدین پاشا اور سنان پاشا اور دیگر کپتانوں کے ماتحت لڑائیاں کرنے کا مجھے فخر حاصل ہو چکا تھا ۔ اور مغربی ( میڈیٹرین) بحر کے گرد گھومنے سے اس کے کونوں اور کھنڈروں سے خوب واقف ہو چکا تھا۔ میں نے جہاز رانی کے متعلق بحری فن اور علم ہیئت کے مضامین پر کئی کتابیں لکھی تھیں اور قسطنطنیہ کی تسخیر کے بعد میرا باپ اور دادا توپ خانہ گلٹیا کے اہتمام پر مامور رہے ۔ یہ دونوں اپنے پیشہ میں بہت نامور گزرے ہیں اور ان کی قابلیت اور حکمت مجھے میراث میں ملی ہوئی ہے ۔
پس یہ عہدہ میرے مذاق کے مطابق تھا اور میں یکم محرم 961ھ (دسمبر 1553ء) کو حلب سے بصرہ کو روانہ ہوا ۔ اور برہ جک کے قریب دریائے فرات گزر کر مقام ارفا سے ابراہیم کے مقبرہ کی جانب روانہ ہوا۔ اور راستہ میں ننوبین اور موصل کے مابین حضرت یونس اور جرجیس اور شیخ محمد عزاب علی ، فتح موصلی اور قضب النبی موصلی کے مقبرے ملے ۔ بغداد کو جاتے ہوئے میں نے مکریت سے سمیرا تک چکر کھا کر امان علی الہادی اور امام ہامان اسکری کے مقبروں پر گیا ۔ اور پھر قصبات عاشق و معشوق میں پہنچا ۔ اور پھر حریق سے گزر کر قلعہ سمیقی گزر کر بغداد کو بڑھ گیا ۔ ہم نے دریائے دجلہ کو جسمر کے قریب عبور کیا اور وہاں بزرگوں کے مقبروں کے پاس سے گزرتے ہوئے قلعہ طیر گزر کر مقام بنیر کو گئے اور چھوٹے قصبہ مصیب کے قریب دریائے فرات کو عبور کر کربلا میں پہنچے ۔ جہاں حسن اور حسین(رضی اللہ عنھما) کے روضوں کی زیارت کی ۔ اور شفاتہ کے قریب صحرا کو گزر دوسرے روز نجف میں پہنچا ۔ اور حضرت آدم ، نوح اور علی کے مقبرو ں پر گئے ۔ اور وہاں سے آگے کوفہ کو بڑھے جہاں وہ مسجد مع منبر دیکھی جن کے نیچے حضرت کے خاندان کے بنی مدفون ہیں اور دلدل کی قبریں ہیں ۔ حسینا کے قلعہ میں پہنچ کر ذوالکفل بنی خلف ہارون رشید کی قبر پر پہنچے او رحلّہ میں امام محمد مہدی اور علی کے برادر امام عقیل کا مقبرہ دیکھا اور وہاں شیم کی مسجد بھی دیکھی اور اس دفعہ دریائے فرات بذریعہ پل گزر کر بغداد کی جانب سفر اختیار کیا اور وہاں سے آگے جہاز میں سوار ہو کر بصرہ میں گئے ۔ راستہ میں مدین کے پاس سے ہوتے ہوئے سلیماس فارس کا مقبرہ نظر آیا اور طارق قیصری اور قلعہ شاہ زمان کی تعریف و توصیف کی ۔ اور وسط زکیہ کی سڑک پر عجّول اور مسرّح کے قلعوں کے پاس سے گزر کر سعدی السعید کو اور آگے بصرہ کو گئے ۔ جہاں میں ماہ صفر سنہ روان (آغاز فروری 1554ء ) کو پہنچا۔
سوم
بصرہ میں کیا ظہور میں آیا
میں منزل مقصود پر پہنچ کر مصطفیٰ پاشا سے ملا اور انھوں نے میری سندات ملاحظہ کر کے پندرہ گیلی جہاز میرے حوالے کئے ۔ یہ بہت قابل مرمت تھے جہاں تک ممکن تھا میں نے ان کو درست کروا کر ان کے واسطے توپیں بہم پہنچائیں ، مگر وہاں کے اور ہرمز کے گروہوں سے ان کی کافی تعداد نہ مل سکی ۔ پانی بہم پہنچانے کا بھی انتظام کرنا ضروری تھا۔ لیکن چونکہ مون سون یعنی بادبہاری میں ابھی پانچ ماہ باقی تھے ۔ لہٰذا مجھے علی کی مسجد اور حسن بصری ، طلحہ ، زبیر ، یونس بن ملک ، عبدالرحمٰن بن عنف اور کئی شہید اور نبی صاحب کے صحابہ کرام کے مقبروں پر جانے کا موقع مل گیا ۔ ایک رات مجھے خواب آیا کہ میری تلوار گم ہو گئی ہے ۔ چونکہ مجھے یاد تھا کہ شیح محی الدین کو بھی اسی قسم کا خواب آیا تھا اور انھیں شکست فاش ملی تھی ۔ لہٰذا میں ڈرا اور قبل اس کے کہ میں اسلامی سطح کی فتح کے واسطے قادر مطلق کی درگاہ میں التجاء کرنا چاہتا تھا میری آنکھ کھل گئی ۔ میں نے اس خواب کو مخفی رکھا مگر اس نے مجھے بہت عرصہ بے تاب رکھا۔ اور جب مجھے مصطفیٰ پاشا نے سپاہیوں کا ایک دستہ جزیرہ حویزہ فتح کرنے کے واسطے بھیجا ( اس مہم میں میں پانچ جہازوں کے ساتھ شریک ہوا) اور مصری افواج کی تلون مزاجی کی وجہ سے ہمارے ایک سو جوان تلف ہوئے ۔ مجھے اپنے خواب کی تعیبر کے پورا ہونے کا یقین ہوا ۔ مگر افسوس ابھی بدتر نتیجہ ظہور میں آنے والا تھا۔ کیونکہ نوشتہ تقدیر کبھی مٹ نہیں سکتا ۔ آخر کار جب موسم زمانی آیا ۔ موصوف پاشا نے ایک معتبر ملاح کو جہاز دے کر ہرمز کے اردگر گشت کرنے کیلئے بھیجا ۔ یہ ایک ماہ چکر لگانے کے بعد خبر لایا کہ ان سمندروں میں بجز چار کشتیوں کے کفار کا کوئی جہاز موجود نہیں ۔ لہٰذا ہم افواج کو جہازوں پر سوار کر کے مصر کو روانہ ہوئے ۔
چہارم
ہرمز میں کیا وقو ع میں آیا
یکم شوال کو ہم بصرہ سے روانہ ہوئے اور شرفی پاشا کے جنگی جہاز ہرمز تک ہمارے ساتھ آئے ۔ راستہ میں ہمیں قادری کا مقبرہ ملا۔ اور وزخول اور شطر واقع چرکس کے ساحل کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے میں نے امام محمد حنفی اور دیگر بزرگوں کے روضوں کی زیارت کی ۔ صوبہ شیراز کے بندرگاہ سے ہم شہر پہنچے ۔ اور بذریعہ جہاز شکلیوا ساحلوں کی گرد آوری کرنے سے دشمنوں کے جہازوں کا کہیں پتہ نہ ملا ۔ اور قطیف واقع متصل لہاسہ اور حجاز واقع ساحل عرب کی جانب بڑھتے گئے ۔ وہاں بھی دشمنوں کا پتہ نہ ملا پھر میں بحرین پہنچا اور وہاں کے کمانڈر انچیف رئیس مراد نام سے ملا مگر اس نے بھی کفار کے بیڑے کی کوئی خبر نہ دی ۔ بحرین میں عجیب رواج ہے ۔ ملاح چمڑے کی مشکیں لے کر سمندر کی تہہ میں غوطے لگاتے ہیں اور رئیس مراد کے استعمال کے واسطے یہ پانی بھر لاتے ہیں جو پانی موسم بہار میں شیریں اور سرد ہوتا ہے ۔ رئیس مراد نے اس کی کچھ مقدار مجھے بھی دی ۔ خدا کی قدرت کاملہ ہے یہ رواج اس تمثیل سے قائم ہو گیا ہے "مرج البحرین یلتقیان " اور اس وجہ سے اس کا نام بحرین ہو گیا۔
پھر ہم مقام کِس یعنی پرانے ہرمز میں پہنچے ۔ اور آگے سبز سمندر یعنی ہرمز کے پانیوں میں پہنچے مگر کہیں بیڑے کا نام ونشان نہ ملا ۔ لہٰذا مصطفیٰ پاشا نے جو جہاز ہماری حفاظت کے واسطے ہمارے ہمراہ بھیجا تھا ۔ ہم نے اس کو یہ پیغام دے کر واپس کر دیا کہ ہم ہرمز میں بخیر و عافیت پہنچ گئے ہیں اور جلجا اور جاوی کے ساحلوں کے ساتھ چلتے ہوئے جب قصبات کمزار یا میمہ کے قریب پہنچے تو ہماری روانگی کے چالیسویں روز یعنی 10 رمضان کے روز بعد دوپہر ہمیں عیسائیوں کا بیڑہ اپنی جانب آتے ہوئے نظر آیا ۔ جس میں چار بڑے جہاز تین گیلئین جہاز اور چھ پرتگالی محافظ جہاز اور 12 گیلی جہاز اس طرح کل پچیس جہاز ہمارے مقابلہ پر آئے ۔ میں نے حکم دیا کہ آفتاب کی شعاعوں سے بچنے والا پردہ فورا اوپر سے اٹھا دیا جائے ۔ اور لنگر ڈال کر توپیں تیار کی جائیں ۔ اور قادر مطلق کی امداد پر متوکل ہو کر ہم نے فلندرا باندھ دیا۔جھنڈنے کھول دئیے اور اللہ کا نام لے کر مقابلہ شروع کر دیا۔ بندوقوں اور توپوں کی سخت بوچھاڑ شروع کر دی ۔ اور خدا کی مدد سے دشمن کا ایک جہاز بالکل تباہ کر دیا۔
تاریخ میں اس معرکہ کی پہلے کہیں نظیر نہیں ملتی ۔ اور نہ ہمیں اس کیفیت بیان کرنے کیلئے کافی الفاظ ملتے ہیں ۔ آفتاب کے غروب ہونے تک گولہ اندازی ہوتی رہی اور اس کے بعد دشمنوں کی جانب سے آثار خوف نمایاں ہونے لگے اور ان کے امیر البحر نے پسپا ہونے کا ارادہ ظاہر کرنے کے واسطے توپ کے داغنے کا نشان دیا اور بیڑہ ہرمز کی جانب لوٹا۔
اللہ کی امداد اور بادشاہ کے اقبال سے اسلام کے دشمنوں کو شکست فاش ہوئی اور رات کے وقت ہمیں کچھ انعام ملا اس کے بعد ہوا شروع ہوئی اور چونکہ کنارہ نزدیک تھا ۔ صبح ہونے تک بادبان لگائے گئے ۔ دوسرے روز ہم اپنی پہلی رفتار پر چلے گئے اور تیسرے روز حوز فاقان میں پہنچے ۔ یہاں ہم نے پانی لیا اور جلد عمان بلکہ سوہتر میں پہنچ گئے ۔ اس طرح ہم قریبا سترہ یوم برابر چلتے گئے اور 6 رمضان کو ہم مسقط اور فلحات کے مضافات میں داخل ہوئے اور صبح کے وقت ہمیں مسقط کے بندرگاہ بارہ بڑی کشتیاں اور 22 غراب کشتیاں ملیں یہ گورنر کے پسر کپتان کوّا نام کے ماتحت تھیں ۔ ان میں ایک فوج جرّار سوار تھی ۔
ان کشتیوں اور گیلئن جہازوں کے بڑے بڑے بادبانوں نے جن کا نام اصل کتاب میں غورناطور لکھا ہے ) اور پنیتا (یعنی چھوٹے چھوٹے بادبانوں نے ) اپنے سایہ سے افق کو تاریک کیا ہوا تھا ۔ محافظ جہازوں نے اپنے گول بادبان پھیلائے اور خوشنما پھریروں کے ساتھ پیش قدمی کرتے ہوئے ہماری جانب بڑھے ۔ خدائے تعالیٰ ظل حمایت پر متوکل ہو کر ہم ان کے انتظار میں اپنے پاؤں پر جمے کھڑے رہے ۔ پہلے ان کی کشتیوں نے ہمارے گیلی جہازوں پر حملہ کیا۔ اور میدان معرکہ گرم ہوا ۔ توپوں ، بندوقوں ، تیروں اور تلواروں نے جانبین میں سخت خونریزی کی ۔ بجو الشقا نے کشتیوں اور شابقہ میں گھس کر ان کی خولوں میں بڑے بڑے سوراخ کر دئیے ۔ حالانکہ ہمارے گیلی جہاز تیروں سے چھلنی کئے گئے تھے ۔ جن کی دشمنوں کے مورچوں سے ہم پر بوچھاڑ کی گئی تھی۔ یہ خارپشت کے کانٹوں کی طرح کارگر ہوئے اور جو پتھر انھوں نے برسائے اسے سمندر میں سخت گرداب پیدا ہو گیا۔
ایک گولے سے ہمارا ایک جہاز جل گیا۔ مگر تعجب ہے کہ جس کشتی سے یہ گولہ پڑا اس کا بھی یہی حشر ہوا ۔ خدا رحیم ہے ہمارے پانچ گیلی جہازوں اور اتنی ہی دشمنوں کی کشیاں ڈوب کر بالکل تباہ ہوئیں ۔ اور دشمنوں کی ایک کشتی مع تمام بادبانوں کے سطح زمین میں غرق ہوئی ۔ الغرض دونوں جانب سے بہت بھاری نقصان ہوا ۔
توپوں سے گولہ باری کرتے ہوئے سمندر کی لہر کے ساتھ جاتے ہوئے ہماری کشتی چلانے والوں کی تعداد بہت کم ہو گئی ۔ لہٰذا ہم مجبورا لنگر ڈال کر حتیٰ الوسع بڑھنے کے واسطے تیار ہو گئے ۔ اور ہمیں کشتیاں چھوڑنی پڑیں ۔
عام شاہ رئیس ، مصطفیٰ فلفات ایامی ، ڈوبے ہوئے جہازوں کے چند کپتان اور ورزی مصطفیٰ بے سرواء والنیٹریا مع باقی مصری سپاہیوں اور دو نجاروں کے ساحل عرب پر اتر گئے تھے ۔ اور چونکہ کشتی چلانے والے اہل عرب تھے ۔ لہٰذا نجد کے عربوں نے ان کی تپاک سے مہمان نوازی کی ۔ کافر بیڑے کے جہازوں نے بھی اپنے ڈوبے ہوئے جہاز کے ملاحوں کو اپنے باقی جہازوں پر سوار کر ا لیا تھا ۔ چونکہ ان میں بھی اہل عرب شامل تھے ۔ لہٰذا یہ بھی عرب کے کنارہ پرپناہ گزین ہوئے تھے ۔ خدا ہمارا گواہ ہے خویدین پاشا اور اندریاس دوریا کے مابین جو جنگ ہوئی تھی اس میں بھی اس قسم کا کوئی مقابلہ پیش نہیں آیا۔
جب رات پڑی اور ہم خلیج ہرمز کے قریب پہنچ رہے تھے ، ہوا تیز ہونے لگی ، کشتیاں پہلے ہی دو بڑے لنگر ڈال چکی تھیں اور ہماری لوشتنا کشتیاں مضبوط باندھ کر کنارہ کے ساتھ ساتھ مفتوحہ کشتیوں کو کھینچتے ہوئے لے جارہے ہیں اور گیلی جہاز اپنے لنگر کھینچتے ہوئے پیچھے چلے آ رہے تھے ۔ باین ہمہ ہمیں کنارہ کے قریب جانے کی اجازت نہیں تھی ۔ اور لہٰذا ہم نے پھر اپنے جہاز ہمیں سمندر کے گہرے پانیوں میں چلانے پڑے ۔ اس رات ہم ساحل عرب سے ہٹ کر دور سمندر میں چلے گئے اور جالس واقعہ صوبہ کرمان کے ساحل پر پہنچے ۔ یہ کنارہ بہت دور تک چلا گیا ہے لیکن ہمیں کہیں بندرگاہ نہ ملا ۔ اور ہم کیچ مکران میں پہنچنے سے پہلے دو روز متواتر ادھر ادھر آوارہ ہوتے رہے ۔
چونکہ رات بہت گزر چکی تھی لہذا ہم فورا خشکی پر نہ اتر سکے اور ہمیں ایک رات اور سمندر میں بسر کرنی پڑی ۔ صبح کے وقت خشک ہوا کئی اہل جہازوں کو بہا لے گئی اور آخر کار بے بیان تکالیف اورمشکلات کے بعد ہم بندر شبہا میں پہنچے ۔
وہاں ہمیں ایک نوثق یعنی ڈاکو جہاز ملا ۔ جس پر رخت و تاراج کا بہت سا مال لدا ہوا تھا۔ نگہبان نے دیکھتے ہی ہمیں آواز دی ۔ ہم نے جواب دیا کہ ہم مسلمان ہیں یہ سنتے ہیں اس جہاز کا کپتان ہمارے ملنے کو آیا۔ اور ہمارے لئے تازہ پانی لایا ۔کیونکہ ہمارے پاس پانی کا ایک قطرہ بھی باقی نہ تھا۔ اور ہمارے پیاسے سپاہی پی کر تروتازہ ہوئے ۔ یہ بیرم کا مبارک دن تھا ۔ اور پانی کے ملنے سے ہمیں دوبالا مسرت ہوئی ۔ کپتان مذکور کے ساتھ ہم کوادر پہنچے ۔ وہاں کے لوگ بلوچستانی تھے اور اس کا حاکم ملک جلال الدین بن ملک دینا تھا۔ اس مقام کے گورنر نے ہمارے جہاز پر آ کر ہمارے شاہ عالم پناہ کی نسبت اظہار عقیدت مندی و وفاداری کیا ۔ اور وعدہ کیا کہ اگر آئندہ کبھی ہمارا بیڑہ اس جانب سے گزرا تو پچاس ساٹھ کشتیاں سامان رسد وغیرہ کی نذر کرنے کے علاوہ ہر قسم کی امداد دینے کو تیار رہے گا ۔ ہم نے پرنس جلال الدین کو ایک لائق رہنما ئے جہاز بھیجنے کو لکھا۔اور اس نے بہ تعمیل اس کے ایک لائق آدمی ہماری مدد کے واسطے تعینات کر دیا ۔ اور ہمیں بوثوق یقین دلایا کہ یہ آدمی بالکل قابل اعتبار اور ہمارے بادشاہ کا ہوا خواہ ہے ۔
پنجم
بحر ہند میں ہم پر کیا مصیبت نازل ہوئی ۔
خداوند رحیم و کریم ہے ۔ ہم نے موافق ہوا میں بندرگاہ گوادر سے چل کر پھر یمن کی جانب رخ کیا ۔ ہم کئی روز سمندر میں رہے اور ظفار اور مشار کی محاذ میں پہنچے ہی تھے کہ مغرب کی جانب سے سخت طوفان شروع ہوا ۔ جو فیل طوفانی کے نام سے مشہور ہے ۔ ہم پیچھے ہانکے گئے اور بادبان چھوڑ کر ترنکوتیلا (یعنی طوفان والابادبان ) بھی نہیں کھول سکتے تھے ۔ طوفان زیادہ تر تندو تیز ہوتا گیا۔ بحر ہند کے طوفان اور تلاطم کے مقابلہ پر مغربی سمندروں کی موجزتی بچوں کا کھیل اور لہروں کے مینار قطرہ آب کے مشابہ ہیں ۔ رات دن برابر یکساں حالت رہی ، لہٰذا اپنے جہاز کی کمزوری کو دیکھ کر ہم نے بیلسٹ کے پتھر سمندر میں پھینک دئیے ۔ اس بلائے عظیم کے دوران میں ہمارا ایمان حافظ حقیقی کی امداد پر قائم رہا۔ دس روز متواتر طوفاں جاری رہا اور موسلادہار بارش ہوتی رہی ۔ اس اثناء میں ہمیں کبھی نیلگوں آسمان نظر نہ آیا۔
جہاں تک ممکن تھا میں اپنے رفیقوں کو خوش کرتا رہا ۔ اور ان کو حوصلہ دلاتا رہا اور فال بد کی جانب ان کے ایمانوں کو لوٹنے نہ دیا ۔ آخر کار عمدہ آثار نظر آنے لگے اور دو گیلی کشتیوں کے برابر ایک لمبی مچھلی نظر آئی ۔ جس کو جہاز کے رہنما نے فال نیک ظاہر کیا۔
یہاں مدوجزر کا زور تھا ۔ ہمیں خلیج جود کے پڑوس میں کئی بڑے بڑے جانور مثلا بحری گھوڑے ، سانپ ، کچھوے اور مگر مچھ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ پانی کا رنگ دفعتا سفید ہو گیا اس کو دیکھ کر پائیلاٹ رونے لگا اور کہنے لگا کہ ہم گرداب کے قریب پہنچ رہے ہیں ۔ یہ عموما ابیسینا کے ساحلوں اور سندھ کے قریب خلیج جود میں پائے جاتے ہیں ۔ اور کبھی کوئی جہاز ان کے کہکہیڑ سے نہیں بچا۔ یہی حال ہم نے بحری کتب میں پڑھا ہوا تھا۔ ہم نے بہت کچھ ہاتھ پاؤں مارے اور جب ہم پانچ ہاتھوں کی گہرائی پر پہنچے ۔ ہم نے جہاز کے پچھلے پال ( جو اور تائلکن کہلاتے ہیں ) اور وہ پتوار کھول دئیے جو جہاز کے اگلے حصے میں بڑھے ہوئے ہوتے ہیں ۔ اور پھر مغرب کی جانب پھر کر کمانڈر کے پ پھر بری کو کھڑا کر دیا اور اندن برابر اور ہر بے اختیار ہو کر پھرتے رہے ۔ اور پھر رحمت الٰہی ہماری شامل حال ہوئی اور سطح سمندر بلند ہونے لگا ۔ اور طوفان بھی کسی قدر فرو ہوا اور جہاز کی کل بھی سیدھی ہوئی ۔
دوسرے روز ہم نے رفتار سست کر کے بادبان گھٹا دئیے ۔ ایک توانا ملاح جوندوا کے ساتھ باندھ دیا گیا جسے جہاز کا پچھلا پال نیچے ہو گیا اور ملاحی رسہ کسی قدر اٹھا دیا گیا اور جب اپنی چاروں طرف نظر پھیر کر دیکھا تو ہمیں ہندوؤں کا ایک ایک مندر نظر آیا یہ جمیر کے ساحل پر واقعہ تھا ۔ اور وہاں بادبان زیادہ تر گھٹائے گئے اور ہم خود میان اور مغگیر سے گذر کر سیدھے سومنات کی طرف ہو لئے ۔ اور اخیر میں دیو میں پہنچے ۔ لیکن بے اعتقادوں کے خوف سے جو وہاں آباد تھے ۔ ہم نے اپنے بادبان اور نیچے کر لئے اور اسی طرح پیش قدمی کرتے گئے ۔