بیٹی کی خواہش

بابا! اٹھیں نا، دیکھیں میں کامیاب ہو گئی ہوں۔۔۔ :broken_heart:

میرے دونوں ہاتھ آپ کے چہرے کو تھامے ہوئے ہیں، آنکھوں میں خوشی کے آنسو ہیں اور لبوں پر ایک ہی صدا ہے۔۔۔

اٹھیں نا بابا! آنکھیں کھولیں، دیکھیں تو سہی، میں نے وہ مقام حاصل کر لیا ہے جس کا خواب آپ نے میری آنکھوں میں سجایا تھا۔

بابا! دیکھیں، آپ کی ساری محنت رنگ لے آئی۔ وہ تنگدستی، وہ محرومیاں، وہ راتوں کی جاگی ہوئی نیندیں، وہ دن بھر کی مشقت، سب کچھ تو رنگ لے آیا۔ بابا! میں کامیاب ہو گئی ہوں، مگر آپ خاموش کیوں ہیں؟ کچھ بولتے کیوں نہیں؟ کیا آپ خوش نہیں ہیں؟ اگر کچھ نہیں کہنا تو کوئی بات نہیں، بس ہمیشہ کی طرح ایک بار مسکرا دیجیے نا، تاکہ مجھے یقین آ جائے کہ میرا خواب پورا ہو گیا ہے۔

بابا! آپ کو یاد ہے نا، جب میں بچپن میں کسی چھوٹی سی چیز کے لیے ضد کرتی تھی تو آپ میری ضد کے آگے ہار جایا کرتے تھے۔ میری آنکھوں میں آنسو آپ سے دیکھے نہیں جاتے تھے۔ میری ذرا سی اداسی آپ کے چہرے کی مسکراہٹ چھین لیتی تھی۔ پھر آج کیا ہوا بابا؟ آج میری آنکھوں میں خوشی کے آنسو ہیں، آج میرے خواب حقیقت بن گئے ہیں، تو آپ مجھے دیکھ کر مسکرا کیوں نہیں رہے؟

آپ نے ساری زندگی میری ضروریات پوری کرنے میں گزار دی۔ خود پرانے کپڑے پہن لیے، مگر میری خواہشوں کو کبھی پرانا نہیں ہونے دیا۔ خود بھوکے رہ لیے، مگر میری بھوک کا خیال رکھا۔ اپنی صحت کو نظرانداز کیا، اپنے آرام کو قربان کیا، بس ایک ہی خواب دیکھا کہ آپ کی بیٹی ایک دن کامیاب ہو جائے، اپنے قدموں پر کھڑی ہو جائے، اور دنیا میں آپ کا سر فخر سے بلند کر دے۔

بابا! آج وہ دن آ گیا ہے۔ آج آپ کی بیٹی اپنے خوابوں کی منزل پر پہنچ گئی ہے۔ آج مجھے آپ کے سینے سے لگ کر رونا تھا، آپ کے ہاتھ چومنے تھے، آپ سے کہنا تھا کہ بابا! آپ کی ساری قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں۔ آپ کی بیٹی نے آپ کا خواب پورا کر دیا ہے۔

مگر یہ کیسی خوشی ہے بابا، جس میں آپ کی آواز نہیں؟ یہ کیسی کامیابی ہے جس میں آپ کی دعاؤں کے لیے اٹھنے والے ہاتھ نظر نہیں آتے؟ یہ کیسی منزل ہے جہاں پہنچ کر بھی میرا دل خالی خالی سا ہے؟

بابا! آپ کو یاد ہے نا، جب میں ڈر جایا کرتی تھی تو میرے خوف کو آپ ہی بھگایا کرتے تھے۔ دنیا کی کوئی بھی چیز مجھے ڈرا دیتی، کوئی انجانا سا خوف میرے دل میں گھر کر لیتا، تو آپ کی ایک آواز، آپ کا ایک لمس اور آپ کا مجھے اپنے پاس بلا لینا میرے سارے ڈر ختم کر دیتا تھا۔ آپ ہمیشہ مجھے ”بیٹا“ کہہ کر پکارتے تھے۔ آپ کا یوں مجھے بیٹا کہنا، محبت سے بلانا، میرے اندر ایک عجیب سا حوصلہ بھر دیتا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ جب تک آپ میرے ساتھ ہیں، مجھے کسی چیز سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ کی موجودگی میرے لیے ایک ایسی ڈھال تھی جس کے ہوتے ہوئے دنیا کے بڑے سے بڑے خوف بھی چھوٹے لگنے لگتے تھے۔

مگر بابا! آج میں زندگی کی اتنی بڑی منزل پر کھڑی ہوں، اور پہلی بار مجھے اتنا ڈر لگ رہا ہے کہ سمجھ نہیں آتا خود کو کیسے سنبھالوں۔ آج مجھے پھر سے آپ کے سہارے کی ضرورت ہے۔ آج دل چاہتا ہے کہ آپ مجھے ہمیشہ کی طرح ”بیٹا“ کہہ کر بلائیں، میرے سر پر ہاتھ رکھیں اور کہیں کہ گھبراؤ نہیں، میرا بیٹا سب کر لے گا۔ بابا! آج آپ کی وہی ایک آواز سننے کو دل تڑپ رہا ہے، وہی لفظ سننے کو کان ترس رہے ہیں، جس نے بچپن میں میرے سارے خوف بھگا دیے تھے۔

بابا! اٹھیں نا، دیکھیں، آپ کا بیٹا نہیں، آپ کی بیٹی کامیاب ہو گئی ہے۔ آپ کی وہ بیٹی جسے آپ محبت سے بیٹا کہتے تھے، آج اپنی منزل تک پہنچ گئی ہے۔ مگر بابا! آپ کے بغیر یہ کامیابی بھی مجھے ڈرا رہی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ آپ کے بغیر اس دنیا میں آگے کیسے بڑھوں گی، اپنی خوشیاں کس کو سناؤں گی اور جب کبھی پھر سے ڈر جاؤں گی تو کون مجھے اپنے مخصوص انداز میں ”بیٹا“ کہہ کر حوصلہ دے گا؟

بابا! ایک بار پھر مجھے وہی بچی بنا دیجیے نا، جس کے سارے خوف آپ کی ایک آواز سے ختم ہو جایا کرتے تھے۔ ایک بار پھر مجھے اپنے ہونے کا یقین دلا دیجیے۔ میں آج بھی وہی آپ کی بیٹی ہوں، جسے دنیا کے سامنے مضبوط بننا آپ نے سکھایا تھا، مگر آپ کے سامنے آ کر آج بھی میرا دل بچی بن جانے کو چاہتا ہے۔

بابا! آپ کی بیٹی کامیاب تو ہو گئی ہے، مگر آج بھی اسے اپنے بابا کی آواز میں اپنا نام نہیں، وہ محبت بھرا لفظ ”بیٹا“ سننا ہے۔ کاش! آج آپ ایک بار پھر مجھے اسی نام سے پکارتے، اور میں آپ کے سینے سے لگ کر کہہ سکتی کہ بابا! دیکھیے، آپ کا بیٹا، آپ کی بیٹی، آپ کا خواب پورا کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔

امی کیوں رو رہی ہیں، بابا؟ بھائی کچھ بولتے کیوں نہیں؟ سب کی آنکھوں میں آنسو کیوں ہیں؟

کوئی تو بتائے مجھے کہ میرے بابا مجھ سے بات کیوں نہیں کر رہے۔ بھائی! بابا سے کہو نا، مجھ سے کچھ کہیں۔ انہیں بتاؤ نا کہ ان کی بیٹی آ گئی ہے۔ وہی بیٹی جس کے لیے وہ ساری دنیا سے لڑ جایا کرتے تھے۔ وہی بیٹی جس کی کامیابی کے خواب دیکھتے دیکھتے انہوں نے اپنی پوری زندگی گزار دی۔

بابا! آپ نے تو وعدہ کیا تھا کہ جس دن میں کامیاب ہوں گی، آپ سب سے زیادہ خوش ہوں گے۔ پھر آج میری خوشی میں شریک کیوں نہیں ہو رہے؟

میں نے منزل تو پا لی بابا، مگر کاش! اس منزل تک پہنچنے سے پہلے آپ کا ہاتھ میرے ہاتھ سے نہ چھوٹتا۔

کاش! آج وقت تھم جائے، کاش! آپ ایک بار آنکھیں کھولیں، مجھے دیکھیں اور وہی پیاری سی مسکراہٹ میرے نام کر دیں۔

بابا! مجھے دنیا کی کوئی کامیابی اتنی عزیز نہیں جتنی آپ کی ایک مسکراہٹ تھی۔ مجھے کوئی اعزاز اتنی خوشی نہیں دے سکتا جتنی آپ کے لبوں سے نکلا ہوا ایک جملہ دے سکتا تھا:

”میری بیٹی نے میرا سر فخر سے بلند کر دیا۔“

بابا! آج سب کچھ حاصل کرکے بھی میں خود کو خالی ہاتھ محسوس کر رہی ہوں، کیونکہ جس شخص کے لیے یہ سب حاصل کیا، وہی آج میری خوشی سننے کے لیے خاموش ہے۔

بابا! آپ کی بیٹی کامیاب ہو گئی ہے، مگر اس کی کامیابی کا سب سے خوبصورت خواب ادھورا رہ گیا ہے۔۔۔

کاش! آپ آج میرے ساتھ ہوتے، بابا۔ کاش! :broken_heart: