اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میرؔ
پھر ملیں گے اگر خدا لایا
اُس نرگسِ مستانہ کو دیکھے ہوئے برسوں
اِفراط سے اندوہ کی بیمار ہوا میں
**اے ابر ہم بھی برسوں روتے پھرا کیے ہیں **
دریا بندھے پڑے ہیں وادی کے خار و خس میں
اک خزاں میں نہ طیر بھی بولا
میں چمن میں بہت پکار آیا
**بیقراری نے مار رکھا ہمیں **
اب تو اس کے تئیں قرار آیا
بازارِ وفا میں سرِ سودا تھا سبھوں کو
پر بیچ کے جی ایک خریدار ہوا میں
بارہا صید گہ سے اُس کی گئے
داغِ یاس ،آہُوئے حَرَم لے کر
بتاں کی میرؔ ستم وہ نگاہ ہے جس نے
خدا کے واسطے بھی خلق کا وبال لیا
پرستش کي عادت کہ اے بت تجھے
نظر ميں سبھوں کي خدا کر چلے
پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں
اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی
| تدبِیر دوستوں کی مجھے نفع کیا کرے |-
| بیماری اور کُچھ ہے کریں ہیں دوا کُچھ اور
| تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا |
| خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا |
| تھا وہ تو رشک حور بہشتی ہمیں میں میر |
| سمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنے قصور تھا |
ٹک میرؔ جگر سوختہ کی جلد خبر لے
کیا یار بھروسا ہے چراغ سحری کا
| جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیں |
| اس راہ میں وے جیسے انجان نکلتے ہی |
چارہ گری بیماری دل کی رسم شہر حسن نہیں
ورنہ دلبر ناداں بھی اس درد کا چارہ جانے ہے
حرف نہیں جاں بخشی میں اس کی خوبی اپنی قسمت کی
ہم سے جو پہلے کہہ بھیجا سو مرنے کا پیغام کیا
خانۂ دل سے زینہار نہ جا
کوئی ایسے مکاں سے اٹھتا ہے
دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
ڈھب کچھ اچھا نہیں برہم زَدَنِ مژگاں کا
کاٹ ڈالے گا گلا اپنا کوئی خنجر سے