موسموں کا تغیر کبھی کبھی انسان کے باطنی موسم سے کتنا بے تعلق ہو جاتا ہے!
بہار کے دن تھے۔ لیکن بہار نے ابھی اپنے پر پوری طرح نہیں پھیلائے تھے اور راتیں بدستور یخ بستہ ہواؤں کے نرغے میں تھیں۔ سرگودھا کی ایک پرانی بستی کے کچے مکان کے صحن میں اداسی کی ایک دبیز اور سناٹے میں ڈوبی ہوئی خاموشی مسلط تھی۔
صبح کے وقت جب نیم کے پیڑ کی گھنی اور ہرے پتوں سے لدی شاخوں سے چھن کر سنہری، چمکیلی دھوپ آنگن میں اترتی، تو سوکھی مٹی سے ایک بھینی بھینی، سوندھی سی خوشبو اٹھنے لگتی۔ سامنے لگے گلاب کے پودے پر دھانی شاخیں سرخ و شاداب کلیوں سے لدی ہوئی تھیں، اور صبح کی نرم ہوا کے جھونکوں سے جب وہ کلیاں چٹختیں تو یوں لگتا جیسے بہار کی سانسوں کا ترنم پورے صحن میں گونج رہا ہو۔ ہوا میں مٹھاس تھی، فضا میں زندگی کی چہچہاہٹ تھی اور طائرِ سحر ہر طرف گیت گاتے پھرتے تھے۔
مگر اس تمام تر دلکش اور شاندار سحر کے درمیان، شائمہ کے لیے یہ شادابی محض ایک فریبِ نظر اور بے رنگ تصویر تھی۔ جو انسان اندر سے ریزہ ریزہ ہو چکا ہو، اس کا دل و دماغ باہر کے کسی بھی رنگ یا خوشی کو قبول کرنے سے صاف انکار کر دیتا ہے۔ قدرتی خوبصورتی کا یہ طوفان اس کے باطنی اندھیروں کو کم کرنے کے بجائے اس کی تنہائی کو مزید نمایاں کر رہا تھا۔
اس نے چولہے کے پاس رکھے پرانے، سیاہی مائل پیتل کے لوٹے سے پانی کا ایک گھونٹ بھرا تو حلق میں ایسی تلخی گھل گئی، جیسے صحرا کی کوئی زہریلی جڑی بوٹی چبا لی ہو۔ شائمہ نے لوٹا واپس رکھا اور اپنی ویران، بے حس آنکھوں سے خالی صحن کو دیکھتے ہوئے دھیمے سے بڑبڑائی:
”سیو نی! مینوں اَکّ سوادی لگے… “
(اے میری سہیلیو! اب تو مجھے یہ کڑوا اک بھی مزے دار لگنے لگا ہے۔)
یہ صرف ایک جملہ نہیں تھا، بلکہ ایک گہرا نفسیاتی موڑ تھا۔ محاسبے کی وہ آخری حد، جہاں انسان دکھ سے لڑنا چھوڑ کر اسے اپنے وجود کا حصہ بنا لیتا ہے۔ جب دماغ مسلسل صدمے کی زد میں رہے تو وہ اپنا دفاعی میکانزم (Defense Mechanism) آن کر لیتا ہے؛ تب کڑواہٹ بھی زہرِ شیریں معلوم ہونے لگتی ہے۔
جس شخص کے انتظار میں اس نے اپنی جوانی کے سارے روپ گنوا دیے تھے، اس کا کوئی سراغ نہ تھا۔ ہجر کی اس طویل مسافت نے اس کے جسم کو ہی نہیں، اس کے نفس کو بھی مار دیا تھا۔ وہ ہر روز امید اور ناامیدی کی ایک ایسی جنگ لڑتی جو اسے اندر سے کھوکھلا کر رہی تھی۔ صحن کے کونے میں جھکا ہوا وہ پرانا بیری کا پیڑ محض لکڑی اور خشک پتوں کا ڈھانچہ نہ تھا، بلکہ اس کے محبوب کی عدم موجودگی کا ایک جیتا جاگتا مجسمہ تھا۔ ایک ایسا جادوئی استعارہ، جس کے سائے میں اس کی اکیلی آہیں اور سوچیں قیدی بن کر گھومتی رہتیں۔
محلے کی عورتیں جب بھی ہمدردی یا طنز کے بہانے اس کی کسی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھتیں، تو شائمہ رونے کے بجائے بے اختیار ہنس پڑتی۔ اس کی وہ ہنسی اتنی گہری، بھیانک اور دردناک ہوتی کہ سننے والوں کے جسم میں سنسنی دوڑ جاتی۔ وہ ہنس کر اصل میں اپنے ہی غم کا ماتم کرتی اور دنیا کی ہمدردی کو ٹھکرا کر اپنی خودداری اور انا کا دفاع کرتی تھی۔
دن ڈھلا تو بہار کی اس شام نے آنگن میں اداسی کے لمبے، جابرانہ سائے بچھا دیے۔ دن کی ہلکی سی گرمی لمحوں میں غائب ہو گئی اور بہار کی وہ شوخ ٹھنڈ جاگ اٹھی، جو خاموشی سے ہڈیوں کے اندر تک اتر جاتی ہے۔ آسمان پر کٹورے جیسا شفاف نیلاپن تھا، مگر شام کی برفانی ہوا کا رویہ خاصا سفاک تھا۔
اسی پچھلے پہر، جب سردی اپنے جوبن پر تھی، صحن کے پرانے امرود کے درخت کی شاخ پر بیٹھی ایک معصوم فاختہ ٹھنڈ کی تاب نہ لا کر ٹھٹھر گئی۔ اس نے آخری بار اپنے بے بس پروں کو پھڑپھڑایا اور ٹھنڈی، بے حس مٹی پر ساکت ہو گئی۔
یہ منظر شائمہ کے لیے ایک تازیانہ بن گیا۔ اس فاختہ کا گرنا دراصل اس کے اپنے اندر کا آخری سانحہ تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس کے باطن میں امید کی جو آخری رمق ٹمٹما رہی تھی، وہ ایک گہری سسکی کے ساتھ بجھ گئی۔ جب انسان کے اندر کا آخری وہم بھی دم توڑ دے تو ادراک کا پورا منظرنامہ بدل جاتا ہے۔ صحن کے پھولوں کا سرخ اور گلابی رنگ شائمہ کی آنکھوں کے سامنے پل بھر میں برف کی طرح بے حس اور سفید ہو گیا۔
جب رات کا آخری پہر آیا تو وہ اٹھی اور چراغ دان کی طرف بڑھی، جہاں مٹی کا ایک چھوٹا سا دیا رکھا تھا، جس میں بس نام کو ہی تیل باقی تھا۔ اس نے اپنی کپکپاتی انگلی سے وہ سونے کا چھلا اتارا، جو اس کے محبوب کی آخری نشانی تھا اور جسے اس نے برسوں سے اپنی روح کی طرح سنبھال رکھا تھا۔
اس نے چھلے کو اپنی ہتھیلی پر رکھا، کچھ دیر اپنے ماضی کو اس کے عکس میں دیکھا، اور پھر دھیمی آواز میں بولی:
”میرا مقدر تو اندھیروں کا قیدی بن چکا ہے… میری اس ذات میں چاہے کبھی اجالا نہ ہو۔ لیکن اگر اس آخری نشانی کی قربانی دے کر، اسے کسی ضرورت مند کی دہلیز پر رکھ کر، کسی اور کے آنگن میں سکھ کی کوئی ایک شمع جل سکتی ہے، تو یہ سودا مہنگا نہیں ہے۔“
جب انسان اپنے ذاتی دکھ کی قید سے نکل کر دوسروں کا بھلا سوچنے لگتا ہے، تو اس کا اپنا غم چھوٹا پڑ جاتا ہے۔
اس نے دروازے کی کنڈی آہستگی سے کھولی۔ باہر گلی میں سنسان، جابر اندھیرا تھا اور دور کہیں کتے کے بھونکنے کی آواز آ رہی تھی۔ اس نے وہ سونے کا چھلا گلی کے موڑ پر بنے بوڑھے پیپل کے پیڑ کی جڑ میں رکھ دیا، جہاں سے صبح سویرے مزدوروں اور مسافروں کا گزر ہوتا تھا۔
جب وہ واپس لوٹی تو اس کے ہاتھ خالی تھے، مگر اس کے لبوں پر ایک عجیب سا، ملکوتی اطمینان مسکرا رہا تھا۔ یہ وہ سکون تھا جو اپنی ذات اور انا کی قربانی کے بعد حاصل ہوتا ہے۔ اس نے مٹی کے بجھے ہوئے دیے میں بتی کو سیدھا کیا اور چادر اوڑھ کر لیٹ گئی۔ باہر بہار کی وہی برفانی ہوا چل رہی تھی، مگر اب شائمہ جان چکی تھی کہ دکھ چاہے کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو، اگر دل میں کسی اور کے لیے ایثار کا جذبہ جاگ اٹھے تو انسان تقدیر کے جبر کو سہنے کا حوصلہ پا لیتا ہے۔