سہیل احمد: جس بچے کے لیے بولنا ناممکن تھا، آج وہ دوسروں کو ان کی آواز دے رہا ہے۔۔

پانچ سالہ سہیل احمد دیکھ سکتے تھے کہ ان کے آس پاس موجود لوگ بیتابی سے ان کے بولنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ وہ ان کی ہدایات اپنے ذہن میں سن سکتے تھے، لیکن الفاظ تھے کہ ان کے منھ سے نکلنے کو تیار نہیں تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’جب میں ماضی کو یاد کرتا ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے میں مفلوج تھا۔ آپ حقیقت میں وہاں موجود ہوتے ہیں، لیکن ایک ہی وقت میں وہاں موجود نہیں ہوتے۔ آپ کمرے میں ہوتے ہیں، لیکن یوں لگتا ہے جیسے آپ کمرے میں ہیں ہی نہیں۔‘

’سب لوگ آپ کے کچھ کہنے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ آپ خود کو ایسے دیکھتے ہیں جیسے باہر سے خود کو دیکھ رہے ہوں اور خود سے کہتے ہیں ’چلو، کچھ بولو‘، لیکن آپ بول نہیں پاتے، آپ سے بولا ہی نہیں جاتا۔‘

اب چار دہائیوں سے زیادہ عرصے بعد بریڈفورڈ کے جنرل پریکٹیشنر اور کمیونٹی ایکٹوسٹ سہیل کے اس طویل سفر کا اختتام کامیابی پر ہوا ہے۔ وہ جلد بریڈفورڈ آرٹس سینٹر میں ہونے والی ٹی ای ڈی ایکس تقریب کے کلیدی مقررین میں شامل ہوں گے۔

2 پسندیدگیاں