میری ڈائری کا ایک ورق

کبھی کبھی ہم رستہ بھول بھی جاتے ہیں۔ ایسے میں وہیں رک نہیں جاتے، اور نہ ہی اسی رستے پر چلتے چلے جاتے ہیں بلکہ جہاں سے پہلا یو-ٹرن ملے، وہاں سے واپسی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ زندگی میں بھی بارہا ہم سے غلطیاں ہونگی۔ جیسے ہی احساس ہو جائے کہ غلطی ہوئی، پلٹ آنا ہے۔ جتنا آگے جاتے جائیں گے، واپسی کرنا اتنا ہی طویل اور کٹھن ہو گا۔
– سب سے اہم سبق جو میں نے سیکھا: ہمیں آگے بڑھتے رہنا ہے۔ گاڑی میں لگے back-view mirrors ہمیں تین مختلف زاویوں سے پیچھے دیکھنے میں مدد کرتے ہیں، لیکن چلنا پھر بھی آگے ہی ہے۔ زندگی کی گاڑی میں بیٹھ کر بھی مختلف زاویوں سے گزرے حالات کا جائزہ لیں، اپنی غلطی جانچیں، دوسرے کی پرکھیں۔ ماضی کی غلطیوں سے سیکھیں، اور آگے بڑھ جائیں۔ Move on! اگر، مگر، کاش۔۔۔ ان سب کو بھول جائیں۔ ماضی کو مستقبل میں ساتھ ساتھ مت گھسیٹیں۔ بس چلتے چلتے ایک اچٹتی سی نگاہ مختلف زاویوں سے گزرتے لمحات پر ڈالتے رہیں اور آگے بڑھتے رہیں۔ یہی زندگی ہے???

  1. صبر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان خاموشی سے ظلم سہے، بلکہ صبر یہ ہے کہ آپ کا دل اللہ کے فیصلے پر راضی ہو اور زبان پر کوئی شکوہ نہ ہو۔"
  2. “جب زندگی آپ کو مشکل میں ڈالے تو سمجھ جائیں کہ اللہ آپ کو مضبوط بنا رہا ہے، کیونکہ بہترین پھل ہمیشہ صبر کے بعد ہی ملتا ہے۔”

تقویٰ اور صبر کا بدلہ.!
"… کیا سچ مچ تم ہی یوسف ہو. اس نے کہا ہاں میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے. اللہ نے ہم پر فضل فرمایا. جو شخص ڈرتا ہے اور صبر کرتا ہے تو اللہ نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا. (90 یوسف)
" تقویٰ اور صبر کرنے والوں کا اجر خدا ضائع نہیں کرتا ".
یہی پورے قصہ یوسف کا خلاصہ ہے.
اللہ تعالٰی کو اس کی ایک واضح مثال قائم کرنی تھی کہ معاملات دنیا… میں جو شخص اللہ سے ڈرنے والا طریقہ اختیار کرے اور بے صبری والے طریقوں سے بچے، بالآخر وہ اللہ کی مدد سے ضرور کامیاب ہوتا ہے. حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعہ کو اسی حقیقت کی ایک نظر آنے والی مثال بنا دیا گیا.
حضرت یوسف علیہ السلام کا کنویں میں ڈالا جانا اور پھر اس سے نکل کر مصر پہنچنا دونوں اللہ کی نگرانی میں ہوا… اللہ چاہتا تو آپ کو کنویں کے مرحلے سے گزارے بغیر مصر کے اقتدار تک پہنچا دیتا… لیکن اگر یہ تمام غیر معمولی حالات پیش نہ آتے تو اسباب کی اس دنیا میں یوسف علیہ السلام اس بات کی مثال کیسے بنتے کہ اللہ ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے تقویٰ اور صبر کی روش پر قائم رہیں.

یہ سچ ہے کہ
لڑکیاں خوشبو، ساون، بارش اور رنگوں کو سوچتی ہیں
لیکن ان کی برداشت کڑی دھوپ کو بھی مات دے جاتی ہے

دل کا بوجھ ہلکا کرنا ہو تو صرف اپنے رب کی بارگاہ میں رویا کرو یہ وہ جگہ ہے جہاں نہ ماضی کا طعنہ، نہ مستقبل کا خوف، بس رحم اور کرم کے پردوں سے ہم گنہگاروں کو ڈھانپ لیا جاتا ہے

اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ الَّذِیْ لَا اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَاَتُوْبُ اِلَیْهِ

ہندو ذہنیت
ایک اسکول میں‌دسویں کا امتحان ہو رہا تھا جس میں‌پچاس مسلمان لڑکے بھی شریک تھے۔امتحان سے پہلے سپروائزر نے سب کی حاضری لی اور مسلمان طلبہ کو الگ کمرے میں‌بیٹھا دیا اور جب انہوں‌نے پرچہ حل کرنا شروع کیا تو ہندو اور سکھ غنڈے تلواریں لے کر ان پر ٹوٹ پڑے صرف دو لڑکے جان بچا کر گھر آئے باقی سب شہید کر دیئے گئے۔

(دلی کی بپتا،شاہد احمد دہلوی)