کبھی کبھی کسی ادیب یا شاعر کو سمجھنے کے لیے ان کی کتابیں پڑھنا کافی نہیں ہوتا، اُن کے خطوط بھی دیکھنے پڑتے ہیں۔ رسمی تحریروں کے مقابلے میں خط میں آدمی کچھ زیادہ اپنے آپ سے قریب دکھائی دیتا ہے؛ کبھی بے تکلف، کبھی شگفتہ، کبھی شکوہ کرتے ہوئے اور کبھی کسی معمولی سی بات پر دل کھول کر بات کرتے ہوئے۔
غالب کے خطوط ہوں، اقبال کے خطوط، سرسید، شبلی، حالی، پطرس، یا کسی اور ادیب، شاعر، دانش ور اور اہلِ قلم کی خط و کتابت—ان خطوط میں صرف دو افراد کے درمیان ہونے والی گفتگو نہیں ملتی بلکہ اپنے زمانے کی زبان، معاشرت، ادبی ماحول اور شخصیات کے مزاج کی بھی بہت سی جھلکیاں محفوظ ہوتی ہیں۔
اسی خیال سے یہ سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے۔ یہاں نامور ادیبوں، شاعروں، دانش وروں اور دوسری اہم شخصیات کے خطوط کی شراکت کی جائے۔ خط مکمل ہو تو مکمل، کسی حصے کی شراکت کرنا چاہیں تو وہ بھی کی جا سکتی ہے۔ اگر خط کا پس منظر، مخاطب کا تعارف یا اس زمانے کے حالات کے بارے میں کچھ معلوم ہو تو ساتھ لکھ دیجیے؛ اس سے خط محض ایک تحریر نہیں رہے گا بلکہ اس کے پیچھے چھپی کہانی بھی سامنے آئے گی۔
نوٹ: آٹوگراف وغیرہ بھی شیئر کیے جا سکتے ہیں۔
ایک گزارش:
تصاویر کی شراکت کا بہتر طریقہ یہی معلوم ہوتا ہے کہ گوگل ڈرائیو یا اس ویب سائٹ پر جائیں۔ امیج کا چناؤ کریں یعنی اپ لوڈ کریں اور پھر وہاں سے ایک ڈائریکٹ لنک ملے گا، وہ محض یہاں پیسٹ کر دیں۔ چند لمحات کے انتظار کے بعد تصویر یہاں نظر آ جائے گا۔ اس طرح اردو فورم پر ناروا بوجھ ڈالے بغیر تصاویر کا بآسانی اشتراک ممکن ہے۔
(سید نذیر نیازی کا علمی پس منظر بہت مضبوط تھا۔ وہ علامہ اقبال کے استادِ محترم میر حسن (شمس العلماء) کے سگے بھتیجے تھے۔ اسی خاندانی تعلق اور علمی ماحول کی وجہ سے انہیں علامہ اقبال کی قربت حاصل ہوئی اور انہوں نے علامہ کی زندگی کے آخری سالوں میں ان کے ساتھ بہت وقت گزارا۔ علامہ اقبال کے خطبات کا اردو ترجمہ ان کا سب سے بڑا علمی کارنامہ ہے یعنی علامہ اقبال کے انگریزی خطبات کی مشہور کتاب The Reconstruction of Religious Thought in Islam کا اردو ترجمہ۔ انہوں نے علامہ اقبال کی زندگی میں ہی ان کی زیرِ نگرانی اس کا ترجمہ شروع کیا، جسے علامہ نے خود بے حد پسند کیا اور یہ “تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ” کے نام سے شائع ہوا۔)
یاد رہے کہ ‘الطواسین’ حسین بن منصور حلاج کی مشہورِ زمانہ کتاب ہے۔
سید علی احسن نام، احسن تخلص، ’’شاہ میاں‘‘ عرف۔ ۹؍نومبر ۱۸۷۶ء کو مارہرہ ضلع ایٹہ میں پیدا ہوئے۔ ۱۸۹۵ء میں داغ کے شاگرد ہوئے۔ ۱۹۲۱ء میں علی گڑھ میں اردو کے لکچرر کے عہدے پر تقرر ہوا۔ ۱۹۲۳ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اردو کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ وفات۳۰؍اگست ۱۹۴۰ء پٹنہ ، جہاں ان کے بیٹے انعام احسن حریف بہ سلسلۂ ملازمت مقیم تھے۔ تدفین مارہرہ۔ ’’جلوۂ داغ‘‘ یعنی حیات داغ ’’انشائے داغ‘‘ یعنی مکتوبات داغ، ’’تاریخ نثر اردو‘‘، ’’یادگار داغ‘‘ یعنی داغ کا آخری دیوان، ’’تحفہ احسن‘‘، ’’احسن الانتخاب‘‘ ، ’’فصیح اللغات‘‘ ان کی یادگار ہیں۔
خط کا پسِ منظر کچھ یوں ہے کہ 1933 میں علامہ محمد اقبال ابن عربی، اسلامی فلسفے اور جدید فلسفیانہ مباحث پر غور کر رہے تھے۔ اور اسی دوران شیخ محی الدین ابن عربی کے تصورِ زمان و مکان کے بارے میں علمی مسئلہ درپیش ہوا ۔ اقبال نے پیر مہر علی شاہؒ کو خط لکھ کر اس سلسلے میں ابن عربی کے تصورِ Space and Time / حقیقتِ زمان کے بارے میں دریافت کیا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پیر صاحب اس وقت شدید استغراق اور علالت کی کیفیت میں تھے۔ ایک روایت کے مطابق انہوں نے خط سن کر فرمایا کہ طبیعت میں افاقہ ہوا تو جواب لکھیں گے، لیکن بیماری طول پکڑ گئی اور جواب نہ لکھ سکے۔