ادارہ فروغ قومی زبان اور اس کی لغت - ڈاکٹر فاروق عادل

صدر ممنون حسین مرحوم کو آذر بائیجان جانا تھا اور سوال یہ تھا کہ صدر الہام علی ایو کے لیے کیا تحفے منتخب کیے جائیں۔ تحفوں کا انتخاب کچھ ایسا مشکل کام بھی نہیں۔ ری سیل ویلیو رکھنے والی کچھ گھڑیاں بھی ہو سکتی ہیں لیکن مرحوم صدر کے ذہن میں کچھ اور تھا۔ وہ کوئی ایسا بامقصد تحفہ پیش کرنا چاہتے تھے جو مستقبل میں پاکستان کی سرمایہ کاری بن جائے۔ یعنی تحفے کو محض تحفہ نہیں ہونا چاہیے۔

اس کی حیثیت پاکستانی مصنوعات کے شو کیس کی ہونی چاہیے۔ مشورے دینے والے بہت تھے لیکن بالآخر صدر مملکت کا ذہن ہی کام آیا۔ فیصلہ ہوا کہ صدر الہام علی ایو اور خاتون اول کو چمڑے کی شان دار مصنوعات پیش کی جائیں۔ اس تحفے نے پاکستان کے لیے کئی دروازے کھولے۔ خیر، یہ تذکرہ طویل ہے اور مجھے آپ کو ایک مختلف کہانی سنانی ہے جس کا تعلق آج کی تقریب سے براہ راست ہے۔

باکو اسٹیٹ یونیورسٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ اس موقع پر صدر صاحب کو پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری پیش کرے گی۔ دورے کے اس پہلو سے فایدہ اٹھا کر میں نے تجویز پیش کی صدر صاحب یونیورسٹی جا رہے ہیں تو اس موقع پر وہ یونیورسٹی کو بھی کوئی شایان شان تحفہ پیش کریں۔ صدر صاحب نے پوچھا کہ تحفے میں کیا پیش کیا جائے؟ میں نے عرض کی کہ اردو ڈکشنری بورڈ کی لغت ہی کیوں۔

اس سے پہلے کہ صدر صاحب کچھ کہتے، پرنسپل سیکریٹری نے سوال کیا۔ میں نے عرض کی کہ تاریخی اصول پر مرتب کی گئی یہ لغت دنیا میں منفرد ہے۔ منفرد اس لیے ہے کہ یہ جس لفظ پر بھی بات کرتی ہے، اس کی صرف جڑ ہی کو تلاش نہیں کرتی بلکہ اس کے آغاز و ارتقا کا پورا سفر بھی بیان کر دیتی ہے۔ یہ خوبی صرف اردو ہی نہیں دنیا کی کسی لغت میں نہیں۔ اس کی ایک خوبی اور بھی ہے۔ روایت کے مطابق زبان کی سند ہمیشہ شعر سے لی جاتی ہے لیکن یہ لغت اس اعتبار سے بھی منفرد ہے کہ اس میں شعر کے ساتھ ساتھ نثر سے بھی سند پیش کی گئی ہے۔

یہ ایک ایسی انفرادیت ہے جس کا کوئی ثانی اب تک تو نہیں ہے۔ یہ سوال ذہن میں آ سکتا ہے کہ ایسا کیوں ضروری ہے؟ یہ سوال ضرور اٹھنا چاہیے لیکن جو لوگ نظم اور نثر کے مزاج کے فرق کو سمجھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ اس لغت کی صورت میں انھیں کتنی بڑی نعمت میسر آ گئی ہے۔میں نے یہ عرض کی لیکن بات ختم نہ کی۔ یہ بتانا ضروری سمجھا کہ کتنے بڑے بڑے لوگوں نے اس کار خیر میں حصہ لیا جیسے بابائے اردو مولوی عبدالحق، شاعر انقلاب حضرت جوش ملیح آبادی، شان الحق حقی، ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی، ڈاکٹر فرمان فتح پوری، نسیم امروہوی اور جون ایلیا سمیت بہت سے دیگر اکابر اور اہل علم۔

صدر صاحب نے میری عرض داشت توجہ سے سنی اور فیصلہ کر دیا کہ باکو اسٹیٹ یونیورسٹی کو اردو لغت ہی تحفتاً پیش کی جائے گی۔ فیصلہ تو ہو گیا لیکن لغت کیسے حاصل کی جائے، یہ ایک مہم بن گئی۔ اردو لغت بورڈ سے رابطہ کیا گیا، معلوم ہوا کہ اس لغت کی تو اب کوئی ایک جلد بھی دستیاب نہیں ہے۔ ایوان صدر کے مطالبے پر بورڈ نے اپنے ریکارڈ کا ایک سیٹ ارسال کر دیا لیکن سیٹ دیکھ کر اندازہ ہو گیا کہ اردو لغت بورڈ کے بزرگوں نے کس کسمپرسی کے عالم میں کام کیا ہو گا۔ ڈکشنری کا کاغذ باریک ہوتا ہے، اس کا کاغذ بھی باریک تھا لیکن ردی، ہاتھ لگاتے ہوئے ڈر لگتا تھا۔ اس پر طرفہ یہ کہ کئی جلدوں کے کاغذ کا رنگ مختلف تھا اور جلدوں کے سائز میں بھی فرق تھا۔ اندازہ کیجیے کہ یہ وہ تحفہ تھا جو صدر مملکت نے باکو اسٹیٹ یونیورسٹی کو پیش کیا۔

ایک زمانے سے خواہش تھی کہ دنیا کی یہ جدید ترین اور منفرد لغت جو ٹوٹے پھوٹے ٹائپ پر شائع ہوئی ہے، اسے نوری نستعلیق کے دیدہ زیب خط میں کمپوز کر کے بین الاقوامی معیار کے مطابق شائع کیا جائے لیکن یہ بھاری پتھر کون اٹھائے؟ اللہ کا شکر ہے کہ قدرت نے یہ قرعہ فال ہمارے استاد، دوست اور بھائی پروفیسر ڈاکٹر سلیم مظہر کے نام نکالا۔ آج اس عظیم الشان لغت کی طبع جدید کی یہ شان دار شکل سامنے آئی ہے تو دو چہرے میرے سامنے آتے ہیں۔ ایک صدر ممنون حسین کا چہرہ جو اس حالت میں باکو اسٹیٹ یونیورسٹی کو لغت پیش کرتے ہوئے کچھ بے چین تھے۔

مجھے یقین ہے کہ آج جس شان و شوکت کے ساتھ یہ لغت ہمارے ہاتھوں میں ہے، وہ اسے دیکھ کر نہال ہو جاتے۔ دوسرا چہرہ باکو یونیورسٹی کے صدر شعبہ اردو کا ہے۔ لغت وصول کرتے ہوئے وہ کہنے لگے کہ ایک مدت سے خواہش تھی کہ اس لغت کی زیارت ہو سکے اور اس سے استفادے کی کوئی صورت پیدا ہو جائے۔ اللہ کا شکر ہے کہ آپ کے ہاتھوں یہ آرزو پوری ہوئی۔ میں سوچتا ہوں کہ ان کی یہ آرزو اگر اس اہتمام اور شان و شوکت سے شائع ہونے والی جلدیں وصول کر کے پوری ہوتی تو کمال ہو جاتا۔ خیر، اب شرمندگی کا داغ دھل چکا ہے اور ہم یہ قابل دید جلدیں اپنے دوستوں اور مہمانوں کو کسی معذرت کے بغیر پیش کر سکتے ہیں۔

اردو لغت کی طبع جدید کی خوشی میں ہمیں ایک اور بات بھولنی نہیں چاہیے۔ یہ کہ کاغذ کا دور اب ختم ہو رہا ہے۔ خود ہماری حکومت بھی پیپر لیس ہو رہی ہے۔ دنیا بھر کی لغت بھی اسی طرح پیپر لیس ہو رہی ہیں۔ یہی تبدیلی تھی جس کے پیش نظر اس لغت کی ایپ تیار کی گئی۔ یہ بڑی مؤثر اور کامیاب ایپ تھی، افسوس کہ یہ ایپ وسائل کی کمی کی وجہ سے غیر مؤثر ہو گئی۔ اب اردو والوں کو اس کام کے لیے ویب سائٹ پر جانا پڑتا ہے۔ دنیا جتنی تیز رفتار ہو گئی ہے، ویب سائٹ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

کالم: ایکسپریس نیوز

یہ اگر اجرا پر کہا گیا تو کیا اس کی ویب گاہ کہیں موجود ہے یا فی الحال اس پر کام چل رہا ہے؟

ڈیجیٹل لغت کے بے شمار فائدے ہیں، میرا تو خیال ہے لغت جیسی ٹقیل شے کے لیے ڈیجیٹل بہتر ہے، جب چاہیں ترمیم کیجیے، اور اس کا کوئی ڈھائی کلو کا وزن بھی نہیں

1 پسند

جی ہاں، یہ لغت موجود ہے۔ اس لنک پر کلک کیجیے۔

ان کی یہ ویب گاہ اپنی مرضی پر کام کرتی ہے، اور اکثر دو چار الفاظ کی تلاش کے بعد جواب دے جاتی ہے۔ ان دنوں کسی معجزے سے صحیح طور پر چل رہی ہے۔

1 پسند

یعنی کہ کچھ ایسی صورت ہے، بقول سید ضمیر جعفری،

توانائی قلیل اس کی تو بینائی بخیل اس کی
کہ اس کو مدتوں سے کھا چکی عمر طویل اس کی

کبھی بیلوں کے پیچھے جوت کر چلوائی جاتی ہے
کبھی خالی خدا کے نام پر کھچوائی جاتی ہے

بہ طرز عاشقانہ دوڑ کر بے ہوش ہو جانا
بہ رنگ دلبرانہ جھانک کر روپوش ہو جانا

قدم رکھنے سے پہلے لغزش مستانہ رکھتی ہے
کہ ہر فرلانگ پر اپنا مسافر خانہ رکھتی ہے

شکستہ ساز میں بھی محشر نغمات رکھتی ہے
توانائی نہیں رکھتی مگر جذبات رکھتی ہے

پرانے ماڈلوں میں کوئی اونچی ذات رکھتی ہے
ابھی پچھلی صدی کے بعض پرزہ جات رکھتی ہے

غم دوراں سے اب تو یہ بھی نوبت آ گئی، اکثر
کسی مرغی سے ٹکرائی تو خود چکرا گئی، اکثر

2 پسندیدگیاں

ارے یہ تو پاکستانی حکومت کی طرف سے ہے، یہی ان کا ہے؟ بھئی واہ

1 پسند

کچھ اشعار محذوف ہیں اس میں تو

۔ کیوں ؟

لیجیے جنابِ محترم

پرانی موٹر

عجب اک بار سا مردار پہیوں نے اٹھایا ہے
اسے انساں کی بد بختی نے جانے کب بنایا ہے
نہ ماڈل ہے نہ باڈی ہے نہ پایہ ہے نہ سایہ ہے
پرندہ ہے جسے کوئی شکاری مار لایا ہے
کوئی شے ہے کہ بیّنِ جسم و جاں معلوم ہوتی ہے
کسی مرحوم موٹر کا دھواں معلوم ہوتی ہے
طبعیت مستقل رہتی ہے ناساز و علیل اس کی
اٹی رہتی ہے نہر اس کی ٬ پھٹی رہتی ہے جھیل اس کی
توانائی قلیل اس کی تو بینائی بخیل اس کی
کہ اس کو مدتوں سے کھا چکی عمر طویل اس کی
گریباں چاک انجن یوں پڑا ہے اپنے چھپر میں
کہ جیسے کوئی کالا مرغ ہو گھی کے کنستر میں
ولایت سے کسی سرجارج ایلن بی کے ساتھ آئی
جوانی لٹ گئی تو سندھ میں یہ خوش صفات آئی
وہاں جب عین اس کے سر پہ تاریخِ وفات آئی
نہ جانے کیسے ہاتھ آئی مگر پھر اپنے ہات آئی
ہمارے ملک میں انگریز کے اقبال کی موٹر
سن اڑتالیس میں پورے اٹھتر سال کی موٹر
یہ چلتی ہے تو دوطرفہ ندامت ساتھ چلتی ہے
بھرے بازار کی پوری ملامت ساتھ چلتی ہے
بہن کی التجا٬ماں کی محبت ساتھ چلتی ہے
وفائے دوستاں بہرِ مشقت ساتھ چلتی ہے
بہت کم اس خرابے کو خراب انجن چلاتا ہے
عموما زورِ دستِ دوستاں ہی کام آتا ہے
کبھی بیلوں کے پیچھے جوت کر چلوائی جاتی ہے
کبھی خالی خدا کے نام پر کھچوائی جاتی ہے
پکڑ کر بھیجی جاتی ہے٬ جکڑ کر لائی جاتی ہے
وہ کہتے ہیں کہ اس میں پھر بھی موٹر پائی جاتی ہے
اذیت کو بھی اک نعمت سمجھ کر شادماں ہونا
تعال اﷲ یوں انساں کا مغلوبِ گماں ہونا
بہ طرزِ عاشقانہ دوڑ کر٬ بے ہوش ہو جانا
بہ رنگِ دلبرانہ جھانک کر٬ روپوش ہوجانا
بزرگوں کی طرح کچھ کھانس کر خاموش ہوجانا
مسلمانوں کی صورت دفعتا پر جوش ہوجانا
قدم رکھنے سے پہلے لغزشِ مستانہ رکھتی ہے
کہ ہر فرلانگ پر اپنا مسافر خانہ رکھتی ہے
دمِ رفتار دنیا کا عجب نقشا دکھائی دے
سڑک بیٹھی ہوئی اور آدمی اڑتا دکھائی دے
نظام زندگی یکسر تہہ و بالا دکھائی دے
یہ عالم ہو تو اس عالم میں آخر کیا دکھائی دے
روانی اس کی اک طوفانِ وجد و حال ہے گویا
کہ جو پرزہ ہے اک بپھرا ہوا قوّال ہے گویا
شکستہ ساز میں بھی ٬ محشر نغمات رکھتی ہے
توانائی نہیں رکھتی مگر جذبات رکھتی ہے
پرانے ماڈلوں میں کوئی اونچی ذات رکھتی ہے
ابھی پچھلی صدی کے بعض پرزہ جات رکھتی ہے
غمِ دوراں سے اب تو یہ بھی نوبت آگئی٬ اکثر
کسی مرغی سے ٹکرائی تو خود چکرا گئی، اکثر
ہزاروں حادثے دیکھے٬ زمانی بھی مکانی بھی
بہت سے روگ پالے ہیں زراہِ قدر دانی بھی
خجل اس سخت جانی پر ہے مرگِ ناگہانی بھی
خداوندا نہ کوئی چیز ہو٬ اتنی پرانی بھی
کبھی وقتِ خرام آیا تو ٹائر کا سلام آیا
تھم اے رہرو کہ شاید پھر کوئی مشکل مقام آیا

1 پسند

ہمارے آٹھویں کے کورس میں شامل تھی یہ نظم۔ اگر چہ مکمل نہیں سات آتھ اشعار تو تھے ۔ ناسٹلجک کیفیت کے تحت پیغام لکھا، سو شکریہ ۔

1 پسند