گزارش ہے کہ اس شعر کا مفہوم سمجھا دیں

گزارش ہے کہ اس شعر کا مفہوم سمجھا دیں۔

قتلِ عاشق کسی معشوق سے کچھ دور نہ تھا
پر تیرے عہد سے آگے تو یہ دستور نہ تھا

خواجہ میر درد

@جگرِلالہ کو یہاں کا انٹرفیس سمجھ نہ آ سکا تو ان کے لیے یہ دھاگا شروع کیا، سوال انہی کا ہے

2 پسندیدگیاں

@جگرِلالہ ذیل میں دئیے گئے موضوعات دیکھیں

آسان سا مطلب جو میری سمجھ میں آتا ہے ، یہ ہے:

روایت رہی ہے کہ معشوق ناز و ادا سے عاشقوں کی جان لے لیا کرتے تھے یعنی قتل ہی تو کر دیتے تھے۔ مگر اب معاملہ اس سے زیادہ بڑھ چکا ہے۔ جس بے رحمی اور نئے انداز سے تم، یعنی معشوق، نے یہ سلسلہ شروع کیا ہے، اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ یہ تو کوئی نیا دستور معلوم ہوتا ہے۔

2 پسندیدگیاں

۱۰ ستمبر

جشن مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھی
پا بجولاں ہی سہی ناچتے گاتے جاتے

احمد فرازؔ

@جگرِلالہ اس کا مفہوم سمجھنا چاہتی ہیں

شاعر کے مطابق، ہم اپنے مقصد اور سچائی کی راہ میں جان دینے کے لیے بھی تیار تھے چاہے ہمیں موت کا سامنا بھی کرنا پڑتا۔ ایسا ہوتا تو ہم پاؤں میں زنجیریں بندھی ہونے کے باوجود خوشی خوشی ہنستے گاتے وہاں چلے جاتے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہمیں حق کے لیے جان قربان کرنے کا موقع ہی نہیں ملا، ورنہ ہمارے حوصلے میں کوئی کمی نہیں تھی۔

فراز کے اس شعر سے فیض احمد فیض کی مشہورِ زمانہ نظم “آج بازار میں پا بہ جولاں چلو” یاد آ گئی۔

2 پسندیدگیاں