ڈگری ہے لیکن علم نہیں

کل کا دن میرے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھا۔ اپنی بیٹی کی پانچویں جماعت کی نوٹ بک کھولی تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ ریاضی کے سوالات میں غلطیوں کی بھرمار تھی، لیکن اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات اس پر لگے ہوئے وہ ویری گڈ کے نشانات تھے جو اس کے استانی صاحبہ نے نہایت لاپرواہی اور بلائنڈلی لگا دیے تھے۔ پانچویں جماعت کی بچی جسے ضرب کا بنیادی قاعدہ تک معلوم نہیں، اسے پورے نمبر دے کر پاس کیا جا رہا تھا۔
​میں نے سوچا شاید یہ میرے بچی کے اسکول کا مسئلہ ہے، شاید سرکاری اسکولوں کی یہی حالت ہے جہاں تعلیم اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔ میں انہی سوچوں میں گم تھا کہ ایک اور واقعہ ہوا جس نے میری سوچ کو ہلا کر رکھ دیا۔
​میری بھانجی، جو باجوڑ کے ایک مہنگے اور ہائی سٹینڈرڈ پرائیویٹ اسکول میں پڑھتی ہے، وہ بھی پانچویں جماعت میں ہے۔ میں نے اسے آزمانے کے لیے کاپی پر ایک سادہ سا ضرب کا سوال لکھا کہ 67 کو 76 سے ضرب دیں۔
​مجھے امید تھی کہ کم از کم وہ ایک پرائیویٹ اسکول کی طالبہ ہے، کچھ تو بہتر کرے گی۔ لیکن جو میں نے دیکھا، وہ میری بچیوں سے بھی دو ہاتھ آگے نکلی۔ اس نے 67 کو 76 سے ضرب دینے کے لیے جو طریقہ کار اختیار کیا، وہ دیکھ کر میں مبہوت رہ گیا۔ اس نے 7 کو 6 سے ضرب تو دی لیکن 42 کے 4 کو نیچے لکھا اور 2 کو حاصل کیا اور پورے کے پورے ہندسے ہی الٹ پلٹ کر دیے۔ وہ بنیادی اصول، وہ حاصل لینے کا طریقہ اور ضرب کے بنیادی سٹیپس سے ناخبر تھی۔
یہ کوئی انفرادی واقعہ نہیں، یہ ہمارے آج کے تعلیمی نظام کا اصل چہرہ ہے۔ استاد کو یہ پرواہ ہی نہیں کہ بچہ کیا سیکھ رہا ہے، بس کاپی مکمل ہونی چاہیے. بھاری فیسیں وصول کرنے والے ادارے ہائی سٹینڈرڈ کے نام پر صرف ڈگریوں کی دوڑ میں شامل ہیں، جہاں علم کی بنیادیں ہی کھوکھلی ہیں.
اصل بات یہ ہے کہ کورونا کے دور میں دی جانے والی آسان پاسنگ نے تعلیمی معیار کی کمر توڑ دی ہے۔ آج کے نوجوان اساتذہ، جو خود اسی نظام کی پیداوار ہیں، نہ تو وہ خود سیکھ پائے ہیں اور نہ ہی اگلی نسل کو سکھانے کے اہل ہیں۔
​ہم نے بچوں کو اسکولوں میں تو داخل کروا دیا، لیکن انہیں وہ استاد نہیں ملے جو ان کے ذہنوں میں شعور کی شمع روشن کر سکیں۔ ہم ڈگری یافتہ ان پڑھ پیدا کر رہے ہیں، جنہیں یہ تو معلوم ہے کہ موبائل پر ویڈیو کیسے چلانی ہے، مگر یہ نہیں معلوم کہ ریاضی کے بنیادی سوال کو کیسے حل کرنا ہے۔
​یہ محض تعلیمی زوال نہیں، یہ ایک قومی مسئلہ ہے، جس کی قیمت آنے والی نسلیں اپنی ناکامیوں کی صورت میں ادا کریں گی۔ اگر آج ہم نے اپنی آنکھیں نہ کھولیں، تو یاد رکھیے کہ آنے والا کل ان ہاتھوں میں ہوگا جو ضرب کے اصولوں سے بھی ناواقف ہیں۔

1 پسند

میرا تو سادہ سا مشورہ ہے۔ اگر والدین پڑھے لکھے ہیں تو کم از کم پاکستان کی حد تک ہوم اسکولنگ بہتر ہے۔

بچہ بڑا ہو جائے تو یا تو او لیول، اے لیول کی طرف چلے جائیں۔

یا

سیدھے سبھاؤ آٹھویں نویں میں داخل کروا دیں اور بورڈ کے امتحان دلوا دیں۔

آپ کی بات سے متفق ہوں کہ تعلیمی معیار پستی کی طرف جا رہا ہے۔ چند معیاری اسکول تو یقیناً موجود ہیں۔ تاہم، اُن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

2 پسندیدگیاں

آپ کی بات درست ہے وجہ یہی ہے کہ ایک تو تعلیم مہنگی اور بھاری بھاری فیسیں اور ہاتھ کچھ نہیں اس سے تو بہتر ہے کہ بچہ کو گھر میں پڑھا کر
آٹھویں میں ایڈمیشن کروادیں اور میٹرک ہوجائے یہی حل باقی رہ گیا ہے

1 پسند

آپ کی بات میں سچائی بھی ہے اور ایک گہرا دکھ بھی، جو آج کل کے تعلیمی نظام کی مہنگائی اور کمزور معیار کی وجہ سے والدین محسوس کر رہے ہیں۔ بھاری فیسیں دینے کے باوجود جب بچوں میں وہ صلاحیت یا اخلاقیات نظر نہیں آتیں، تو ایسا سوچنا بالکل فطری ہے لیکن کیا، “یہ کوئی بہتر حل نہیں ہے”۔ اس کی چند اہم وجوہات ہیں جن پر غور کرنا ضروری ہے:

سماجی تربیت کا فقدان: اسکول صرف کتابیں پڑھنے کی جگہ نہیں ہے۔ وہاں بچہ دوسرے بچوں سے ملتا ہے، دوستی کرتا ہے، مسائل حل کرنا اور معاشرے میں رہنا سیکھتا ہے۔ گھر میں اکیلے پڑھنے سے بچہ تنہائی پسند ہو سکتا ہے۔۔

مقابلے کا رجحان (Competition): جب بچہ کلاس میں بیٹھتا ہے، تو اس میں آگے بڑھنے اور کچھ اچھا کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ گھر کے ماحول میں یہ جذبہ برقرار رکھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

نظم و ضبط (Discipline): روز صبح وقت پر اٹھنا، یونیفارم پہننا، اور ایک ٹائم ٹیبل کے تحت چلنا بچے کو وقت کی پابندی اور ڈسپلن سکھاتا ہے۔

ہوم اسکولنگ کے ساتھ سرگرمیاں: اگر آپ بچے کو گھر پر ہی پڑھانا چاہتے ہیں، تو اسے صرف کتابوں تک محدود نہ رکھیں۔ اسے شام میں کسی کھیل کی اکیڈمی، قاری صاحب کے پاس، یا کسی سماجی مرکز میں بھیجیں تاکہ اس کی سماجی تربیت متاثر نہ ہو۔

ایسے تعلیمی نیٹ ورکس تلاش کریں جن کا مقصد کاروبار کے بجائے خدمت ہو۔ پاکستان میں The Citizens Foundation (TCF)، کمیونٹی اسکولز، یا کچھ اچھے سرکاری ماڈل اسکولز اب بہت بہتر نتائج دے رہے ہیں، جہاں فیسیں نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن ڈسپلن اور تعلیم کا معیار نجی اسکولوں سے بہتر ہے۔۔۔۔۔

Manzil Educational Organisation جیسے فلاحی ادارے ہی اس وقت متوسط اور غریب طبقے کے لیے امید کی اصل کرن ہیں۔ یہ وہ منفرد ماڈل ہے جہاں تعلیم کو کاروبار نہیں، بلکہ ایک مشن سمجھ کر چلایا جاتا ہے۔ ہم Manzil Educational Organization کے طریقہ کار کو دیکھیں، تو یہ عام رٹہ سسٹم والے اسکولوں سے بالکل مختلف اور جدید خطوط پر کام کر رہے ہیں۔۔۔

پروجیکٹ بیسڈ لرننگ (Project-Based Learning): یہ بچوں کو صرف کتابیں رٹوانے کے بجائے چیزوں کو عملی طور پر ایکسپلور اور دریافت کرنا سکھاتے ہیں۔۔ہنر اور پیشہ ورانہ تربیت (Vocational Training): صرف میٹرک کی ڈگری نہیں، بلکہ یہ اپنے مراکز میں بچوں کو عملی ہنر بھی سکھاتے ہیں تاکہ وہ فوری طور پر روزگار کمانے کے قابل ہو سکیں۔۔

خاندان کی کفالت اور سپورٹ: یہ صرف بچے کو نہیں پڑھاتے، بلکہ ضرورت مند خاندانوں کو راشن، نیوٹریشن اور ماؤں کی تعلیمکی سہولیات بھی فراہم کرتے ہیں تاکہ گھر کا ماحول تعلیمی بن سکے۔

2 پسندیدگیاں