تخلیق کائینا ت

تخلیق کائینا ت کس کشمکش میں مبتلا ہے اس جہاں کو بنا کر تمام مخلوق کا مالک آخر کیا چاہتا ہے۔ جب اسے کسی شے کی ضرورت نہیں تو کس کی اسے تلاش ہے۔ خود کو چھپا کر تلاش کرنے کی خواہش وہ بھی ایسی مخلوق سے جسے اس نے خود پیدا کیا ہے۔ مختصر اختیار کیسے اس ہستی کو جان سکتی ہے جو خود مجبور ،لاچار اپنے خالق کی رضا اور مرضی کے بغیر سانس لینے سے بھی قاصر ہے۔ بھلا کیسے ممکن ہے جو خود اپنا سامنا نہیں کر سکتا۔ زندگی کے گذرے ادوار جھوٹ فریب، دغہ، غیبت، لالچ، تنگ نظری، بے حرمتی ، وہ لہجے جس نے دل آزاری میں مبتلا کیا ہو سب چھپے راز، آیاں ہونے پر کیسے سامنا کر سکے گا۔ سہیل نوشاہی

1 پسند

آپ کے دھاگہ کی سمجھ نہیں آئی۔
خوش آمدید
دعا گو کہ آپ کا یہاں پر وقت خوش گوار گزرے۔
ہمارے نگران @عملہ آپ کی مدد کے لیے حاظر ہیں کہیں کوئی مشکل آئے تو ضرور یاد کیجیے گا۔

1 پسند

ہمیں بھی فرحان میاں کی طرح آپکے دھاگے کی سمجھ نہیں آئی ۔۔۔

اردو فورم پہ خوش آمدید ۔۔۔

انسان کو اس کائنات میں اللہ تعالی نے اپنا “نائب” (خلیفہ) بنایا۔ کائنات کی دیگر اشیاء (پہاڑ، درخت، فرشتے) مجبور ہیں، وہ خدا کی صفات کا شعوری ادراک نہیں کر سکتے۔ انسان کو عقل اور جزوی اختیار دے کر ایک ایسا آئینہ بنایا گیا جو خدا کی صفات (رحمت، مغفرت، عدل، حسن) کو سمجھ سکے اور محبت کا جواب محبت سے دے سکے۔

پروردگار سامنے ظاہر ہو جاتا، تو انسان کے پاس انکار کی گنجائش ہی نہ رہتی۔ پھر اختیار اور آزمائش کا مقصد ختم ہو جاتا۔ چھپنے میں یہ راز ہے کہ انسان اپنی عقل، دل کی بصیرت اور روح کی پکار کے ذریعے اپنے خالق کو ڈھونڈے۔۔۔۔۔۔

1 پسند

دراصل یہ تحریر اک سوچ پر مبنی ہے۔ انسان کی بے بسی، اپنے خالق کی معرفت کی جستجو، اور اپنے اعمال کے انجام کا احساس۔

2 پسندیدگیاں

انسان اپنی روزمرہ کی مصروفیات میں اکثر یہ بھول جاتا ہے کہ وہ وقت کی جس لہر پر سوار ہے، وہ اسے تیزی سے ایک ایسے مقام کی طرف لے جا رہی ہے جہاں واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ ہماری زندگی کا ہر ایک دن، ہر ایک فیصلہ، اور یہاں تک کہ دل میں ابھرنے والا ہر ایک خیال، مٹی پر لکھے کسی عارضی نقش کی طرح نہیں ہے۔ یہ تو وہ بیج ہیں جو ہم اپنی ابدی زندگی کی فصل کے لیے آج بو رہے ہیں۔وہی کاٹنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔

1 پسند

جب انسان اس حقیقت پر غور کرتا ہے، تو اس پر ایک عجیب مہیب سکتہ طاری ہوتا ہے۔ وہ بے بسی جو اسے کائنات کے سامنے محسوس ہوتی تھی، اب ایک ذمہ داری کے احساس میں بدل جاتی ہے۔ خود احتسابی (Self-Accountability) کوئی سزا نہیں، بلکہ روح کا وہ آئینہ ہے جس میں انسان اپنے اعمال کے داغ دیکھتا ہے اور انہیں دھونے کی کوشش کرتا ہے۔ عارضی زندگی کے اعمال کا مستقل انجام ہی وہ ترازو ہے جو ہمارے آج کے فیصلوں کو سنجیدگی اور وزن عطا کرتا ہے۔

1 پسند