لالچ ۔ لالچ لاشعوری طور پر انسان کے اندر پوشیدہ ایک جرم ہے۔

لالچ

تحریر ۔ شاہد شکیل

قدیم زمانے سے کہا جاتا ہے کہ “لالچ بری بلا ہے”، لیکن موجودہ دور میں لالچ محض ایک کہاوت یا اخلاقی خامی نہیں رہا بلکہ یہ ایک شدید ذہنی بیماری، نفسیاتی عارضے اور احساسِ کمتری کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ لالچ انسانی ذہن و فکر کے اندر ایسا خرافات، فتور اور جراثیم ہے جس سے عموماً موقع پرست انسان اپنے مفاد اور سہولت کی خاطر ہر جائز و ناجائز موقع اور ذرائع سے اپنے جنون کی تسکین چاہتا ہے۔ دیکھا جائے تو یہ بیماری ہر انسان کے وجود میں خون کی طرح گردش کرتی ہے۔ لالچ صرف مال و دولت ہی کی نہیں ہوتی بلکہ ہر وہ شے جسے پانے کی سوچ یا خواہش سے انسان دور ہو اور اسے پانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا جائے، وہ لالچ کے زمرے میں آتا ہے۔ انسانی ذہن ایک ایسی مشین ہے جو گرگٹ کی طرح ہر پل، ہر لمحے اپنا رنگ بدلتی ہے۔ انسانی سوچ یا خواب دیکھنے پر دنیا بھر میں نہ تو ممانعت ہے اور نہ کوئی پابندی عائد ہوتی ہے۔ شاید کچھ سالوں بعد سائنس یہ دریافت کر لے کہ منفی سوچ رکھنے والے افراد پر فرد جرم عائد کی جائے، لیکن سوال یہ ہے کہ ماضی میں انسان اس وائرس میں مبتلا نہیں تھا تو آج کیوں ہے؟ اس نکتے پر فکر گاڑھے بیٹھا ہے جو پرکشش ضرور ہے، لیکن اسے پا لینے سے اگر کوئی نقصان نہیں تو رتی برابر فائدہ بھی نہیں! محققین انسان کے دماغ پر انتہائی گہرائی سے ریسرچ کر رہے ہیں کہ آخر انسان میں یہ وائرس کیوں پیدا ہوتا ہے، اور اگر وہ اپنی مطلوبہ شے حاصل نہ کر سکے تو اس کے ذہن اور جسمانی صحت پر کتنا گہرا منفی اثر پڑتا ہے۔ مہذب معاشرے یا قدمت پسند اقوام میں امیر و غریب، گورے اور کالے ہر طرح کے انسان بستے ہیں؛ کچھ لوگ جتنا ہے اس پر قناعت کرتے ہیں اور کچھ ہر شے سے مالا مال ہونے کے باوجود مزید حرص اور لالچ کے امراض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ کیونکہ لالچ ایک ایسا اژدہا ہے جو ہر معاشرے میں پھن پھیلائے بیٹھا ہے اور پل پل ڈس رہا ہے۔ اس کے زہر کا علاج ابھی تک سائنسدان دریافت نہیں کر سکے، کیونکہ یہ ایک ایسی بیماری ہے جو کسی کو دکھائی نہیں دیتی اور نہ ہی کسی عام یا مہلک بیماری سے اس کا موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ اس گھٹیا بیماری میں مبتلا انسان سوائے کڑھنے، جلنے اور اندر ہی اندر بھسم ہونے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا؛ اس کا دل و دماغ الجھنوں اور خواہشات کی کشمکش میں رہتا ہے اور جب تک انسان زندہ ہے دنیا کی تمام بیماریوں پر شاید قابو پانے کے بعد شفایاب ہو جائے ، لیکن لالچ کے مرض میں مبتلا انسان کی جان مر کر ہی چھوٹتی ہے۔ لالچ لاشعوری طور پر انسان کے اندر پوشیدہ ایک جرم ہے۔ لالچ میں اگر انسان اندھا ہو جاتا ہے تو نہ تو اپنی اور نہ ہی دوسروں کی کوئی پروا ہوتی ہے، وہ بے خوف و خطر ہر وہ کام کرتا ہے جو بظاہر اس کی نظر میں جائز اور درست ہوتا ہے۔ لالچ کی یہ بیماری جتنی زیادہ ایک امیر انسان میں پائی جاتی ہے، اتنی ہی سخاوت اور قناعت ایک غریب میں ہوتی ہے۔ امیر کی پیاس کو ئی پانی نہیں بجھائے گا جبکہ ایک غریب پیاسا ہوتے ہوئے بھی دوسرے کی پیاس بجھاتا ہے۔ مانا کہ میڈیا میں صرف انہیں معروف ہستیوں کے کارناموں کو ہی ہائی لائٹ کیا جاتا ہے جو ایک طرف فلاحی کام بھی اپنے مفاد کے لیے کرتے ہیں، لیکن اگر کسی جرم میں ملوث پائے جائیں تو تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں؛ مثلاً سیاست دان، کھلاڑی، بزنس مین وغیرہ۔ دوسری طرف اگر ایک غریب کسی کی جان بچاتے ہوئے خود موت کا شکار ہو جاتا ہے تو میڈیا کا کوئی پاپارازی وہاں دوڑ نہیں لگاتا۔ آج کل تو صحافت جیسے پروقار شعبے میں بھی لالچ کا عنصر گھس گیا ہے؛ کچھ جاہل افراد نے اس پروفیشن کو دھندا بنا لیا ہے، اپنی جہالت کو قابلیت تصور کرنے لگے ہیں۔ کسی تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوان کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا، یا نیوز اور کالموں کی چوری کرنا عام سی بات ہو گئی ہے، یہ بھی لالچ اور جرائم کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔موجودہ دور میں جس سے بھی دھوکہ دہی، فراڈ اور بے ایمانی سے حاصل ہو حاصل کرتا ہے، کیونکہ یہ وہ دور نہیں کہ جیسے ایک محاورہ تھا جو اب تاریخ کا حصہ بن گیا ہے کہ “فلاں شے کو حاصل کرنے کے لیے پاپڑ بیلے پڑے”، تب جا کر حاصل ہوئی۔ محققین کے مطابق لالچ ایک لاعلاج بیماری ہے؛ اس میں مبتلا ہو کر کئی انسان دماغی توازن کھو دیتے ہیں۔ نفسیاتی ریسرچ کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے ایسے افراد پر پاگل پن سوار ہو جاتا ہے اور عمر کے ایک حصے میں پہنچ کر شدید نفسیاتی امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ چونکہ معاشرے میں ایمانداری کا فارمولا اپنی وقعت کھو بیٹھا ہے، اور ہر کوئی دھوکہ دہی، فراڈ ، بے ایمانی اور غیر قانونی کو قانونی شکل دے کر ہی مال بٹورنے کی راہ پر چل نکلا ہے۔ چاہے ناجائز ہی کیوں نہ ہو۔سوال یہ بھی ہے کہ کیا لالچ اور دماغ کا کوئی کنکشن ہے؟ کیا چیز ہے جو انسان کے دماغ کو اکساتی ہے کہ وہ چیز کسی بھی قیمت پر بھی حاصل کرنا ہے، کیوں ایک جنون طاری ہو جاتا ہے؟ ایک مثال سیاست دانوں میں پائی جاتی ہے کہ بادشاہت کی کرسی حاصل کرنے کے لیے وہ سب کچھ کر گزرتے ہیں ۔

کھلاڑی چند ٹکوں کی خاطر ملک و قوم کی عزت وقار داؤ پر لگا کر کوڑیوں کے بھاؤ بک جاتے ہیں۔ ایسے لوگ جو شارٹ کٹ میں سو، ہزار اور ہزار کو کروڑ میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم اور لالچ کے وائرس میں مبتلا ہو کر مردہ ضمیر انسان کہلائے جاتے ہیں۔آج کے نظام میں بہت سی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ سب سے اول تبدیلی ترقی پذیر ممالک میں انسان کی بنیادی ضروریات ہیں، جن میں سہولت، تحفظ اور قوانین سرِ فہرست ہیں۔ جب ایک عام انسان کی بنیادی ضروریاتِ زندگی پوری ہوں گی، قانون کی اجارہ داری ہوگی، تو اس کا ذہن بھی جرائم کی طرف مائل نہیں ہوگا، نظام کی خرابی ہی جرائم کو جنم دیتی ہے۔ اور ہر انسان کے دماغی میکانزم کو بری طرح کچلتی ہوئی پہلے منفی سوچ پیدا کرتی ہے اور بعد میں جرائم کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ نظام کی بہتری فرد واحد کی نہیں بلکہ اجتماعی اور انفرادی فرائض میں شمار ہوتی ہے؛ انسان چاہے تو بڑے سے بڑے طوفان کا رخ موڑ سکتا ہے۔ وہی معاشرہ کامیاب اور ترقی یافتہ کہلاتا ہے جو متحد ہوتا ہے، کیونکہ ان کے دل و دماغ میں لالچ کا سانپ نہیں رہتا، اور وہ اپنے ذہن اور شعور کی صلاحیت پر کنٹرول کرتے ہوئے کسی دوسرے انسان پر تہمت یا الزام لگانے کے بجائے اپنی خود اعتمادی اور خودداری سے کامیابی حاصل کرتا ہے۔

3 پسندیدگیاں