دس دن
تحریر ۔ شاہد شکیل
انسان بنیادی طور پر مرنے کے لیے ہی پیدا ہوا ہے، لیکن زندگی اور موت کا مطلق اختیار صرف ربِ کریم کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جب چاہے کسی کو اپنے پاس بلا لے اور جب چاہے انسان کو بالکل موت کے دہانے پر لا کھڑا کر کے اسے ایک نئی زندگی عطا کر دے۔ انسان اپنی کم فہمی میں سمجھتا ہے کہ بس اب چند لمحوں کا کھیل باقی ہے اور وہ اس دنیا سے رخصت ہونے والا ہے، مگر عین اسی وقت غیب سے زندگی کا نیا در کھل جاتا ہے۔ سائنس اور طب کی دنیا میں کئی باتوں کو ممکن اور کئی کو ناممکن گردانا جاتا ہے، لیکن جب انسانی عقل اور سائنس کے تمام کلیے عاجز آ جاتے ہیں تو معاملے کو خدا کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ اس حقیقت سے دنیا کا کوئی ڈاکٹر یا سائنسدان انکار نہیں کر سکتا کہ موت کے منہ سے واپس آ جانا کسی معجزے سے کم نہیں ہوتا، اور یہ کرشمہ کسی سائنسدان کے کمال کے بجائے صرف اور صرف قادرِ مطلق کے حکم سے ممکن ہوتا ہے۔تحقیق دان اور ڈاکٹرز اپنی تمام تر جدید ٹیکنالوجی کے باوجود کبھی کسی بے جان جسم میں روح پھونکنے پر قادر نہیں ہو سکتے، کیونکہ روح انسانی تسلط اور قید سے آزاد ہے۔ ہمارے ارد گرد کی فضاؤں میں اور اس کائنات کے چپے چپے پر ارواح کا ایک اَن دیکھا نظام موجود ہے، جسے نہ ہم دیکھ سکتے ہیں، نہ چھو سکتے ہیں اور نہ ہی قید کر سکتے ہیں۔گزشتہ دنوں ایک جرمن میگزین میں ایک کینیڈین خاتون کی سچی آپ بیتی پر مبنی مفصل رپورٹ شائع ہوئی، جس نے قارئین کے دلوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ جہاں کچھ لوگوں نے اسے محض ایک افسانہ قرار دیا، وہاں ایک بڑی تعداد نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ زندگی اور موت کے درمیانی فاصلے میں ایسے معجزات کا رونما ہونا ممکن ہے۔ اس خاتون کی کہانی کچھ یوں تھی کہ وہ حادثے کے بعد پورے 10 دن تک کوما کی کیفیت میں یعنی نیم مردہ حالت میں رہی، مگر اس کے باوجود اس کا وجود زندہ تھا۔ اس کے نزدیک اس حالت سے واپس آنا خدا کا ایک عظیم ترین تحفہ تھا، جس کا شکر ادا کرنے کے لیے اس کے پاس الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔یہ واقعہ 1988 کا ہے جب وہ خاتون ونٹر اولمپکس میں حصہ لینے کی تیاریوں میں مصروف تھی اور اپنے ایک ساتھی کے ساتھ سائیکل پر ٹریننگ کر رہی تھی۔ اچانک پیچھے سے آنے والے ایک تیز رفتار ٹرک نے اسے زور دار ٹکر ماری۔ حادثہ اس قدر اچانک اور شدید تھا کہ اسے سنبھلنے کا موقع نہ ملا اور وہ فوراً بے ہوش ہو گئی۔ تاہم، بے ہوشی کی اس تاریکی میں بھی اس کے کانوں میں ارد گرد موجود لوگوں اور طبی عملے کی تشویشناک آوازیں مسلسل گونج رہی تھیں۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ اس کا بچنا ناممکن ہے، اسے جان لیوا زخم آئے ہیں، اس کی گردن اور ریڑھ کی ہڈی کئی جگہ سے ٹوٹ چکی ہے، اور سر کی شدید چوٹوں کی وجہ سے جسم سے مسلسل خون بہہ رہا ہے۔خاتون کے مطابق، ابتدا میں اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ کسی جھولے میں سوار ہے، جو دراصل ایمبولینس کی تیز رفتار پیش قدمی تھی۔ کچھ دیر بعد اس کی آنکھوں کے سامنے ایک تیز روشنی کا دھماکہ ہوا، جس کا مطلب تھا کہ اسے آپریشن تھیٹر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس کے بعد وہ ایک عجیب اور اندوہناک کیفیت میں مبتلا ہو گئی۔ اس کا اپنا ہی وجود روح اور جسم کی ایک بھیانک جنگ کا میدان بن گیا۔ اسے یوں لگتا کہ اس کی روح جسم کے پنجرے سے پرواز کرنا چاہتی ہے، مگر اس کا جسمانی نظام اسے چھوڑنے پر تیار نہیں۔ ایک طرف موت کا جمود تھا تو دوسری طرف زندگی کا شعور۔اس کا تجربہ ان روایتی قصوں سے بالکل مختلف تھا جن میں لوگ سرنگوں، پھولوں کے باغات، روشنی کے ہالوں یا فرشتوں کو دیکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اس نے کوئی مذہبی علامات یا خوش آمدید کہتے ہوئے فرشتے نہیں دیکھے، بلکہ وہ دو مختلف سطحوں کے درمیان لٹکی ہوئی تھی۔ ایک طرف زندہ شعور تھا جو اسے جسمانی زخموں اور دنیاوی آلام کی شدید تکلیف کا احساس دلا رہا تھا، اور دوسری طرف مردہ سوچ تھی جو اسے ہر قسم کے درد اور حس سے بے نیاز کر دیتی تھی۔ اس کی اپنی روح جیسے اس کے ساتھ ایک عجیب کھیل کھیل رہی تھی—نہ وہ جسم سے مکمل باہر نکلتی کہ موت واقع ہو جاتی، اور نہ ہی اندر ٹھہر کر اسے سکون دیتی۔وہ اپنے ہی دل میں اپنی روح سے التجا کرتی کہ وہ اسے اس شدید عذاب سے نجات دے اور اس زخموں سے چور جسم کو چھوڑ کر رخصت ہو جائے۔ لیکن اسی اثناء میں اسے یوں محسوس ہوا جیسے دو مختلف اَن دیکھی قوتیں اس کا تعاقب کر رہی ہیں۔ ایک طاقت اسے نئی زندگی کی طرف واپس بلانا چاہتی تھی جبکہ دوسری اسے تمام تر دنیاوی بندھنوں سے آزاد کر کے موت کی آغوش میں دھکیلنا چاہتی تھی۔ فیصلہ اب اس کے اپنے اندرونی عزائم پر منحصر تھا۔ اس کے ذہن میں مسلسل یہ سوال گونجتا تھا کہ جس دنیا نے اسے 10 دنوں کے اندر ایک لاچار، بے بس اور نہ ہلنے والی لاش بنا کر رکھ دیا ہے، کیا وہ دوبارہ اسی دنیا میں لوٹنا چاہتی ہے؟ یا پھر اس ٹوٹے ہوئے جسم کو مٹی کی سپرد کر کے اس نامعلوم دنیا کا سفر اختیار کرنا چاہتی ہے جس کا کوئی سراغ نہیں۔اس دوران ہسپتال میں حالات انتہائی نازک ہو چکے تھے۔ جسم سے خون کا بہاؤ رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا اور تمام تر طبی کوششیں ناکام ہو چکی تھیں۔ بالآخر ڈاکٹروں نے مایوس ہو کر اس کے والدین کو بلاوا بھیجا اور کہا کہ وہ اپنی بیٹی کی آخری رسومات کی تیاری کریں اور کلینک پہنچ کر اس کا آخری دیدار کر لیں۔حادثے کے 10 ویں دن اچانک ایک معجزہ رونما ہوا۔ خاتون کو اپنے ہاتھ پر کسی کے لمس کا احساس ہوا اور اس کے دل میں زندگی کی ایک شمع سی روشن ہوئی۔ جب اس نے نیم وا آنکھوں سے دیکھا تو اس کے غم زدہ والد سامنے بیٹھے شدید گرہ زاری کر رہے تھے۔ والد کو گمان تھا کہ ان کی بیٹی کی سانسیں اب ختم ہونے والی ہیں، لہٰذا انہوں نے خدا کے حضور تڑپ کر دعا مانگنا شروع کی کہ اے میرے رب! میری جان، میری روح اور میری تمام تر طاقت لے کر میری بیٹی کے وجود میں ڈال دے۔ میں ایک بوڑھا انسان ہوں اور اپنی زندگی جی چکا ہوں، مگر میری بیٹی ابھی جوان ہے اور اسے دنیا میں بہت سے کام کرنے ہیں۔ اس کی جگہ مجھے اپنے پاس بلا لے اور اسے زندگی عطا کر دے۔والد اپنی دعا میں اس قدر محو تھے کہ ان کی آنکھیں بند تھیں، مگر ان کی اس سچی اور تڑپتی ہوئی دعا نے خاتون کے اندر جینے کی نئی روح پھونک دی۔ اس نے اپنے اندرونی حواس کو مجتمع کیا، تمام تر ہمت جمع کر کے آنکھیں کھول دیں اور اپنے وجود کی جنگ جیت لی۔ والد نے جیسے ہی بیٹی کو آنکھیں کھولتے دیکھا، انہوں نے فرطِ جذبات سے ڈاکٹروں کو پکارا۔ طبی عملے نے فوراً ہنگامی اقدامات کیے اور بالآخر اس کی زندگی کی بحالی کی تصدیق کر دی۔آج وہ خاتون اگرچہ وہیل چیئر کی محتاج ہے اور اس کا جسم مکمل طور پر پہلا جیسا نہیں رہا، لیکن وہ اس بات پر شکر گزار ہے کہ وہ زندہ ہے۔ سچ یہ ہے کہ زندگی انسان کو صرف ایک بار ملتی ہے، اور اس کی ہر سانس کی قدر کرنا ہی انسانیت کا اصل تقاضا ہے ۔