# امریکہ کی تاریخی شکست،عالمی سیاست کا نیا منظر نامہ

**URL:** <https://urduforum.org/t/topic/727>\
**Category:** خبرنامہ\
**Created:** [اپریل 10, 2026, 11:22am UTC](https://urduforum.org/t/topic/727 "2026-04-10T11:22:26Z")\
**Posts on this page:** 8\
**Page:** 1

<div class="post-metadata">

**Author:** ![محمداحمد](https://urduforum.org/user_avatar/urduforum.org/%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF/32/177_2.png) [@محمداحمد](https://urduforum.org/u/%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF)\
**Post date:** [اپریل 10, 2026, 11:22am UTC](https://urduforum.org/t/topic/727/1 "2026-04-10T11:22:26Z")

</div>

امریکہ کی تاریخی شکست،عالمی سیاست کا نیا منظر نامہ

ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کو پانچ ہفتے گزر چکے ہیں اور اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غضب ناک ہیں، جو کل تک ایران میں رجیم کی تبدیلی، ایرانی بحریہ کی مکمل تباہی اور پوری ایرانی قیادت کو مار کر ایران کو فتح کرنے کے دعوے دار تھے اب خود ایران سے کہہ رہے ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھول دے ورنہ اس پر جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔ سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جو لکھا اگر اس کا انتہائی مہذب اردو ترجمہ کیا جائے تو وہ یہ بنتا ہے:

”یہ منگل پاور پلانٹ ڈے اور برج ڈے ہوگا، سب کچھ ایک ہی دن میں، ایران میں۔ اس جیسا کچھ نہیں ہوگا!!!

اس لعنتی آبنائے کو کھولو، تم پاگل کمینو! ورنہ تم جہنم میں رہ رہے ہوگے۔ بس دیکھتے جاؤ! اللہ کی حمد ہو۔“(4 اپریل 2026ء…. ٹروتھ سوشل پر پیغام)

یہ محض ایک دھمکی نہیں بلکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بے بسی اور اعصابی شکست کا اظہارہے، کیونکہ وہ شخص جوکہ دنیا کا سب سے طاقتور شخص تصور کیا جاتا ہے، اِس لہجے میں اُس ملک یعنی ایران سے بات کررہا ہے جس کی ہر ایک چیز کو تباہ کرنے کا دعویٰ اور لیڈرشپ کو قتل کرچکا ہے، پھر بھی اُن مقاصد کے حصول میں وہ ناکام ہے جو اس کے ذہن میں ہیں تو یہ ازخود ایک ناکامی کا اعتراف ہے۔

اس پیغام میں اور اس سے قبل بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے مذہب کا استعمال کرتے رہے ہیں، اور خاص طور پر اب ایران جنگ میں اُن کا مذہبی رنگ نمایاں ہے۔ سوشل میڈیا پر پیغام میں جہاں انہوں نے ایران کو گالیاں دیں، وہیں اللہ کی حمد بھی ان چند سطور میں کردی۔ اسی طرح وہائٹ ہاؤس میں عیسائی مذہبی تہوار ایسٹر کی ایک تقریب میں انہوں نے مبینہ طور پر خطاب کرتے ہوئے اپنے آپ کو عیسائی عقائد کے قریب ثابت کرنے کی کوشش کی۔ اسی طرح امریکی پائلٹ کی ایران سے واپسی کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے 6 اپریل 2026ء کو ڈونلڈ ٹرمپ نے پائلٹ کی جانب سے ایک جملہ موسوم کیا جس میں خدا کی حمد اُس وقت بیان کی جب وہ دشمن کی سرزمین پر تھا۔

مذکورہ پریس کانفرنس میں امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگ سیتھ نے بھی اس پورے آپریشن کو مذہب کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کی اور کہا کہ طیارہ گڈ فرائیڈے کے دن ایران میں گرا، اور اس ایک بچ جانے والے پائلٹ کو ایسٹر کے دن دشمن کے چنگل سے زندہ واپس نکال لیا گیا یعنی اس کو دوبارہ زندگی ملی۔

عیسائی عقائد کے مطابق گڈ فرائیڈے کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب کیا گیا اور ایسٹر کو وہ دوبارہ زندہ ہوئے تھے۔

اس پورے بیانیے میں جہاں مذہبی رنگ جھلکتا نظر آتا ہے وہیں اب براہِ راست کیتھولک چرچ اور چرچ آف انگلینڈ کی جانب سے ایران پر مسلط جنگ کو مذہبی جنگ قرار دینے کی مکمل مذمت کی جارہی ہے۔ کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ لیو نے ویٹی کن سٹی میں ایسٹر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

”جن کے پاس ہتھیار ہیں وہ انہیں رکھ دیں!  
جن کے پاس جنگ چھیڑنے کی طاقت ہے وہ امن کا انتخاب کریں! ایسا امن جو طاقت کے ذریعے مسلط نہ کیا جائے بلکہ مکالمے کے ذریعے حاصل ہو! دوسروں پر غلبہ پانے کی خواہش کے ساتھ نہیں بلکہ ان سے ملاقات اور سمجھ بوجھ کے ساتھ! ہم تشدد کے عادی ہوتے جارہے ہیں، اسے بے حسی سے قبول کررہے ہیں اور ہزاروں لوگوں کی اموات کے بارے میں مکمل بے حس ہیں۔“

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف امریکہ۔اسرائیل جنگ کے دفاع میں خدا کا حوالہ دینے پر ویٹی کن میں تشویش پائی جاتی ہے، اور پوپ لیو نے اس تصور کو زیادہ واضح انداز میں رد کیا ہے کہ خدائی مرضی تشدد یا طاقت کے استعمال کی حمایت کرتی ہے۔

اخبار نے ایسٹر تقریب کی رپورٹنگ میں لکھا کہ:  
”ایسٹر کے دن پوپ لیو نے حضرت عیسیٰ کو ”فاتح بادشاہ“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی اصل طاقت مکالمہ اور امن ہے۔ انہوں نے کسی فریق کا نام نہیں لیا، لیکن ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ حقیقی خدائی تصور جنگ کو مکمل طور پر رد کرتا ہے۔

انہوں نے کہا: ”وہ طاقت جس کے ذریعے مسیح جی اٹھے، مکمل طور پر عدم تشدد پر مبنی ہے۔“

یعنی انہوں نے حضرت عیسیٰ ابن مریم کی کامیابی کو عدم تشدد سے ثابت کرکے امریکی سرکاری بیانیے کو مکمل طور پر مسترد کردیا۔ “

اسی طرح امریکی آرچ بشپ ٹموتھی بروگلیو نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کی جنگ کیتھولک چرچ کے ”منصفانہ جنگ“ کے اصولوں کے تحت جائز نہیں ٹھہرتی، کیونکہ امریکہ ایک ایسے خطرے کے خلاف اقدام کررہا ہے جو ابھی پوری طرح ظاہر بھی نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا: ”حضرت عیسیٰ امن کا پیغام لائے، اور جنگ ہمیشہ آخری راستہ ہونا چاہیے۔ اس جنگ کو خدا کی حمایت یافتہ قرار دینا مشکل ہے۔“

برطانوی چرچ یعنی چرچ آف انگلینڈ کی سربراہ ڈیم سارہ ملالی نے جوکہ 14سو سال میں اس مقام تک پہنچنے والی پہلی خاتون ہیں، اپنے ایسٹر خطاب میں بھی اسی قسم کی بات کی جو کہ کیتھولک چرچ کی جانب سے کی گئی، انہوں نے اپنے خطاب میں کہا:

”دنیا بھر میں اربوں لوگوں کی زندگیاں تشدد، تقسیم اور عدم تحفظ سے متاثر ہورہی ہیں۔ بہت سے لوگوں کے دل ٹوٹے ہوئے ہیں یعنی بے سہارا، زخمی، اور مہاجر۔ اس ہفتے ہماری نظریں اور دعائیں اُس سرزمین کی طرف مرکوز رہی ہیں جہاں یسوع کو مصلوب کیا گیا اور وہ مُردوں میں سے جی اٹھے۔ آج جب ہم خوشی سے اعلان کرتے ہیں کہ مسیح جی اٹھے ہیں، آئیے نئی شدت کے ساتھ دعا کریں کہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیج میں تشدد اور تباہی کا خاتمہ ہو۔ ہماری مسیحی بہنیں اور بھائی خالی قبر کی امید کو جانیں اور منائیں۔ خطے کے تمام لوگ وہ امن، انصاف اور آزادی حاصل کریں جس کے وہ متمنی ہیں۔“

(کینٹربری کیتھیڈرل۔ 4 اپریل 2026ء)  
اب یہ بات مکمل طور پر واضح ہے کہ دنیا میں عیسائیت کے دونوں بڑے مسالک یعنی کیتھولک چرچ اور چرچ آف انگلینڈ کی جانب سے اس جنگ کو مذہبی جنگ کے روپ میں پیش کرنے کی نہ صرف مذمت کی جارہی ہے بلکہ اس کو عیسائی تعلیمات کے منافی قرار دیا جارہا ہے۔

اس حوالے سے اب صرف صہیونی عیسائی ہی اس جنگ کی مذہبی توجیح پیش کررہے ہیں جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے وزیر جنگ پیٹ ہیگ سیتھ سرفہرست ہیں۔ دوسری جانب یروشلم بیت المقدس میں جہاں تینوں مذاہب کے مقدس مقامات ہیں، مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں جانے کی اجازت نہیں، عیسائیوں کو گڈ فرائیڈے کی تقریبات کے لیے یروشلم میں موجود مقدس چرچ میں دعائیہ تقریب منعقد کرنے سے نہ صرف روک دیا گیا بلکہ کیتھولک چرچ کے دو نمائندوں کو بھی چرچ میں دعائیہ تقریب کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، اس کے برعکس اسرائیلی عدلیہ نے یہودی مذہب کے مقدس مقام دیوارِ گریہ پر 50 افراد کو جمع ہوکر عبادت کرنے کی اجازت دی ہے، اور طرفہ تماشا یہ کہ اس پر بھی سابق چیف ربی Yitzhak Yosef نے عدلیہ کے فیصلے پر شدید تنقید کی اور کہا کہ:

”ریاست کے ساتھ مذہبی معاملات میں ہماری تمام مشکلات، بشمول یشیوا طلبہ کی بھرتی، ان بدکار ججوں کی وجہ سے ہیں۔ اگر تل ابیب میں 6سو افراد احتجاج کرسکتے ہیں تو Western Wall دیوارِ گریہ پر بھی 6سو افراد کو آنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ وہاں فوری طور پر محفوظ مقامات میں داخل ہونے کی سہولت موجود ہے۔“

یاد رہے کہ تینوں مذاہب کے مقدس مقامات پرانے شہر میں ہیں جہاں ان کے درمیان فاصلے ایک کلومیٹر سے بھی کم ہیں۔ نقشے سے اس کی مزید وضاحت بھی کردی گئی ہے، حتیٰ کہ مسجدِ اقصیٰ کے بالکل برابر میں ہی دیوارِ گریہ ہے جہاں عبادت کی اجازت دی گئی، جبکہ مسجدِ اقصیٰ کو مکمل بند کردیا گیا ہے۔

اس پورے تناظر کو دیکھا جائے تو یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ امریکی بیانیہ جو اِس جنگ کو مذہبی جنگ کے طور پر پیش کررہا ہے، درست نہیں۔ عیسائیت کے مذہبی رہنماؤں سمیت دیگر شواہد بھی اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ دراصل صہیونی عزائم کی جنگ ہے، جس میں صرف صہیونیت کو فوقیت دی جارہی ہے اور دیگر تمام مذاہب کی آواز کو دبانے کی کوشش ہورہی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سوشل میڈیا پر پیغامات کے بعد سے دنیا بھر میں ایک بحرانی کیفیت رہی کہ جہاں صاف پیٹرول 150 ڈالر فی بیرل تک چلا گیا۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے اور جارح ممالک کی آمد و رفت پر پابندی کے بعد پیٹرو ڈالر پر شدید ترین دباؤ دیکھا گیا جس نے امریکہ کو حواس باختہ کردیا۔

بین الاقوامی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق تیل کی فی بیرل قیمت میں ہر 10 ڈالر کے اضافے سے مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں، جو امریکی معیشت کا سب سے جامع پیمانہ ہے، 0.1 سے 0.4 فیصد پوائنٹس تک کمی آتی ہے۔

لہٰذا تیل کی قیمت میں موجودہ 40 ڈالر کے اضافے سے GDP میں تقریباً ایک فیصد پوائنٹ کی کمی ہوسکتی ہے۔ یہ معمولی بات نہیں، لیکن اتنی غیر معمولی بھی نہیں کہ معیشت پر بہت بڑا اثر ڈال دے۔

امریکی معیشت کا حجم 30 کھرب (ٹریلین) ڈالر ہے۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث امریکی معیشت کو تقریباً 300 ارب ڈالر کا نقصان ہوسکتا ہے!

یہ GDP کی شرحِ نمو کو سنجیدگی سے متاثر کرے گا۔

امریکی صدر کی ایران کو گالیاں، تہذیب کو فنا کرنے کی دھمکی اُس دباؤ کا اظہار تھا جو کہ اس جنگ کے بعد مسلسل امریکی معیشت پر پڑ رہا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر اب اس جنگ کا خرچہ 2 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ جنگ میں ہونے والے نقصانات کا تخمینہ اس کے علاؤہ ہے۔ اس جنگ میں جس بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اس کو سمجھنے کے لیے صرف ایک مثال کافی ہے کہ امریکی پائلٹ کو واپس لانے میں امریکہ کو 380 ملین ڈالر نقصان صرف اپنے طیاروں کی صورت میں برداشت کرنا پڑا۔ اس آپریشن میں ایف-15 ای اسٹرائیک ایگل تباہ ہوا جس کی مالیت تقریباً 100 ملین ڈالر ہے۔

اے-10 تھنڈر بولٹ II تباہ… تقریباً 18.8 ملین ڈالر

2 عدد سی-130 ہرکولیس تباہ… مجموعی طور پر تقریباً 150 تا 200 ملین ڈالر

ایم ایچ-6 لٹل برڈ تباہ… تقریباً 7.5 ملین ڈالر

1 تا 2 ایم کیو-9 ریپرز تباہ… تقریباً 30 تا 60 ملین ڈالر

اس کے علاوہ اربوں ڈالر کے امریکی اثاثے، ایئر ڈیفنس سسٹم اور طیارے اس جنگ میں تباہ ہوچکے ہیں۔ اس کے برعکس ایران میں نہ تو رجیم تبدیل ہوسکی اور نہ ہی ایران کو کوئی اہم نقصان پہنچایا جاسکا کہ جس کی بنیاد پر ایران میں آئندہ کوئی تبدیلی ہو۔ اس کے برعکس ایران نے نہ صرف اپنا کامیاب دفاع کیا بلکہ عالمی معیشت کی شہہ رگ آبنائے ہرمز پر ہاتھ رکھ کر بتادیا کہ اس کو کوئی بزور طاقت نہیں کھلوا سکتا۔ اس ضمن میں اسرائیل کی سب سے بڑی ناکامی سامنے آئی جو اِن حملوں اور اس کے ردعمل کی آڑ میں عالم اسلام کو باہم دست و گریباں کرواکر خود اس جنگ سے نکل جانا چاہتا تھا۔ پاکستان کی انتہائی عمدہ سفارت کاری کو بی بی سی نے ماسٹر اسٹروک قرار دیا کہ جس نے وہ کام کر دکھایا جو اقوام متحدہ بھی ان پانچ ہفتوں میں نہ کرسکی۔ سعودی عرب کی جانب سے تحمل، برداشت اور بردباری کا مظاہرہ قابلِ تحسین ہے کہ جس نے نہ صرف ایران کے حملوں کا کوئی جواب نہ دیا بلکہ امن کے لیے اپنی بھرپور کاوشیں بھی کیں۔ ایرانیوں نے اپنے عزم، حوصلے، قربانیوں اور فراست سے اب تک اس جنگ کو جیت لیا ہے۔ لیکن اس جنگ میں آنے والا وقفہ تب تک مستقل نہیں ہوگا جب تک کہ اسرائیل کو لگام نہ ڈالی جائے۔ شام میں گولان کی پہاڑیوں سے لے کر اردن اور لبنان میں دریائے لیطانی تک اب اسرائیل کا نہ صرف قبضہ ہے بلکہ وہ ان آبادیوں کو مسمار بھی کررہا ہے، اور یہی کچھ جنوبی کنارے مقبوضہ بیت المقدس میں بھی جاری ہے۔ یعنی اس جنگ کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ بیت المقدس پر اسرائیل کے قبضے کے خاتمے تک دنیا میں پائیدار امن کی ضمانت ممکن نہیں۔ اللہ کرے کہ یہ امن دیرپا ثابت ہو اور دو ہفتوں کے بعد بھی جنگ بندی برقرار رہے، لیکن 7 اکتوبر 2023ء سے شروع ہونے والا یہ عمل شاید اُس وقت تک مکمل نہ ہو جب تک صہیونی عزائم کو لگام نہ دی جائے۔

یہی وجہ ہے کہ اب عالمِ اسلام میں صہیونی عزائم کے حوالے سے خاصی یکسوئی نظر آتی ہے۔ ایران، ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان ان عزائم کی راہ میں بڑی رکاوٹ کے طور پر سامنے آئے ہیں، تاہم ابھی اس ضمن میں بہت کچھ ہونا باقی ہے۔ ایک اہم مرحلہ ضرور طے ہوا ہے کہ مسلم ممالک باہم دست و گریباں ہونے سے بچ گئے، لیکن اس یکجہتی کو مزید گہرا اور مستحکم بنانا ناگزیر ہے۔

عالمی تناظر میں مسلم اُمہ کے مشترکہ اور واضح مؤقف کے بغیر قبلۂ اول کی آزادی کی امید رکھنا عبث ہوگا۔ گزشتہ پانچ ہفتوں کی جنگ کے دوران امت کے اہم ممالک نے جس فہم، فراست اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا، اگر وہ برقرار رہا تو یقیناً حالات میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔

مزید برآں اب مغرب، خصوصاً یورپی ممالک میں بھی اسرائیل پر کھل کر تنقید کی جا رہی ہے، اور عیسائیت سے وابستہ حلقوں میں بھی اس سے فاصلہ اختیار کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں عالمِ اسلام کو چاہیے کہ وہ مغرب کو اپنا ہمنوا بنانے کی کوشش کرے، تاکہ دنیا میں ایک منصفانہ اور پائیدار امن کا نظام قائم کیا جا سکے اور جنگی جنون میں مبتلا افراد اور اقوام کو لگام دی جا سکے۔

ڈاکٹر اسامہ شفیق  
جسارت فرائیڈے اسپیشل

---

<div class="post-metadata">

**Author:** ![سیما-علی](https://urduforum.org/user_avatar/urduforum.org/%D8%B3%DB%8C%D9%85%D8%A7-%D8%B9%D9%84%DB%8C/32/714_2.png) [@سیما-علی](https://urduforum.org/u/%D8%B3%DB%8C%D9%85%D8%A7-%D8%B9%D9%84%DB%8C)\
**Post date:** [اپریل 10, 2026, 5:49pm UTC](https://urduforum.org/t/topic/727/2 "2026-04-10T17:49:33Z")

</div>

> [@محمداحمد](#):
>
> مزید برآں اب مغرب، خصوصاً یورپی ممالک میں بھی اسرائیل پر کھل کر تنقید کی جا رہی ہے، اور عیسائیت سے وابستہ حلقوں میں بھی اس سے فاصلہ اختیار کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں عالمِ اسلام کو چاہیے کہ وہ مغرب کو اپنا ہمنوا بنانے کی کوشش کرے، تاکہ دنیا میں ایک منصفانہ اور پائیدار امن کا نظام قائم کیا جا سکے اور جنگی جنون میں مبتلا افراد اور اقوام کو لگام دی جا سکے۔

’ایران نے دھوکہ دینے کی کوشش کی تو امریکہ مثبت ردعمل نہیں دے گا

ابھی ہم تین گھنٹے پہلے کا بی بی سی نیوز پڑھ رہے تھے ؀  
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان میں امریکہ اور ایران کے وفود کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں شرکت کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔ طیارے میں سوار ہونے سے قبل اُن کا کہنا تھا کہ امریکہ مذاکرات کا منتظر ہے تاہم اگر ایران نے دھوکہ دینے کی کوشش کی تو وہ مثبت ردعمل نہیں دے گا۔

> **[’ایران نے دھوکہ دینے کی کوشش کی تو امریکہ مثبت ردعمل نہیں دے گا‘ - BBC News اردو](https://www.bbc.com/urdu/articles/c2lwv5p9ye1o.amp)**
>
> پاکستان روانگی سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکہ مذاکرات کا منتظر ہے تاہم اگر ایران نے دھوکہ دینے کی کوشش کی تو وہ مثبت ردعمل نہیں دے گا۔

---

<div class="post-metadata">

**Author:** ![سیما-علی](https://urduforum.org/user_avatar/urduforum.org/%D8%B3%DB%8C%D9%85%D8%A7-%D8%B9%D9%84%DB%8C/32/714_2.png) [@سیما-علی](https://urduforum.org/u/%D8%B3%DB%8C%D9%85%D8%A7-%D8%B9%D9%84%DB%8C)\
**Post date:** [اپریل 10, 2026, 5:52pm UTC](https://urduforum.org/t/topic/727/3 "2026-04-10T17:52:36Z")

</div>

# امریکہ و ایران کے درمیان مذاکرات سے قبل تناؤ، تیل کی ترسیل رکاوٹوں کا شکار۔۔۔۔

امریکہ و ایران کے درمیان اسلام آباد میں باضابطہ مذاکرات شروع ہونے سے ایک روز قبل جمعے کو جنگ بندی کا نازک معاہدہ مزید دباؤ کا شکار نظر آ رہا ہے کیونکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر ڈیل کی خلاف ورزی کے الزامات لگائے گئے ہیں۔# برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق واشنگٹن نے تہران پر آبنائے ہرمز سے متعلق وعدوں کی خلاف وزری لگایا ہے جبکہ اسرائیل کے لبنان پر حملوں ایران جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دے رہا ہے۔

ایسی کوئی آثار سامنے نہیں آئے کہ ایران آبنائے ہرمز سے ان تمام پابندیاں ہٹا رہا ہے، جن کی وجہ سے عالمی سطح پر توانائی سے متعلق اشیا کی تجارت میں بدترین رکاوٹ پیدا ہوئی۔

> **[امریکہ و ایران کے درمیان مذاکرات سے قبل تناؤ، تیل کی ترسیل رکاوٹوں کا شکار](https://www.urdunews.com/node/902857)**
>
> برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق واشنگٹن نے تہران پر آبنائے ہرمز سے متعلق وعدوں کی خلاف وزری لگایا ہے جبکہ اسرائیل کے لبنان پر حملوں ایران جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دے رہا ہے۔

---

<div class="post-metadata">

**Author:** ![محمداحمد](https://urduforum.org/user_avatar/urduforum.org/%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF/32/177_2.png) [@محمداحمد](https://urduforum.org/u/%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF)\
**Post date:** [اپریل 10, 2026, 6:04pm UTC](https://urduforum.org/t/topic/727/4 "2026-04-10T18:04:37Z")

</div>

بس اللہ خیر ہی کرے۔

---

<div class="post-metadata">

**Author:** ![سیما-علی](https://urduforum.org/user_avatar/urduforum.org/%D8%B3%DB%8C%D9%85%D8%A7-%D8%B9%D9%84%DB%8C/32/714_2.png) [@سیما-علی](https://urduforum.org/u/%D8%B3%DB%8C%D9%85%D8%A7-%D8%B9%D9%84%DB%8C)\
**Post date:** [اپریل 10, 2026, 7:08pm UTC](https://urduforum.org/t/topic/727/5 "2026-04-10T19:08:35Z")

</div>

دعا ہر دم یہی ہے کہ امن قائم ہو…  
لو بھی کہہ رہے ہیں کہ بے ننگ و نام ہیں

# نیتن یاہو کا ایران جنگ میں فتح کا دعویٰ؛ اسرائیلی عوام نے سروے میں مسترد کردیا

صرف 30 فیصد اسرائیلیوں کو اپنے وزیراعظم کے دعوے پر یقین ہے کہ ایران کے خلاف امریکا کیساتھ ملکر کر فتح حاصل کرلی۔۔۔  
**اسرائیلی عوام کی اکثریت ایران جنگ میں فتح کے وزیراعظم نیتن یاہو دعوے سے متفق نہیں ہیں۔**

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مختلف سرویز میں زیادہ تر اسرائیلی شہری اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ میں فتح حاصل کرلی۔

جمعرات کے روز سامنے آنے والے مختلف سرویز میں کہا گیا ہے کہ عوام کی بڑی تعداد نئی جنگ بندی کی بھی مخالفت کر رہی ہے۔

اسرائیل کے چینل 13 کے ایک سروے کے مطابق صرف ایک تہائی اسرائیلیوں یعنی 33 فیصد کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل جنگ میں کامیاب ہوئے ہیں اور حیران کن طور پر 28 فیصد سمجھتے ہیں کہ جنگ ایران جیتا ہے۔  
تمام سرویز میں ایک بات مشترک رہی کہ آدھے سے زیادہ اسرائیلی شہری یہ ماننے کو تیار نہیں کہ ایران کے خلاف ان کا ملک اور امریکا کامیاب ہوا ہے جب کہ وہ امریکی جنگ بندی کے بھی خلاف ہیں۔

اس کے علاوہ عوام کی رائے ملک کی اسٹریٹجک صورتحال پر بھی تقسیم نظر آئی۔ 37 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی پوزیشن بہتر ہوئی جبکہ 34 فیصد کے مطابق صورتحال پہلے سے خراب ہوگئی۔

> **[نیتن یاہو کا ایران جنگ میں فتح کا دعویٰ؛ اسرائیلی عوام نے سروے میں مسترد کردیا...](https://www.express.pk/story/2807901/most-israelis-do-not-believe-the-us-and-israel-won-the-war-against-iran-2807901?amp=1)**
>
> صرف 30 فیصد اسرائیلیوں کو اپنے وزیراعظم کے دعوے پر یقین ہے کہ ایران کے خلاف امریکا کیساتھ ملکر کر فتح حاصل کرلی

---

<div class="post-metadata">

**Author:** ![سیما-علی](https://urduforum.org/user_avatar/urduforum.org/%D8%B3%DB%8C%D9%85%D8%A7-%D8%B9%D9%84%DB%8C/32/714_2.png) [@سیما-علی](https://urduforum.org/u/%D8%B3%DB%8C%D9%85%D8%A7-%D8%B9%D9%84%DB%8C)\
**Post date:** [اپریل 10, 2026, 7:18pm UTC](https://urduforum.org/t/topic/727/6 "2026-04-10T19:18:40Z")

</div>

**اسلام آباد میں امریکہ-ایران مذاکرات اور پانچ اہم سوالات**

ایک گھنٹہ قبل

ایران اور امریکہ میں جنگ بندی کے اعلانات کے بعد دونوں ممالک میں مذاکرات پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں ہونے جا رہے ہیں۔ اس عمل سے متعلق پانچ اہم سوالات کے جواب بتا رہے ہیں بی بی سی کے نامہ نگار عمر دراز۔

ا [اسلام آباد میں امریکہ-ایران مذاکرات اور پانچ اہم سوالات - BBC News اردو](https://www.bbc.com/urdu/articles/c0rx4w7lpgzo)

---

<div class="post-metadata">

**Author:** ![یاسمین\_سکندر](https://urduforum.org/user_avatar/urduforum.org/%DB%8C%D8%A7%D8%B3%D9%85%DB%8C%D9%86_%D8%B3%DA%A9%D9%86%D8%AF%D8%B1/32/251_2.png) [@یاسمین\_سکندر](https://urduforum.org/u/%DB%8C%D8%A7%D8%B3%D9%85%DB%8C%D9%86_%D8%B3%DA%A9%D9%86%D8%AF%D8%B1)\
**Post date:** [اپریل 10, 2026, 7:35pm UTC](https://urduforum.org/t/topic/727/7 "2026-04-10T19:35:28Z")

</div>

اللہ پاک دنیا و آخرت کی تمام تر بہتریوں اور بھلائیوں کے ساتھ اس تمام صورتحال سے بہترین نتائج نکالے۔ آمین!

---

<div class="post-metadata">

**Author:** ![سیما-علی](https://urduforum.org/user_avatar/urduforum.org/%D8%B3%DB%8C%D9%85%D8%A7-%D8%B9%D9%84%DB%8C/32/714_2.png) [@سیما-علی](https://urduforum.org/u/%D8%B3%DB%8C%D9%85%D8%A7-%D8%B9%D9%84%DB%8C)\
**Post date:** [اپریل 22, 2026, 12:59pm UTC](https://urduforum.org/t/topic/727/8 "2026-04-22T12:59:40Z")

</div>

آمین ثم آمین
