# افغان مہاجرین کے بارے میں آزادکشمیر ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ

**URL:** <https://urduforum.org/t/topic/725>\
**Category:** خبرنامہ\
**Tags:** افغان-مہاجرین, تاریخی-فیصلہ, انسانی-حقوق\
**Created:** [اپریل 10, 2026, 11:04am UTC](https://urduforum.org/t/topic/725 "2026-04-10T11:04:43Z")\
**Posts on this page:** 1\
**Page:** 1

<div class="post-metadata">

**Author:** ![محمداحمد](https://urduforum.org/user_avatar/urduforum.org/%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF/32/177_2.png) [@محمداحمد](https://urduforum.org/u/%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF)\
**Post date:** [اپریل 10, 2026, 11:04am UTC](https://urduforum.org/t/topic/725/1 "2026-04-10T11:04:43Z")

</div>

افغان مہاجرین کے بارے میں آزادکشمیر ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ

اس وقت ملک میں برسوں سے آباد افغان مہاجرین پاک افغان کشیدگی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ لاکھوں افغان مہاجرین کو واپس وطن بھیج دیا گیا، مگر اس کے باوجود ملک کے طول وعرض میں بہت سے افغان مہاجرین ایسے ہیں جو اپنے کاروبار کو سمیٹنے کی کوشش کررہے ہیں، ان میں اکثریت نہ صرف قانون پسند ہے بلکہ کاروباری سرگرمیوں کے ذریعے ہمارے معاشرے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کررہی ہے۔ حکومت افغان حکومت سے ناراضی کا بدلہ افغان مہاجرین پر نکال کر انہیں بلاتخصیص نہ صرف یہ کہ بے دخل کررہی ہے بلکہ ہتک آمیز طریقے سے انہیں گرفتار کیا اور قید رکھا جاتا ہے۔ ان میں خواتین، بچے اور بوڑھے بھی شامل ہیں۔

ہر ملک کو اپنے وسیع تر مفاد میں پالیسی بنانے کا حق ہوتا ہے، مگر انسانیت کا اپنا حق بھی ہوتا ہے۔ قانون پر عمل درآمد میں انسانیت اور اسلامیت کے تقاضوں اور آدابِ میزبانی کا خیال رکھنا چاہیے تاکہ جن افغان مہاجرین کو بے دخل کیا جائے وہ تلخ یادوں کے ساتھ وطن واپس نہ جائیں۔ ان کی یہ یادیں ماضی کی خوبصورت یادوں پر حاوی رہیں گی۔ یہ ماضی کی قربانیوں اور ایثار پر پانی پھیرنے کے مترادف ہے۔

آزادکشمیر بھی اُن علاقوں میں شامل ہے جہاں افغان جہاد کے آغاز کے ساتھ ہی ہزاروں افراد نے پناہ لے کر اپنا کاروبار اور محنت مزدوری شروع کی۔ یہ قانون پسند شہری کے طور پر یہاں مقیم رہے، ان کی کئی نسلیں آزادکشمیر کے علاقوں راولاکوٹ، میرپور، باغ اور مظفر آباد میں پیدا ہوکر جوان ہوئیں۔ یہ تمام لوگ آزادکشمیر کی مقامی زبانیں مقامی لوگوں سے بھی زیادہ اچھے انداز سے بول رہے ہیں۔ بہت سے نوجوان اب افغانستان جاکر بھی آزادکشمیر کی مقامی زبانوں میں وڈیوز بناکر ٹک ٹاک پر اپ لوڈ کرتے ہیں اور آزادکشمیر میں گزرے ہوئے اپنے خوبصورت ایام اور بچپن کے ساتھیوں کو یاد کرتے ہیں۔ یہ لوگ آج بھی پاکستان اور آزادکشمیر کے لیے نیک جذبات کا اظہارکررہے ہیں۔ یوں انہیں پاکستان کے سفیر ہی کہا جا سکتا ہے۔ بہت سی جگہوں پر افغان مہاجرین کی بے دخلی کے دوران انتظامیہ نے قانون اور اختیارات سے تجاوز کرکے مہاجرین کے ساتھ تضحیک آمیز رویّے کا مظاہرہ کیا۔

ایسے میں آزاد جموں وکشمیر عدالتِ عالیہ نے مہاجرین کی بے دخلی کے حوالے سے تاریخی فیصلہ سنایا ہے اور حکام کو اس معاملے میں قواعد وضوابط اور انسانی و بنیادی حقوق کے احترام کی ہدایت دی ہے۔ آزاد جموں وکشمیر ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ خطے میں مقیم افغان باشندوں کو، خواہ وہ واپسی کی پالیسی کے تحت ہی کیوں نہ ہوں، قانونی کارروائی اور ضابطے کے بغیر نہ تو حراست میں لیا جا سکتا ہے اور نہ ہی بے دخل کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت کی کہ ایسے کیسز کو منظم کرنے کے لیے فوری طور پر ایک قانونی طریقہ کار (میکنزم) وضع کیا جائے۔

جسٹس سید شاہد بہار کے تحریر کردہ تفصیلی فیصلے میں، عدالت نے پولیس کی جانب سے افغان باشندوں کی ممکنہ بے دخلی اور حراست کو چیلنج کرنے والی تین مختلف آئینی درخواستوں کو نمٹا دیا۔ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ وہ دہائیوں سے آزاد کشمیر میں قانونی دستاویزات کے ساتھ مقیم ہیں، اس کے باوجود پولیس نے انہیں بغیر کسی قانونی جواز کے حراست میں لیا، اور انہیں زبردستی ملک بدر کیے جانے کا خطرہ ہے۔ دوسری جانب حکومت نے اپنے جواب میں کہا کہ افغان باشندوں کو ایک وسیع تر واپسی کی پالیسی کے تحت احتیاطی طور پر حراست میں لیا جارہا ہے، تاہم حکومت نے اعتراف کیا کہ ان کے خلاف کوئی مخصوص مجرمانہ الزامات نہیں ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ غیر ملکیوں کو مستقل رہائش کا موروثی حق حاصل نہیں، لیکن جب تک ان کا قیام قانونی ہے، وہ قانونی تحفظ اور مناسب کارروائی کے حق دار ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ایک درست ویزا محدود لیکن قانونی رہائش کا حق دیتا ہے، اور ویزا کی مدت ختم ہونے سے پہلے کسی غیر ملکی کے خلاف کارروائی صرف دھوکہ دہی، ویزا شرائط کی خلاف ورزی یا امن عامہ کے لیے خطرے جیسی مخصوص بنیادوں پر ہی کی جا سکتی ہے۔ عدالت نے مزید رولنگ دی کہ ملک بدری سے پہلے (جہاں ضروری ہو) ویزا کی منسوخی لازمی ہے اور یہ عمل سختی سے قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ عدالت نے غیر رسمی طور پر ملک سے باہر دھکیلنے (pushback) یا بغیر قانونی کارروائی کے، من مانی حراست کو غیر قانونی قرار دیا۔ قانون کے نفاذ میں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے عدالت نے نوٹ کیا کہ ‘اے جے کے فارنرز ایکٹ1952’ کے تحت غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی کا آغاز ایک باقاعدہ مقررہ ’’سول اتھارٹی‘‘ کی جانب سے ہونا چاہیے۔ تاہم سرکاری وکیل نے تسلیم کیا کہ تاحال ایسی کوئی اتھارٹی مقرر نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے موجودہ کارروائیاں قانونی طور پر ناقص ہیں۔ جسٹس بہار نے اس معاملے کو اہم آئینی اور انسانی ہمدردی کا حامل قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ وہ افغان باشندے جو تین نسلوں سے آزاد کشمیر میں مقیم ہیں، انہیں حال ہی میں آنے والے غیر دستاویزی افراد کے برابر قرار نہیں دیا جا سکتا۔فیصلے میں خاندانی تعلقات، بشمول افغان باشندوں اور مقامی شہریوں کے درمیان ہونے والی شادیوں کو بھی اہمیت دی گئی اور کہا گیا کہ ایسے کیسز کو محض واپسی کی پالیسی کے تحت نمٹانے کے بجائے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دیکھنا چاہیے۔عدالت نے اگرچہ غیر ملکیوں کی واپسی کے حوالے سے حکومتی اختیار کو تسلیم کیا، لیکن ایک منظم اور فرق پر مبنی طریقہ کار اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ غیر دستاویزی افراد کے ساتھ پالیسی کے مطابق نمٹا جا سکتا ہے، لیکن طویل عرصے سے مقیم وہ افراد جو خاندانی اور کاروباری روابط کے ذریعے مقامی معاشرے کا حصہ بن چکے ہیں، وہ انسانی ہمدردی کے مستحق ہیں۔

عدالت نے مزید کہا کہ جہاں ملک بدری ناگزیر ہو، وہاں متاثرہ افراد کو اپنا کاروبار سمیٹنے اور دیگر معاملات حل کرنے کے لیے مناسب وقت دیا جانا چاہیے۔ درخواستوں کو نمٹاتے ہوئے عدالت نے حکومت کو اہم ہدایات جاری کیں، جن میں تمام اضلاع میں فوری طور پر ’’سول اتھارٹیز‘‘ کا تقرر، گرفتاری کی صورت میں پانچ روز کے اندر حکومت کو رپورٹ کرنا، اور زیر حراست افغان باشندوں کی حیثیت کے بارے میں انفرادی بنیادوں پر فوری فیصلے کرنا شامل ہیں۔ اس سے پہلے عدالت نے قانونی دستاویزات رکھنے والے افغان مہاجرین کو رہا کرنے کا حکم صادر کیا اور انہیں حوالات میں بطور مہمان اچھے کھانے اور دوسری ضروریات کا خیال رکھنے کا حکم دیاحکومت کو عدالت کے اس فیصلے کی روشنی میں افغان مہاجرین سے متعلق (جن کی بہت کم تعداد اب آزادکشمیر میں مقیم رہ گئی ہے) پالیسی کو ازسرنو تشکیل دینا چاہیے۔ وقتی اور جذباتی بنیادوں پر کیے جانے والے فیصلوں کے مثبت نتائج برآمد نہیں ہوتے۔ دہشت گردوں، قانون شکنوں اور قانون پسندوں اور معاشرے کے کارآمد کرداروں میں تمیز روا رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ آزادکشمیر کی عدلیہ کے اس فیصلے کی طرح اگر ملک کی دوسری عدالتوں نے بھی افغان مہاجرین کے حوالے سے منصفانہ اور مثبت رویہ اپنانے اور اس سارے عمل کو قانونی اور اخلاقی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت کی ہوتی تو جو ناخوش گوار واقعات رونما ہوئے، وہ نہ ہونے پاتے۔ دیر سے سہی، آزادکشمیر کی عدلیہ نے اس کیس میں ایک تاریخی فیصلہ سناکر افغان مہاجرین کی دلجوئی کرنے کی کوشش کی۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب حکومت عدالت کی طرف سے تجویز کیے گئے نظام کے قیام پر کس حد تک عمل کرتی ہے۔

[جسارت فرائیڈے اسپیشل](https://jasarat.com/fridayspecial/2026/04/10/%d8%a7%d9%81%d8%ba%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%81%d8%a7%d8%ac%d8%b1%db%8c%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af%da%a9%d8%b4%d9%85%db%8c%d8%b1-%db%81%d8%a7/)
