# موبائل سے پہلے کی محبت

**URL:** <https://urduforum.org/t/topic/628>\
**Category:** آپ کی مزاحیہ تحاریر (طنز و مزاح)\
**Created:** [فروری 12, 2026, 10:10pm UTC](https://urduforum.org/t/topic/628 "2026-02-12T22:10:28Z")\
**Posts on this page:** 2\
**Page:** 1

<div class="post-metadata">

**Author:** ![صغیراحمد](https://urduforum.org/user_avatar/urduforum.org/%D8%B5%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF/32/192_2.png) [@صغیراحمد](https://urduforum.org/u/%D8%B5%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF)\
**Post date:** [فروری 12, 2026, 10:10pm UTC](https://urduforum.org/t/topic/628/1 "2026-02-12T22:10:28Z")

</div>

کپڑے سکھانے اس نے گنتی کے چار تھے  
سَو بار چھت پہ آئی اور مَیں نہ سمجھ سکا  
(نثار احمد)

ایک دلچسپ تحریر سے اقتباس  
“موبائل سے پہلے کی محبّت”  
(کاپی پیسٹ)  
جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے بیس برس پہلے تک گاؤں دیہات میں محبت کرنے کے انداز بالکل مختلف تھے۔ ہم چھوٹے تھے تو بغیر بنیروں والی کچی چھتوں پر چڑھ کر پتنگیں لوٹنے کے انتظار میں ننگے پاؤں کھڑے رہتے لیکن محلے میں کچھ حسن کے پروردہ اور جوانی میں قدم رکھنے والے ’سچے عاشق‘ اپنی عقابی نظروں کے ریڈار میں آنے والی لڑکیوں کو پلاسٹک کے فریم والے شیشے سے لشکارے مارتے رہتے۔ لڑکیاں بھی ایسی سمجھدار ہوتیں کہ ہاتھ والے نلکے کے ساتھ بیٹھ کر سارا سارا دن صرف دو سوٹ ہی دھوتی رہتیں۔ یہ دو سوٹ بار بار چھت کے بنیرے پر ڈالتی، سوکھ جاتے تو دوبارہ دھوتیں اور دوبارہ چھت پر آ جاتیں۔ کچی چھتوں پر ہونے والی یہ خاموش محبت پکی ڈور کی طرح سال ہا سال چلتی۔ جون، جولائی کی گرمی میں کپڑے تین منٹ میں سوکھ جاتے ہیں لیکن چھنو کے کپڑے سارا دن نہ سوکھتے اور کچھ ’پڑھے لکھے عاشق‘ ہائی سکول سے واپسی پر ہاتھ میں انگلش گرائمر کی کتاب لیے سخت گرمی میں دوپہر کے وقت چھت پر ٹہلتے رہتے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ فیل بھی انگلش میں ہی ہوتے اور یہ کہتے سنائی دیتے، ’’محنت تو بڑی کی تھی لیکن پیپر ہی مشکل تھا۔ ‘‘ امی جی بھی ساتھ ہی گواہی دیتیں، ’’ہاں منڈے نے تے کدی وی ہتھ وِچوں کتاب نہیں سی چھڈی (ہاں لڑکے نے کبھی بھی ہاتھ سے کتاب نہیں چھوڑی تھی)‘‘۔ اصل کہانی یا چھنو کو پتہ ہوتی یا بوٹے کو,  
بہار کا موسم پتنگیں اڑانے کا موسم ہوتا تھا لیکن مخصوص عاشقوں کی پتنگیں صرف اسی چھت پر منڈلاتی رہتی، جہاں کوئی مہہ جبیں سرسوں کا تیل لگانے اور جوئیں نکلوانے کے بعد چُٹیا بنا رہی ہوتی۔ اس وقت کے مشہور گفٹ یہ ہوتے تھے کہ چھنو رومال پر اپنے ہاتھ سے کڑھائی کرتی اور کسی نہ کسی طریقے سے بوٹے تک پہنچا دیتی۔ محمد بوٹا بھی جواب میں کہیں نہ کہیں سے ’رنگ برنگے دھاگوں‘ والے پراندے کا بندوبست کرتا اور ایک پلاسٹک کے شاپر میں پیک کر کے گلی میں اس وقت نیچے گرا دیتا جب چھنو نے گلی میں سے گذرنا ہوتا۔ چھنو سلائی کڑھائی کی زیادہ ماہر ہوتی تو موتیوں والا ازار بند (نالہ) بھی گفٹ کے طور پر ملتا۔ اب روایتیں تبدیل ہوتی جا رہی ہیں۔ اب چھنو صرف پیپسی اور برگر اور ایزی لوڈ پر ہی گزارہ کرتی ہے جبکہ محمد بوٹا یوفون کے پیکجز کرا کرا کے تھک مر جاتا ہے۔  
پہلے ان مخصوص عاشقوں کی ہر ادا منفرد تھی۔ اسکول کی چھٹی کے بعد یہ ہر وقت اس تاڑ میں رہتے کہ کب آنکھیں چار یا آٹھ ہوں تو وہ فوراً سے پہلے ہاتھوں سے کتابیں نیچے گرائیں، یا پھر لڑکی کو دیکھ کر جان بوجھ کر راستے میں پڑی کسی چیز سے ٹکرا کر گر جائیں ۔ اگر نقاب کے پیچھے سے کسی کی دبی دبی سی ہنسی نکل جاتی، تو یہ کامیاب محبت کی پہلی نشانی تھی۔  
لڑکیوں کے محبت کے انداز بھی عجیب و غریب ہوتے تھے۔ چھنو جب بھی بوٹے کو دیکھتی یا تو گود میں اٹھائے ہوئے چاچی صغریٰ کے بچے کو چومنا شروع کر دیتی یا پھر اسے ہوا میں اچھال اچھال کر گلے لگا لیتی۔

---

<div class="post-metadata">

**Author:** ![سیما-علی](https://urduforum.org/user_avatar/urduforum.org/%D8%B3%DB%8C%D9%85%D8%A7-%D8%B9%D9%84%DB%8C/32/714_2.png) [@سیما-علی](https://urduforum.org/u/%D8%B3%DB%8C%D9%85%D8%A7-%D8%B9%D9%84%DB%8C)\
**Post date:** [فروری 14, 2026, 4:03pm UTC](https://urduforum.org/t/topic/628/2 "2026-02-14T16:03:15Z")

</div>

بہت خوب شیئرنگ ۔۔۔۔۔
